سوشل میڈیا اور نوجوان نسل کا فکری انحراف
از :حشمت اللہ ماتریدی علیمی
امام ماتریدی انسٹی ٹیوٹ مالیگاؤں
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا ہمارے جسم کا ایک جزولاینفک بن گیا ہے جس کے استعمال سے اپنے آپ کو ہم چاہ کر بھی نہیں بچا پاتے اس وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس میں دن بدن ترقیاں ہوتی جا رہی ہیں اگر یہ پلیٹ فارم کوئی ملک ہوتا تو دنیا کا سب سے بڑا ملک ہوتا اس میں ہماری نوجوان نسل سب سے پیش پیش ہے، کیونکہ یہ انہیں کم وقت میں کثیر معلومات کے حصول اور ساتھ ہی ساتھ گلوبلائزیشن تفریح کا موقع فراہم کرتا ہے اس کے ساتھ سوشل میڈیا کا کثیر استعمال نوجوانوں کے فکری اور نفسیاتی رویوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
ویسے تو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزپر معلوموت کا ایک پورا ذخیرہ موجود ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال ذہنی توازن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے اوقات کے نظم و ضبط اور کسی ایک چیز پر زیادہ دیر تک فوکس کرنے کی صلاحیت میں بھی خلل ڈال رہا ہے اور ساتھ ہی فکری انحراف کی راہیں بھی کھول رہا ہے ۔اس لیے ہمارے لیےضروری ہے کہ ہم اس کے اثرات کو سمجھیں اور اس کے اسباب کو بھی سمجھیں اور اس سے بچنے کے لیے مناسب تدابیر اپنائیں ۔
سوشل میڈیانے تعلیمی میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے اس میں بہت آسانیاں پیدا کی ہیں ۔جیسے
!کثیر معلومات کم وقت میں حاصل کرنا ،دور دراز بیٹھے یا دوسرے ممالک کے اساتذہ سے آن لائن لیکچرز کے ذریعے استفادہ کرنا ،تحقیقاتی مواد تک فوری رسائی حاصل کرنا ،اور دنیا بھر کے ماہرین سے فوری استفادہ کرنا یہ سب سوشل میڈیا ہی کے ذریعے ممکن ہو پا رہا ہے لیکن اس پر بھی نظر رہے کہ ایک ہی اسکرین پر حقیقت،فریب،علم،جہالت،اخلاق اور بے راہ روی،یہ ساری چیزیں موجود ہیں ۔پر اس سے آپ کواچھائی اپنے لیے تلاش کرنا ہے اور بری چیزوں کو چھوڑ دینا ہے ۔
ان ساری سہولیات کے باوجود اگر ہم نے یہی سہولت بے احتیاطی اور غیر علمی سرگرمیاں جیسے شارٹ ویڈیو دیکھنے ،گیم کھیلنے اور بہت ساری فضولیات سے بدل لی تو یہ سہولت سے زحمت بن جاتی ہے اور تعلیمی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آتی ہے جو کہ نئی نسل کے ذوق مطالعہ کے لیے بھی زہر قاتل ہے۔ جہاں لوگ پہلے جوش و خروش کے ساتھ کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے اب وہی بڑے ذوق وشوق سے ریلز کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
نوجوان ذہن جو کبھی کتابوں میں اپنی سمت کو تلاش کرتا تھا اب لائکس اور فالورز کی گنتی میں اپنی قدر و قیمت ڈھونڈنے لگا ہے اور اپنے احساسات کا اظہار اسٹیکر و ایموجیز کے ذریعے کر رہاہے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ خوشحال نظر آنے والا شخص حقیقت میں ناخوش اور اپنی خیالی دنیا میں جی رہا ہے ۔ جس سے نوجوانوں کا وقت فضول چیزوں اور لغویات میں صرف ہو رہا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جو تعلیمی اور فکری انحراف کا سبب بنتا ہے اورنئی نسل کے ذہن پر غلط اثر چھوڑتا ہے شارٹ ویڈیوز دیکھنے کی وجہ سے لوگوں کے ذہن پر اس طریقے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ دل جمعی کے ساتھ کسی ایک چیز پر زیادہ دیر تک فوکس نہیں کر پاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سے فکری انحراف جنم لیتا ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں ۔
