طاقت کی شکل کوئی بھی ہو ، جس کو مل جاتی ہے وہ زمین چھوڑدیتا ہے
قیصر محمود عراقی
کریگ اسٹریٹ،کمرہٹی،کولکاتا۔۵۸
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان نے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی طرف زقند بھری ہے۔ بہر وبر میںنت نئے امکانات ، پہلوئوںاور سمتوںکی تلاش و جستجوں کے ساتھ آسمان کی موجودات پر بھی کمندیں ڈال رہے ہیںاور نئی بازیافتوںسے دل ودماغ کو منور کررہے ہیں۔ زمین کے اندر پائے جانے والے بیس بہا خزانوں کی تلاش کا کام برسہا برس میںبھی مکمل نہیں ہوسکا پھر بھی آسمان کو مسخر کرنے کا جذبہ وجنون فزوں تر ہوتا جارہا ہے۔ تعلیم اور تحقیقی وجستجوں کے میدان میں ترقی اور پیش رفت کے ساتھ اس زمین کے باسیوں کے طرز ، بودوباش اور معیار زندگی میںبھی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔رہائشی عمارتوںاور دفاتر کے ساتھ ساتھ لباس اور پہناوے میںبھی زمین وآسمان کا فرق پیدا ہوچکا ہے، گفتگوںکا معیار بھی پہلے سے بہتر ہوا ہے۔
علاج ومعالجے کی جدید ترین سہولتوںکی وجہ سے بہت سے امراض پر قابو پالیا گیا ہے۔ مگر یہ کیا ہمارے ملک کے عوام کی ترقی وہی کی وہی رکی ہوئی ہے جہاںہم سب ابتدا میں تھے، اس ترقی کو گہن کیوںلگا ہوا ہے، ملک اور عوام کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیلا جارہا ہے جس سے ان کی ترقی پر قدغن لگ چکا ہے۔ آزادی کے اٹھہترسال بعد بھی ہمارے ملک کے عوام نے ترقی کا زینہ کیوں طے نہیں کیا؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب ہمارے مختلف ادوار میں رہنے والے والے حکمران ہی دے سکتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرکار غریبوں کی سرکار ہوگی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد غریبوں کا جینا مشکل ہوگیا۔ غریبوں کا روزی کمانا مشکل ہوگیا۔ نوکریاں دستیاب نہیں ہیں، انڈسٹریاں تباہ حال ہیں۔ تیل کی قیمتیں، گیس کی قیمتیں کم نہیں ہوئیںبلکہ دیگر اشیا کی قیمتیں وہیں کی وہیں ہیں۔ اس پر کوئی بحث نہیں کرتا، اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا، کیا غریبوں کی سرکار کا یہی مطلب ہے کہ ان کے ساتھ ظلم روارکھا جائے ، ان سے جینے کا حق چھین لیا جائے اور غریبی کو ختم کرنے کے بجائے غریبوںکو ہی ختم کرنے کے در پہ رہا جائے۔غربت اور بے روز گاری ہمارے ملک کاق سب سے بڑا مسئلہ ہے، اگر اس ملک کا کوئی شخص پڑھا لکھا ہے تو بھی اس کو نوکری نہیں ملتی کیونکہ اس کے پاس سفارش نہیں ہوتی، پھر تجربہ مانگا جاتا ہے، نوکری ملے گی ہی نہیں تو تجربہ کہاں سے آئے گا۔ ہمارے ملک میں اگر روزگار کے مواقع میسر ہوجائیں اور نوجوانوں کو نوکریاںملنے لگ جائیں تو غریب کا بھلا ہوجائے۔ مگر نہیں، یہاں تو ترقی تو صرف امیروں کے حصوں میں ہوتا ہے، سفارش بھی ان ہی کے پاس ہے، ان سے تجربہ نہیں مانگا جاتا کیونکہ ان کے پاس سفارش جیسا زہر موجود ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی دکھاتی تو آج ہمارا ملک ترقی کے زینے طے کرنے میں پیچھے کیوں رہتا؟
