سالِ نو کی آمد اور بڑھتے ہوئے خرافات
از قلم : حشمت اللہ علیمی ماتریدی
اس روئے زمین پر جہاں مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں وہیں ان کو ماننے والی مختلف قومیں بھی پائی جاتی ہیں، ہر قوم کا اپنا اپنا کلچر او ر اپنی اپنی تہذیب ہوتی ہے ،جس کے مطابق وہ اپنے شب و روز گزارتے ہیں، متفرق تاریخوں میں ہر مذاہب کے اپنے اپنے تہوار منائے جاتے ہیں اور ہر تہوار کا الگ الگ پس منظر اور ایک منفرد پہچان ہوتی ہے۔ آج کل ایک تیوہار بہت زوروں پر ہے، جو بلا تفریقِ مذہب، عالمی تیوہار بنتا جا رہا ہے ،یہ وہ تیوہار ہے جسے لوگ نئے سال سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو نئے سال کا یہ جشن عیسائیوں کی تہذیب سے ماخوذہے، جس کو قدیم زمانےسے عیسائی بڑی شان و شوکت کے ساتھ مناتے چلے آرہے ہیں، اس کا پس منظر وہ لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ۲۵/ دسمبر کو ہوئی تھی۔ یہ وہی تاریخ ہے جس کی خوشی کے موقع پر کرسمس ڈے منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہتا ،بلکہ اس کی کڑی نئے سال سے جا ملتی ہے، جس کی خوشی ۳۱ / دسمبر اور یکم جنوری کے درمیانی شب میں منائی جاتی ہے ۔
اس خوشی کو منانے کے لیے جگہ جگہ رنگ برنگ لائٹیں اور قمقمے لگائے جاتے ہیں اور اس رات مختلف ممالک کے آزاد خیال لوگ ہوٹلوں ،پارکوں، شاپنگ مالز ،ریسٹورنٹز اور نائٹ کلبز وغیرہ میں جمع ہوتے ہیں،
رقص وسرور کی محفلیں سجتی ہیں ، طوائف کو بلا کر ڈانس کرایا جاتا ہے، مزید یہ کہ ان حرام کاموں پر خوب پیسے لٹائے جاتے ہیں اور بہت سارے نوجوان لڑکے لڑکیاں مختلف قسم کے پکوان تیار کرتے اور کھاتے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر عیاشیاں کرتے ہیں ۔ حرام کاری کا یہ سلسلہ شب بھر یونہی چلتا رہتا ہے۔ جیسے ہی رات کا ۱۲/ بجتا ہے کیک کاٹا جاتاہے ، ہیپی نیو ایئر کہکے نئے سال کا خیر مقدم کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کو مبارک باد یاں پیش کی جاتی ہیں ۔
شاید انہیں نہیں معلوم!کہ یہ رات ان لوگوں کے لئے ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے کی رات ہے،کہ جو ان جگہوں پر جا کر یہ لوگ بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیا اس میں خود ان کا یا دوسروں کا کوئی دنیاوی یا دینی فائدہ ہے ۔اگر وہ ایسا کریں ، تو ان کے ضمیر سے ضرور یہ صدا آئے گی کہ ایسی تقریبات میں فائدہ نہیں بلکہ صرف مال کا ضیا ،وقت کی بربادی ،اور عزت و آبرو کی نیلامی ہو تی ہے۔ یہ تمامحرکتیں اگر غیروں تک محدود ہوتی تو کچھ حد تک بات سمجھ میں آنے ولی تھی کہ ان کے پاس کوئی صحیح دستور حیات موجود نہیں ہے، جس کی بنا پر وہ ایسا کررہے ہیں، مگر مسلمانوں کا اس روش پر چلنا حیرت بالائے حیرت ہے اور اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ ہم دین سے بے زار اور غیروں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہو کہ اس وطن عزیز میں غیروں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے اثر سے بالکلیہ تو ہم بچ نہیں سکتے، تو اس موقع پر ہمیں اس کا بدل کیا لانا چاہیے جو کہ مذہب اسلام میں درست ہو ؟ تو آیئے ہم ایک حدیث شریف کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتےہیں ''حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا ''''تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کی تمہارا محاسبہ کیا جائے ۔'' (سنن الترمذی:2459 )تو اس حدیث کی روشنی میں ہمیں سال مکمل ہونے پر خود کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا ایک سال ختم ہو گیا، اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا، ہم سے کس کس موقع پر غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور کس جگہ ہم نے اللہ عزوجل کی حکم عدولی کی ہے ؟ ہماری وجہ سے کسی بندہ مومن کی دل شکنی تو نہیں ہوئی ؟ ہم نے کسی کا مال تو غصب نہیں کیا ؟ہم نے کسی کو غلط راہ تو نہیں دکھائی ؟ہم نے کسی غریب و مجبور کا حق تو نہیں مارا ؟اپنے پورے سال کا جائزہ لینے کے بعد اس بات پر ہمیںغور کرنا ہوگا کہ ہماری کیا کیا کمزوریاں رہی ہیں اور انہیں کیسے دور کیا جا سکتا ہے اور آنے والے سال کے لیے دینی و دنیاوی معاملات میں کس قدر بہترین منصوبہ بندی ہم کرسکتے ہیں۔۔ یہی وہ مثبت سوچ ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے اور اسے اس فکر پر ابھارتی ہے کہ قوم مسلم کو عروج و ارتقاء کی منزل پر کیسے پہنچایا جاسکتا ہے، ان کی تعلیم میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے اور سماج کو بے حیائی کے دلدل سے کیسے باہر نکالا جا سکتا ہے۔لہذا! اس رات ذکر و اذکار کے ذریعہ اپنے مقصد کی کامیابی کے لئے ہمیں دعائیں مانگنی چاہئے ۔
اخیر میں اتنا اور عرض کرتا چلوں جسے ذہن کے دریچوں میں محفوظ کرنا ہمارے لیے بے حد ضروری ہے اور وہ یہ کہ ''سال بدلنے سے قسمت نہیں بدلتی، بلکہ قسمت بدلتی ہے فکر بدلنے سے، نیت میں اخلاص لانے سے اور عمل میں درستگی پیدا کرنے سے''۔ اگر نیا سال ہمیں خرافات سے نکال کر حق شناسی، شعور و آگہی اور احساسِ ذمہ داری کی راہ پر لے آئے تو جان لیجیے یہی اس نئے سال کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس سال ہم سبھی کو زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے کی توفیق عطافرمائے، عالم اسلام کےمسلمانوں کی جان و مال ،عزت و آبرو کی حفاظت، مساجدو مقابرو مدارس کی صیانت فرمائے اور ہم سب کو صحیح عمل کرنے اور اپنے وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
*از قلم : حشمت اللہ علیمی ماتریدی*
*امام ماتریدی انسٹی ٹیوٹ مالیگاؤں*