اس دور میں اولاد کے پاس والدین کے ساتھ بیٹھنے اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لیے وقت نہیں ہے اور نہ ہی والدین کے پاس ان کی تربیت کے لیے وقت ہے اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسی طرح ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے بے خبر ہیں ہر کوئی اپنے اپنے موبائل و لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور ٹی وی وغیرہ میں مصروف ہے اسی طرح ان کے پاس رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیال کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔جس کی وجہ
سےان کے مابین دوریاں پیدا ہو رہی ہیں اور تمام رشتے تار تار ہو رہے ہیں ۔کاش یہ نوجوان جب سوشل میڈیا سے فرصت پاتے تو والدین کے پاس بیٹھ کر تبادلہ خیال کرتے کہ ہمیں اپنی مستقبل کو بہترین بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کس چیز سے دوری اختیار کرنی چاہیے تو ان کے والدین اپنے ٥٠/٦٠ سالہ اپنی زندگی کے تجربات ان کے مابین شیئر کرتے جس کی وجہ سے انہیں اپنی زندگی کو کامیاب بنانے میں بہترین مدد ملتی اور ان کے مابین محبت میں اضافہ ہوتا لیکن انہیں سوشل میڈیا سے فرصت ہی نہیں ۔آج کل یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ (خواہ وہ شیر خوار ہو یا کچھ شعور رکھنے والا)
ذرا سا بھی اکیلا پن محسوس کرتا ہے یا کچھ اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے والدین اسے فورا موبائل دے دیتے ہیں کہ وہ اسی میں مست ہو کر انہیں پریشان نہ کرے بچے کو موبائل دینا تو گنوارا کرتے ہیں لیکن ان کے پاس بیٹھ کر الفت و محبت وپیار بھرے لہجے میں اسے سمجھانا پسند نہیں کرتے جس سے بچپن ہی سے وہ والدین کی الفت و محبت سے کوسوں دور رہتا ہےاور والدین کی اہمیت اسےسمجھ نہیں آتی جس کی وجہ سےاس کے والدین کو ایک ایسا دن دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب وہی بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ موبائل کے ماتحت رہنے کو تو پسند کرتا ہے لیکن والدین کے زیر سایہ رہنے کو گنوارا نہیں کرتا اور جو جو حرکتیں موبائل میں دیکھتا ہے ویسا ہی رویہ اپنے والدین کے ساتھ کرتاہے ۔پہلے جب آدمی کو کام وغیرہ سے کچھ فرصت ملتی تھی تو اطمینان سے بیٹھ کر سکون حاصل کرتاتھا اور کسی سرگرمی کے بارے میں سوچتاتھا لیکن اس وقت حال یہ ہے کہ دن بھر کی لاکھ تھکان ومصروفیات کے باوجود بھی اس کو اس وقت تک سکون نہیں ملتا جب تک کہ کچھ وقت تک سوشل میڈیا پر وقت ناگزارے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے کیوں کہ ان کے پاس
اطمینان کےساتھ کسی چیز کے بارے میں سوچنے کے لئے فرصت ہی نہیں جس سے وہ دن بدن ذہنی اپاہج ہوتے جا رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق۔