سچ ہی کہا ہے کسی نے طاقت کی شکل کوئی بھی ہو جس کو مل جاتی ہے وہ زمین چھوڑ دیتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک میں بھی ایک طرف اقتدار کی طاقت سے حکمران سرابور ہیںتو دوسری طرف عوامی طاقت سے مختلف النوع سیاسی جماعتیں، یعنی کہ سب ہی طاقت کے نشے میں چوڑ ہیںاور جیسے جیسے وقت گذررہا ہے یہ لوگ تہذیب کا دامن چھوڑتے جارہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت اپنے معیار کو بلند رکھتے ہوئے آگے کا معاملہ حل کرے، لیکن یہ بھی ایک کڑوی سچائی ہے کہ ان کے لوگ ایسا نہیں کرینگے۔ آج ہمارے معاشرے ، سوسائٹی اور ملک میں بے سر وپا باتیں کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں، ان میں خواندہ اور نا خواندہ تمام قسم کے لوگ شامل ہیں، جس کے باعث ہمارے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو زبردست خطرہ لاحق ہے۔ فرعون کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ بہت ہی ظالم حکمراں کا نام ہے۔ پہلے پہل بھی مظلوموں، کمزوروںاور غریبوںکو تباہ کرکے اپنے طاقت کا احساس دلایا جاتا تھاآج بھی ملک اور عوام کی بربادی کرنے کی پوری پلاننگ ہوچکی ہے اور اس کے پیچھے وہی فرعون کی ذہنیت کار فرماہے، ان کے دورمیں وہی افسر شاہی نے ظلم اور نخرے ، وہی پولس کا ظالمانہ ہتھکنڈے اور غنڈہ گردی، وہی بد عنوانی، وہی رشوت وسفارش کا کلچر اور وہی عوامی خزانے میں لوٹ مار ۔ ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرینگے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دنیا کے مختلف خطوں پر بننے والے حکمرانوںمیں بہت سے
ایسے بھی تھے جن کو اقتدار واختیار کے نشے نے اکثر ایسا پاگل اور بے حس کردیا تھا کہ ان کے مظالم کے وجہ سے وہ ظالم وجابر کہلائے، یہ وہ لوگ تھے جو اپنی ذاتی مفادات کے اسیر تھے، ان کی اسی خودغرضانہ سوچ نے انہیں اپنے اقتدار کے طاقت کے بے رحمانہ استعمال پر اکسایااور وہ اپنی ذات کی تسکین اور مقاصد کی تکمیل کیلئے انسان سے درندے بن گئے اور یوں بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع اور بے انداز تباہی وبربادی کا باعث ثابت ہوئے۔ اگر دیکھا جائے تو ہم فرعون سے بھی بد تر حکمرانوں کے ہاتھوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
قارئین محترم! مصر میں مرا ہوا فرعون ہر سال اربوں روپیہ مصر کی عوام کو کما کر دے رہا ہے، اس سے وہ اپنے گناہوں کی تلافی تو کررہا ہے مگر ہمارے ملک کے زندہ فرعون ہر سال عوام کے اربو روپیے کھاجاتے ہیںپھر بھی ان کی بھوک نہیں مٹتی، پتہ نہیںان لوگوںسے ہم عوام کی جان کب چھوٹے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ شروع سے لیکر اب تک یہی ہوا ہے کہ جب بھی دنیا کے حکمرانوںنے اپنے حدود سے تجاوز کیا قوم کو بھوک سے مارا ، ان سے رزق چھینا، انسانیت کی خدمت کی بجائے اس کے جیبوںپر ڈاکہ ڈالا وہ تمام طاقتیں پاش پاش ہوئی۔ ایسے حکمران ، ایسی ریاست تباہ وبرباد ہوگئی جنہوں نے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھا وہ دنیا کے لئے درس عبرت بنی اور ان کا انجام اس طرح بھیانک ہوا جس کے بارے میں کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل وشعور جیسے نعمت سے نوازا ہے، آپ اپنا نفع نقصان سمجھ سکتے ہیں، آپ اپنے بارے میں بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں ، آپ اپنے ایک ووٹ سے عوام کیلئے ایک بہترین لیڈر منتخب کرسکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی مشکلات اور مسائل اور سابقہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مستقبل کی فکر کریںاور مسائل کے حل کیلئے غور وفکر کریں اور انتخابات میں سوچ سمجھ کر جذبات سے عاری ہوکر ایماندار ، امانت داراور قابل لیڈر کو ووٹ دیں تو ہمارا مستقبل بہتر بھی ہوسکتا ہے، ورنہ ہم پھر تاریخ سال مسائل کے چکی میں پستے رہینگے۔ اس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں کیونکہ یہی وطن سے محبت کا اظہار ہے۔
موبائل:6291697668
