Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ: روحانی تجدید، علمی قیادت اور صدیوں پر محیط دینی و ملی خدمات

خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ: روحانی تجدید، علمی قیادت اور صدیوں پر محیط دینی و ملی خدمات

13 Nov 2025
1 min read

خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ: روحانی تجدید، علمی قیادت اور صدیوں پر محیط دینی و ملی خدمات

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم: دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)

اسلام دینِ فطرت ہے، جس نے انسان کے ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کی۔ جب کبھی معاشرے پر ظلمت و ضلالت کی دھند چھائی، جب قلوب سے نورِ ایمان مدھم ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعے تجدیدِ دین اور احیاءِ اخلاق کی شمعیں روشن کیں۔

برصغیر ہند و پاک کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ایمان و محبتِ رسول ﷺ کی بہاریں صوفیائے کرام کے فیضان سے پھیلی ہیں۔ انہی مراکزِ ولایت میں ایک عظیم و درخشاں نام خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ کا ہے۔۔۔ جو صدیوں سے علم و عرفان، اخلاق و روحانیت، شریعت و طریقت اور خدمتِ خلق کا حسین سنگم بنی ہوئی ہے۔

آغازِ فیضانِ برکات، تاریخ کا روشن باب:

مارہرہ، ضلع ایٹہ (اترپردیش) کا ایک متبرک قصبہ ہے جس نے برصغیر کی روحانی تاریخ میں سنہری باب رقم کیا۔ یہ وہی بابرکت سرزمین ہے جہاں سے امام سلسلہ برکاتیہ،صاحب البرکات، سلطان العاشقین حضرت سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی مارہروی قدس سرہ (1070ھ-1142ھ) نے علم و روحانیت کی بساط بچھائی۔ آپ کا سلسلہ نسب ساداتِ بلگرام سے جا ملتا ہے۔ آپ کے جدِّ امجد سید شاہ محمد صغریٰ نے سلطان التمش کے عہد میں بلگرام کو اپنا وطن بنایا۔ انہی خاندانِ علم و کرم سے میر عبد الواحد بلگرامی جیسے بلند پایہ عالم و صوفی پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف سبع سنابل کے ذریعے اصلاحِ عقیدہ و عمل کا فریضہ انجام دیا۔

حضرت شاہ برکت اللہ عشقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد حضرت سید اویس مصطفیٰ بلگرامی اور سلسلہ قادریہ کے بزرگ حضرت شاہ فضل اللہ کالپوی سے فیض پایا۔ آپ محض صوفی نہیں بلکہ بلند پایہ شاعر اور صاحبِ قلم بھی تھے۔ آپ نے عشقی اور پیمی تخلص اختیار کیا۔

آپ کی تصانیف دیوانِ عشقی اور پیم پرکاش اردو و فارسی ادب کے اولین روحانی سرمایے میں شمار ہوتی ہیں، جو عشقِ الٰہی اور عرفانِ مصطفیٰ ﷺ سے لبریز ہیں۔

خانوادۂ برکات کے تابندہ انوار:

حضرت شاہ برکت اللہ عشقی کے صاحبزادے حضرت سید شاہ آلِ محمد مارہروی (1111ھ-1164ھ) اتباعِ سنت، اشاعتِ شریعت اور اصلاحِ عوام میں مصروفِ عمل رہے۔ان کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی (1131ھ-1198ھ) نے علم و عرفان کی مشعل کو مزید روشن کیا۔ آپ صاحبِ تصانیف، فصیح الکلام صوفی، اور شیخِ اکبر ابنِ عربی کے علوم کے باقاعدہ واقف و شارح تھے۔

آپ کی معرکۃ الآرا تصنیف فص الکلمات آج بھی صوفیانہ حکمت و معرفت کا گنجینہ سمجھی جاتی ہے،آپ  عالم بیداری میں حضور نبی رحمت ﷺ اور شیرخدا، حیدرکرار حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی زیارت سے مشرف ہوئے تھے۔

مشہورِ زمانہ منقبتِ غوثیہ کا شعر:

