(O.C.D) ایک خاموش طوفان :- ڈاکٹر ارشد ناز
دنیا کی بھیڑ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مسکراتے ہیں، بات کرتے ہیں، مگر ان کے دل میں ایک طوفان بپا ہوتا ہے۔ یہ طوفان دکھائی نہیں دیتا، مگر ان کی روح کو اندر سے ہلا دیتا ہے۔ یہی طوفان ہے — وسواسی اختلا (O.C.D) یعنی (Obsessive Compulsive Disorder)، ۔ یہ بیماری جسم کی نہیں، بلکہ ذہن اور دل کے سکون کو چاٹ جانے والی ایک خاموش آگ ہے۔(O.C.D) کی بیماری کے سلسلے میں نوتنواں گنیش پور کے مشہور معالج ڈاکٹر ارشد ناز نے کہا کہ (OCD) در اصل دماغ کی ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کی وجہ سے مریض کے ذہن میں کچھ خیالات بار بار آتے ہیں، وہ جانتا ہے کہ یہ خیالات بے معنی ہیں، مگر پھر بھی ان سے جان چھڑانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ خیالات یا احساسات ہوتے ہیں جو بار بار دماغ میں آتے ہیں اور انسان کو بےچین یا خوف زدہ کرتے ہیں۔جیسے:صفائی یا آلودگی کےخوف کی وجہ سے بار بار یہ احساس ہونا کہ ہاتھ یا کپڑے گندے ہیں، جراثیم لگ جائیں گے۔شک یا تردد: بار بار یہ خیال کہ دروازہ بند کیا یا نہیں، گیس بند کی یا نہیں۔نقصان کا خوف: یہ خیال کہ کہیں میری وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچ جائے۔جنسی یا مذہبی وساوس: گناہ، ناپاکی یا مذہبی گستاخی جیسے خیالات کا آنا جنہیں انسان خود ناپسند کرتا ہے،ترتیب اور توازن کا جنون: چیزیں سیدھی، برابر یا ایک خاص ترتیب میں نہ ہوں تو بےچینی محسوس ہونا،(Compulsions):یہ وہ حرکات یا رسمیں ہیں جو مریض اپنے وہم/وسوسہ کو کم کرنے کے لیے بار بار دہراتا ہے، مثلاً:بار بار ہاتھ دھونا یا نہانا، بار بار چیک کرنا کہ دروازہ بند ہے یا نہیں، یا بلب بند کیا یا نہیں۔چیزوں کو مخصوص ترتیب میں رکھنا یا بار بار گننا،کسی دعا، آیت یا جملے کو بار بار دہرانا تاکہ دماغی سکون ملے، بار بار وضو کرنا یا نماز دہرانا ،دل میں بےچینی، خوف، شرمندگی، یا گناہ کا احساس رہنا، دماغ میں تھکن اور بوجھ محسوس ہونا، روزمرہ کی زندگی پر گہرا اثر پڑنا، جیسے پڑھائی، نوکری، یا تعلقات میں رکاوٹ، نیند اور بھوک میں کمی۔ یہ وسوسے، یہ بے قراری آہستہ آہستہ انسان کو اپنی قید میں لے لیتے ہیں۔یہ مرض صرف بیماری نہیں، بلکہ ایک مسلسل جنگ ہے جو ذہن اور خودی کے درمیان چلتی رہتی ہے ،کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو مسکرا رہا ہو، مگر اس کے اندر سے کوئی چیخ رہا ہو؟ocd والا انسان یہی ہے۔ وہ ہر وقت خود سے لڑتا ہے دنیا اسے عام سمجھتی ہے، مگر وہ جانتا ہے کہ اس کے خیالات اس کے دشمن بن چکے ہیں،وہ دروازہ بند کر کے سو بھی جائے تو دل کہتا ہے: “ایک بار اور دیکھ لو، کہیں کھلا تو نہیں رہ گیا؟”
وہ ہاتھ دھو کر اٹھتا ہے، مگر دماغ کہتا ہے: “ابھی صاف نہیں ہوئے۔”یہ جنگ تھکتی نہیں، یہ جنگ رکتی نہیں،ocd کے وجوہات کی جڑیں کبھی دماغ کے کیمیائی توازن میں چھپی ہوتی ہیں، کبھی دل کے زخموں میں۔
بچپن کے صدمے، کسی کے کھو جانے کا خوف، یا زندگی کے دباؤ — یہ سب مل کر ذہن میں ایک دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔
کبھی کبھی یہ بیماری وراثت میں ملتی ہے، جیسے دکھ اور خوشیاں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں،OCD کے مریض کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا خوف بے بنیاد ہے، مگر پھر بھی وہ اس سے نکل نہیں پاتا، وہ کہتا ہے کہ میں پاگل نہیں ہوں، مگر میرا دماغ مجھے قید کیے ہوئے ہے،وہ مسکراتا ہے تاکہ کوئی اس کے دل کی تھکن نہ پہچان لے،وہ ہنستا ہے تاکہ کوئی اس کے وسوسوں کو محسوس نہ کر سکے،مگر رات کے سناٹے میں، جب سب سو جاتے ہیں، وہ اپنے خیالات کےشور میں تنہا رہ جاتا ہے،OCD کا علاج ممکن ہے، اگر ہم سمجھنے کی کوشش کریں.علاجِ نفسی (CBT) انسان کو سکھاتا ہے کہ خیالات کو دشمن نہیں، دوست بنانا ہے۔ادویات دماغ کے توازن کو بحال کرتی ہیں، جیسے بارش زمین کو زندہ کرتی ہے،اور سب سے اہم علاج ہے محبت، سمجھ، اور صبر۔اگر خاندان، دوست، یا معاشرہ کسی OCD کے مریض کا ہاتھ تھام لے، تو وہ شخص پھر سے جینا سیکھ لیتا ہے۔
اسے کسی ترس کی نہیں، صرف سمجھنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے،OCD والے مریضوں کے ساتھ ہمارے سماج کا رویہ اتنا برا ہوتا ہے کہ اکثر ایسے لوگوں کو ہم سب زیادہ سوچنے والا یا عجیب کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، اگر ہم لمحہ بھر کے لیے ان کی آنکھوں میں جھانکیں، تو ہمیں وہاں خوف، مجبوری اور امید کا ایک سمندر نظر آئے گا۔ایسے لوگوں کا مذاق نہ اڑائیں — ان کا درد کسی کو دکھائی نہیں دیتا، مگر وہ ہر لمحہ اسے محسوس کرتے ہیں OCD ایک آزمائش ہے، مگر یہ اختتام نہیں۔یہ بیماری انسان کو توڑتی ہے، مگر جو شخص اس سے نکل آئے وہ دنیا کے سب سے مضبوط انسانوں میں سے ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے ذہن کے طوفان سے جیت کر آتا ہے۔یاد رکھو: “جو اپنے خیالات سے لڑنے کی ہمت رکھتا ہے، وہ زندگی سے ہار نہیں سکتا۔”آؤ، ہم سب مل کر وسواسی مریضوں کو احساس کا تحفہ دیں انہیں یہ یقین دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ان کی خاموش چیخیں سننے والا کوئی ہے،ڈاکٹر ارشد ناز نے کہا بار بار ہاتھ دھونا، دروازہ چیک کرنا، یا بار بار شک و شبہہ یا وہم کا ہونا دل میں بار بار یہ احساس ہو کہ کہیں گناہ تو نہیں ہو گیا وغیرہ اس طرح کی صورتحال پیش آنے پر فورا طبیب سے مشورہ کریں ڈاکٹر ارشد ناز
(ماہر نفسیات وذہنی امراض)
