بدعنوانی کے شبہات کے پیش نظر چین سے جڑے ترقیاتی منصوبوں کی جامع اور شفاف جانچ شروع
نمائندہ نیپال اردوٹائمز
احمدرضاابن عبدالقادراویسی
کاٹھمانڈو
نیپال میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد نئی حکومت نے چین کے ساتھ کیے گئے بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد معاہدوں کی باضابطہ جانچ شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے دور میں طے پانے والے منصوبے کیوں تعطل کا شکار ہوئے، ان میں تاخیر کیوں ہوئی اور کئی منصوبے عملی طور پر کیوں آگے نہیں بڑھ سکے۔دہلی میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ ریسرچ اینڈ ریزولیوشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نیپال میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی صرف اقتصادی تعاون تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اسٹریٹجک اور سیاسی اثر و رسوخ کی شکل اختیار کر لی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے تبت اور تائیوان جیسے حساس معاملات پر نیپال پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ داخلی پالیسی سازی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔اولی حکومت کےدوران چین کے ساتھ متعدد بڑے منصوبوں کو نیپال کی اقتصادی خود مختاری اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سے کئی کے لیے نہ تو م الیاتی وضاحت موجود تھی اور نہ ہی ٹھوس عملی منصوبہ ب ان تمام معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔زیر غور منصوبوں میں بوڑھی گنڈکی پن بجلی منصوبہ نمایاں ہے، جس کا معاہدہ دو ہزار سترہ میں ایک چینی کمپنی کو دیا گیا تھا، مگر اسی سال ندی کی گئی تھی۔ اسی لیے اب اسے منسوخ کر دیا گیا، بعد میں بحال کیا گیا
اور اب تک عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث رکا ہوا ہے۔ اسی طرح کیرنگ سے کٹھمنڈو ریلوے منصوبہ بھی تکنیکی مشکلات اور مالی وسائل کی کمی کے سبب ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ٹرانس ہمالیائی کثیر جہتی رابطہ نیٹ ورک، جسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت شروع کیا گیا تھا، اب تک صرف نظریاتی سطح تک محدود ہے۔ سرحد پار بجلی کی ترسیل کے منصوبے اور رسواگڑھی۔کیرنگ سرحدی ڈھانچے کی ترقی بھی سست روی کا شکار ہیں۔ شمالی شاہراہوں کی تعمیر اور دیگر رابطہ منصوبے بھی مکمل نہیں ہو سکے