غوثِ اعظم بمن بے‌ سرو ساماں مددے

قبلۂ دیں مددے، کعبۂ ایماں مددے

اسی جلیل القدر بزرگ سے منسوب ہے۔

آپ کے فرزند وجانشین شمس مارہرہ حضرت شاہ آلِ احمد (اچھے میاں) (1160ھ-1235ھ) اپنے وقت کے جلیل القدر عارف، عالم اور درویشِ کامل تھے۔ روایت ہے کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جیسے اجلہ علما علمی و روحانی مسائل میں آپ سے رجوع فرمایا کرتے تھے۔33-34 یا 60 جلدوں پر مشتمل "آئینِ احمدی"جو علم و فن کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے آپ نے ہی مدون کرایا، اس کی بیشتر جلدیں ضائع ہوگئ ہیں چند جلدیں آج بھی خانقاہِ برکاتیہ اور کتب خانہ قادریہ بدایوں میں مخطوطے کی شکل میں موجود و محفوظ ہیں۔

آداب السالکین(فارسی)اور بیاض عمل ومعمول بھی آپ کی ہی تصنیفات سے ہیں-

آپ کے اہم خلفا میں حضرت مولانا شاہ عین الحق عبدالمجید بدایونی (1177ھ-1263ھ) ہیں جن کے فرزند سیف اللہ المسلول مولانا فضلِ رسول بدایونی (1798–1872ء) ہیں جنہوں نے برصغیر میں فقہ و عقائدِ اہلِ سنت کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔

خاتم الاکابر حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی علیہ الرحمہ: حضرت اچھے میاں کے بعد خاتم الاکابر حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی قدس سرہ (1209ھ-1296ھ) نے مسندِ برکات پر جلوہ فرمایا۔ آپ کا علمی و روحانی فیضان پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ حضرت سید شاہ آلِ رسول مارہروی کا علمی سلسلہ براہِ راست حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے جا ملتا ہے۔

آپ نے تصوف کو کتاب و سنت کے سانچے میں ڈھالا اور دین کے اصولوں کو نئے فکری قالب میں پیش کیا۔

انہی کے دستِ ارادت سے بیعت و تربیت اور اجازت وخلافت پانے والی وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ کے نام نامی اسم گرامی سے جانا جاتا ہے-

یوں خانقاہِ برکاتیہ ہی وہ مرکزِ فیضان ہے جس سے بریلی، بدایوں، لکھنؤ اور دہلی تک علم و عقیدہ کی قندیلیں روشن ہوئیں۔

 سراجُ السالکین حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ:

حضرت مولانا سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی (بن حضرت سید شاہ ظہورحسن عرف بڑےمیاں بن خاتم الاکابر حضرت سید شاہ آل رسول احمدی) ، جنہیں اہلِ طریقت میں سراجُ السالکین اور نور العارفین کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، سلسلۂ برکاتیہ  کے نہایت جلیل القدر مشائخ میں سے ہیں۔ آپ کی ولادتِ باسعادت 19؍شوال 1255ھ مطابق 26؍دسمبر 1839ء بروزِ جمعرات مارہرہ مطہرہ کی نورانی فضا میں ہوئی۔ “مظہر علی” آپ کا تاریخی نام رکھا گیا۔ ابھی ڈھائی برس کے تھے کہ مادرِ ماجدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اور 1266ھ میں والدِ گرامی کا بھی وصال ہو گیا۔ یوں آپ کی پرورش و تربیت کی تمام ذمہ داری آپ کی دادی ماجدہ اور دادا بزرگوار، قطبِ زمان حضرت شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی قدس سرہٗ کے سپرد ہوئی۔

حضرت شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ کی زیرِ نگرانی آپ نے کم عمری ہی سے علم و عمل، ادب و اخلاق، اور طریقت و شریعت کی راہوں پر تربیت پائی۔ مدرسین خانقاہِ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل وتکمیل ہوئی۔ آپ کے ممتاز اساتذہ میں مولانا شاہ محمد سعید بدایونی،مولانا فضل اللہ جالیسری، مولانا نور احمد بدایونی اور مولانا ہدایت علی بریلوی جیسے اکابر شامل ہیں۔