رات کو سوتے وقت اسمارٹ فونز یا دیگر اسکرینوں کا استعمال مسائل کا باعث بنتا ہے اور نیند بھی متاثر ہوتی
ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ سونے سے آدھا گھنٹہ قبل ان سے دوری اختیار کی جائے محققین نے یہ بھی بتایا کہ بستر پر اسمارٹ فونز کو صرف ١٠ منٹ استعمال کرنے سے ہر رات کم از کم ١٠ منٹ کی نیند گھٹ جاتی ہے۔
جب کوئی شخص رات کے وقت موبائل یا دیگر ڈیوائسز کا استعمال کرتا ہے تو اس میں ایک نیلی روشنی ہوتی ہے جو اس کے دماغ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ابھی رات نہیں ہوئی ہے ،بلکہ دن ہے جس کی وجہ سے وہ دیر رات تک جگتا ہے لیکن جب وہ شخص دیر رات تک جگے گا تو صبح بھی دیر تک سوئے گا جب رات میں اچھی طرح نیند مکمل نہیں ہوگی توجسم پرتھکان ،چڑچڑاہت ،ذیابیطس،دل کی بیماریوں،اور موٹاپے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جسم پر بھاری پن محسوس ہوگا اور اس پر غنودگی طاری رہے گی جس کی وجہ سے اس کا نظام درہم برہم رہیگا اور سونےکانظام درست نہ ہونے کی وجہ سے بہت ساری بیماریاں جنم لیں گی ۔
اس سے بچنے کابہترین طریقہ یہ ہے کہ: ٭ رات میں سونے سے دو تین گھنٹہ قبل موبائل یا ٹی وی واسکرین دیکھنے سے گریز کریں۔
٭اورموبائل سےدوری کاایک بہت اچھاطریقہ یہ ہے کہ آپ سونے سےپہلےاپنی پسندیدہ کتاب کےدس صفحات کم ازکم پڑھیں اس طرح دن کے حساب سےآپ ایک ہفتے میں سترصفحات پڑھ لیں گے،اورایک ماہ میں تین سو۔اور ایک سال کی بات کریں تواس حساب سے آپ اس مدت میں ضخیم سی ضخیم کتاب ختم کر سکتے ہیں ۔٭اور اگر آپ کی یہ پسندیدہ کتاب ،کتاب ہدایت "قرآن" ہوتوپھرکیابات پھر تواس کےنورسےزندگی کی ساری تاریکیاں چھٹ جائیں گی اور ہرطرف نورِایمان کا راج ہوگا۔
٭اگر آپ کو رات میں کام کرنا ہی پڑتا ہے تو نیلی روشنی روکنے والے چشمے یا اسکرین فلٹر استعمال کریں۔٭دن میں زیادہ دیر دھوپ میں رہیں، اس سے رات کو بہتر نیند آئے گی۔
٭رات میں مدھم سرخ روشنی استعمال کریں، کیونکہ یہ نیند پر کم اثر ڈالتی ہے۔
ہارورڈ مائرین کی تحقیق کے مطابق :
جب کوئی شخص سوشل نیٹ ورکنگ کا استعمال کرتا ہے تو اس وقت اس کے دماغ کا ایک حصہ متحرک ہو جاتا ہے جیسا کہ نشہ کرتے وقت متحرک ہوتا ہے لہذا سوشل میڈیا بھی ایک ایسا نشہ ہے جس نے اپنے یوزر کو اپنی گرفت میں اس طریقے سے لے رکھا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کے بجائے خود استعمال ہو جاتے ہیں۔
تعجب! اس بات پر ہے کہ کیا ہم اس موبائل پر اپنا حکم چلا رہے ہیں یاوہ ہم پر اپنا حکم چلا رہا ہے؟ کیا ہم اسے اپنی ضرورت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا وہ ہمیں اپنی ضرورت کے لیے استعمال کر رہا ہے؟ کیا ہم نے اس کو اپنی ضرورت کے لیے خریدا ہے یا اس نے ہمیں خریدا ہے ؟ واقعی انسان جیسی عقل و شعور رکھنے والی مخلوق کے لیے حیرت و افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ اپنی ہی بنائی چیزوں کا غلام بن بیٹھا ہے اور اپنی زندگی جیسی بیش قیمتی دولت کو بھی اس نے اسی کے لیے وقف کر دیا ہے ۔