12؍ربیع الاول 1267ھ میں آپ نے اپنے دادا و مرشدِ کامل حضرت شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ جلد ہی آپ سلوک و ارشاد کی مسند پر متمکن ہوئے اور اصلاحِ ظاہر و باطن کا ایک وسیع سلسلہ قائم کیا۔ آپ کی خانقاہ فیوض و برکات کا سرچشمہ بن گئی۔ حضرت نوری میاں مارہروی شریعت و طریقت کے کامل امتزاج کے علمبردار تھے۔ اصلاحِ باطن سے قبلاصلاحِ ظاہر پر زور دیتے اور خاص طور پر عقائد کی درستی کو اولین شرط قرار دیتے۔ آپ کا مسلک و مشرب وہی تھا جو تاجُ الفحول حضرت مولانا عبدالقادر بدایونی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کا تھا۔ آپ نے شیعیت، تفضیلیت اور نیچریت جیسے باطل افکار و فتنوں کا دلائل و تحریر کے ساتھ رد فرمایا اور عقیدۂ اہلِ سنت و جماعت کی حفاظت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی گراں قدر تصانیف میں “النور والبهاء فی اسانید الحدیث وسلاسل الاولیاء” خاص طور پر لائقِ ذکر ہے۔ دیگر رسائل و تالیفات بھی آپ کی علمی گہرائی، فقہی بصیرت اور روحانی درایت کا پتہ دیتے ہیں۔11؍رجب المرجب 1323ھ کو آپ نے اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی۔ مادۂ تاریخِ وصال “خاتمُ اَکابرِ ہند” نکالا گیا، جو آپ کے بلند مقام اور روحانی وراثت کی ترجمانی کرتا ہے۔ آپ کا مزارِ انور مارہرہ مطہرہ میں مرجعِ خاص و عام ہے، جہاں آج بھی عشاقِ ولایت فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ آپ کے اجل خلفا میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے شہزادے حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سرفہرست ہیں۔

تسلسلِ فیضان اور عصرِ حاضر کی تجدید:

اٹھارویں صدی سے آج تک خانقاہِ برکاتیہ نے درجنوں نابغہ روزگار علما، مشائخ، محدثین، صوفیا اور مصلحین پیدا کیے جنہوں نے دین کی حفاظت و ترویج کا بیڑا اٹھایا۔ صاحب عرس قاسمی حضرت سید میر ابوالقاسم اسماعیل حسن عرف شاہ جی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے مفوضاتِ طیبہ تصوف کی حقیقی روح کا مظہر ہیں، جبکہ تاج العلما سید اولاد رسول مارہروی،سیدالعلما سید آل مصطفیٰ مارہروی، اوراحسن العلما سید مصطفیٰ حیدر حسن مارہروی علیہم الرحمہ نے علمی و ادبی اور اصلاحی میدانوں میں خانقاہی پیغام کو فروغ دیا۔

امینِ ملت کی قیادت میں جدید روحانی و علمی تحریک:

موجودہ دور میں خانقاہِ برکاتیہ کا فیضان امینِ ملت حضرت پروفیسر سید محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی کی قیادت میں ایک نئی علمی و فکری تحریک بن چکا ہے۔ آپ کی سرپرستی میں قائم جامعۃ البرکات، علی گڑھ عصری و دینی علوم کا حسین امتزاج ہے، جہاں تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت اور فکری رہنمائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حضرت امینِ ملت نے اپنی تصنیفات اور تراجم، بالخصوص سراج العوارف اور چہار انواع کے ذریعے تصوف کو جدید علمی زبان میں نئی نسل کے قریب کیا۔

راقم الحروف نے امینِ ملت حضرت پروفیسر سید محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی کے اخلاق و کردار کو قریب سے دیکھا ہے۔آپ متعدد بار راجستھان کی عظیم و ممتاز اور علاقۂ تھار کی مرکزی دینی درسگاہ دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت اور قطبِ تھار حضرت پیر سید حاجی عالی شاہ بخاری علیہ الرحمہ اور آپ کے آستانہ میں آرام فرما بزرگانِ دین کے سالانہ عرس میں بحیثیتِ سرپرست شرکت فرما چکے ہیں، اور ان شاء اللہ العزیز امسال بھی یکم فروری 2026ء کو دارالعلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت و عرسِ بخاری میں آپ کی خصوصی شرکت متوقع ہے۔

آپ کی سہلاؤ شریف جب بھی تشریف آوری ہوتی ہے تو عموماً فقیر کو جودھپور سے ریسیو کرنے اور خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

آپ کی زندگی بڑی مصروف اور ملت کے لیے وقف ہے۔ آپ کو مسلمانوں کے تعلیمی و فکری عروج کی ہمہ وقت فکر رہتی ہے۔آپ احقاقِ حق کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں، فکرِ امام احمد رضا کے اشاعتی نیٹ ورک کی نگرانی بھی فرماتے ہیں، اور ساری دنیا میں سرگرم درجنوں اصلاحی، دینی، تعلیمی و ادبی اداروں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

آپ کی شخصیت علم و عمل، فہم و فراست، حلم و اخلاق اور قیادت و بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔

آپ کے زیرِ سایہ قائم ادارے اور دینی، ملی و فلاحی منصوبے بھارت ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی ملتِ اسلامیہ کے فکری و تعلیمی استحکام کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

رفیقِ ملت حضرت سید شاہ نجیب حیدر میاں نوری برکاتی مدظلہ العالی:

حضرت رفیقِ ملت سید شاہ نجیب حیدر میاں نوری برکاتی مدظلہ العالی، سجادہ نشینِ خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ، اس عظیم روحانی خانوادے کے درخشاں گوہر اور فیضانِ برکات کے تابندہ تسلسل کی روشن کڑی ہیں۔ آپ حضور احسن العلماء سید مصطفیٰ حیدر حسن مارہروی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے اور حضور امینِ ملت پروفیسر سید محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی کے چھوٹے مگر نہایت عزیز بھائی ہیں۔

یوں آپ دونوں برادرانِ گرامی اس خانوادے کے دو ایسے مینارِ نور ہیں جن کی ذات سے عشقِ رسول ﷺ، خدمتِ دین، اتحادِ قوم و ملت اور مسلک اعلیٰ حضرت کے انوار پھیل رہے ہیں۔

حضرت رفیقِ ملت نے بزرگان دین بالخصوص اپنے والدِ ماجد کی تعلیمات و تربیت سے وہ علم و عرفان حاصل کیا ہے جس کی روشنی آج نسلِ نو کے دلوں میں ایمان و محبت کے چراغ جلا رہی ہے۔

آپ کی شخصیت سادگی، متانت، خلوص اور علم و عمل کا حسین پیکر ہے۔آپ نے تصوف کی اصل روح  یعنی اتباعِ سنت، خدمتِ خلق اور تزکیۂ نفس  کو اپنی عملی زندگی میں مجسم کر دکھایا۔

آپ کی روحانی مجالس و خطابات ایمان افروز اور کردار ساز ہیں،ملک و بیرونِ ملک جہاں کہیں بھی تشریف لے جاتے ہیں، وہاں محبتِ رسول ﷺ، اخلاقِ نبوی ﷺ اور اصلاح عقیدہ وعمل کا پیغام دیتے ہیں۔

آپ کی رہنمائی میں خانقاہِ برکاتیہ کے تعلیمی، اصلاحی اور فلاحی منصوبے روز افزوں ترقی پا رہے ہیں۔

رفیقِ ملت مدظلہ العالی عصرِ حاضر میں خانقاہی پیغام کے حقیقی ترجمان ہیں،آپ کی ذات میں شریعت کی پاسداری، طریقت کی لطافت اور قیادت کی بصیرت یکجا نظر آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر اور فیضان میں برکت عطا فرمائے اور خانقاہِ برکاتیہ کے اس نورانی سلسلے کو آپ کے زیرِ سایہ ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔

جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف ،فیضانِ برکات کی جدید علمی تعبیر:

خانقاہِ برکاتیہ کے فیضان کی تابناک کڑی کے طور پر ارباب خانقاہ برکاتیہ بالخصوص حضرت امین ملت،حضرت شرف ملت و حضرت رفیقِ ملت مدظلہم العالی کی سرپرستی میں قائم جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف عصرِ حاضر میں علم و عرفان، تربیت و تزکیہ اور اخلاق و روحانیت کا ایک نیا مرکز بن چکا ہے۔

یہ ادارہ دراصل خانقاہی فکر کی جدید تعبیر ہے، جو تعلیمِ دین اور عصری شعور کے امتزاج سے ایک ایسی نسل تیار کر رہا ہے جو علم و عمل، ادب و اخلاق، شریعت و طریقت کا حسین پیکر ہو۔

جامعہ احسن البرکات کی بنیاد 

11 ستمبر 2012ء کو خانقاہِ برکاتیہ کے مشائخِ کرام، علما و فضلا اور اہلِ علم و دانش کے مقدس ہاتھوں سے رکھی گئی۔

ابتدا ہی سے اس کا نصب العین خانقاہِ برکاتیہ کے اس سنہری شعار “آدھی روٹی کھایئے، بچوں کو پڑھایئے” کو عملی جامہ پہنانا تھا۔

آج یہ جامعہ نہ صرف علمی و تعلیمی اعتبار سے نمایاں ہے بلکہ تربیتی و روحانی ماحول کے لحاظ سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383