حیات مبارکہ حضور احسن العلماء قدس سرہ
شہزادہ خطیب البراہین حبیب العلماءحضرت علامہ شاہ صوفی محمد حبيب الرحمن مصباحی قادری برکاتی رضوی
سجادہ نشین خانقاہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نظامیہ اگیاشریف
یا الہی بہر حضرت مصطفیٰ حیدر حسن
حسن صفوت کر عطا ان کے گدا کے واسطے
واقف اسرار شریعت،عارف رموز حقیقت،عالم ربانی،مرشداعظم ہند حضور احسن العلماء حضرت علامہ حافظ و قاری مفتی سیدشاہ مصطفیٰ حیدر حسن المعروف بہ حسن میاں شاہ صاحب علیه الرحمه والرضوان سابق سجاده نشین خانقاہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف نے ۱۰ ر شعبان المعظم ۱۳۴۵ ھ مطابق ۱۹۲۷ ء یکشنبہ مارہرہ مقدسہ ضلع ایٹہ کو
اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرمایا۔ والدین کریمین نیز خاندانی حالات آپ کے والد گرامی وقت کے عظیم بزرگ سیدی حضرت سید شاہ آل رسول علیہ الرحمہ بن حضرت سیدی شاہ حسین حیدر علیہ الرحمہ اور والدہ ماجدہ وقت کی ولیہ سیدہ شہر بانو بیگم بنت سید شاہ اسماعیل حسن علیہما الرحمہ ہیں ۔
خاندانی حالات کے لئے تو الحمد للہ خاندان برکات پر مبسوط کتابیں موجود ہیں جسے دیکھنے پر کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہے ایں ہمہ خانہ آفتاب اند
آپ کی خاندانی عظمت اور بزرگی کے سبب بڑے بڑے علماء نے اس در کی غلامی پر فخر کیا۔ چنانچہ مجددمائۃ ماضیہ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس در کی غلامی پر فخر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضا
بول بالے میری سرکاروں کے
تعلیم و تربیت:آپ نے ابتدائی تعلیم مارہرہ شریف کے مدرسہ قاسم البرکات ہی میں حاصل فرمائی،انتہائی ذ کی وذہین تھے،چنانچہ چھوٹی ہی عمر شریف میں آپ نے قرآن کریم حفظ کر لیا۔اور فارسی کی تعلیم کا آغاز گھر ہی سے فرمایا۔ اپنے خال محترم حضور سیدی شاہ اولاد رسول محمد میاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے علوم درسیہ مروجہ کے ساتھ ساتھ اسرار ورموز دینیہ کا اکتساب بھی فرمایا۔ حضور سیدی حضرت صدر الشریعہ مصنف بہار شریعت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نیز خلیل العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی علیہ الرحمہ (المتوفی ) ۲۸ مضان المبارک ۱۳۰۵ ه مدفون در بار جیلانیه حیدر آباد سندھ اور شیخ العلماء حضرت علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ سے مارہرہ شریف ہی میں علم تفسیر،حدیث، فقہ ، منطق،فلسفہ،صرف، نحو اور ادب عالیہ میں کمال حاصل فرمایا۔
تعلیم کی ایک خاص خصوصیت:آپ کی تعلیم میں ایک خاص خصوصیت یہ تھی کہ جب آپ حضور تاج العلماء کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر گونڈل، پور بندر،تر سائی اور کاٹھیاواڑ وغیرہ تشریف لے جاتے تو علامہ مفتی محمد خلیل خاں برکاتی علیہ الرحمہ بھی درس و تدریس جاری رکھنے کےلئے ہمراہ ہوتے تھے اور اس طرح سفر میں بھی درس کا ناغہ نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ آپ نے انتہائی تحقیق و تدقیق کے ساتھ درس نظامیہ کی تعمیل فرمائی۔
بیعت و خلافت:آپ کو تمام سلاسل خانوادہ برکاتیہ مارہرہ مقدسه قدیم و جدید نیز جمله از کار و اوراد و اشغال، مراقبات، مسلسلات، مصافحات، اور اسانید قرآت قرآن مجید و روایت حدیث حمید، ادعیه معموله خاندانی کی اجازت اور بیعت و خلافت اپنے خال محترم حضور سیدنا الشیخ تاج العلماء الشاہ سید محمد میاں علیہ الرحمہ (متوفی ۲۴ / جمادی الاخری ۱۳۷۵ھ مارہرہ مقدسہ) سے حاصل ہوئی آپ کا سلسلۂ خلافت ۴۵ واسطوں سے ہوتا ہوا حضور نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے جا کر مل جاتا ہے۔
شادی خانہ آبادی:آپ کی شادی مبارکہ ۱۳۶۸ھ ۱۹۴۹ء سیتاپور کے ایک علمی و روحانی سادات گھرانے میں ہوئی، اولاد میں بحمدہ تعالی چار صاحبزادے ہیں (۱) امین ملت تاج المشائخ،پروفیسر حضرت سیدی سیدشاہ محمد امین میاںقادری برکاتی مدظلہ العالی سجادہ نشین مارہرہ شریف (۲) حضرت سیدی سید محمد اشرف میاں صاحب قبلہ سابق چیف انکم ٹیکس کمشنرکولکتا (۳) اشرف ملت حضرت سیدی سید محمد افضل میاں رحمہ اللہ سابق مدھیہ پردیش کیڈر کے سینئر آئی پی ایس آفیسر (۴) رفیق ملت حضرت مولانا سیدی سید محمد نجیب حیدر نوری میاں صاحب قبلہ ہیں۔ تبلیغ دین متین:حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ نےاپنی پوری زندگی اپنے خال محترم حضور تاج العلماء علیه الرحمه و برادر مکرم حضور سید العلماء علامه سید آل مصطفے علیہ الرحمہ کی طرح تبلیغ دین متین کےلئے وقف فرمادی تھی۔ اکثر تبلیغی دورےفرماتے رہے۔ خطیب کی حیثیت سے بھی فصاحت و بلاغت میں ملکہ حاصل تھا ۔ دوران خطابت بڑے بڑے قد آور علماء آپ کی وسعت معلومات، جودت ذہن اور قوت حافظہ دیکھ کر محو حیرت رہتے مرشد برحق کی حیثیت سے امت محمدیہ کی اصلاح باطن تا زندگی فرماتے رہے۔ حق و صداقت کی خاطر کبھی ثروت و حکومت کا رعب قبول نہیں فرمایا۔ اور بحمدہ تعالٰی ہندوستان کی موجودہ خانقاہوں میں خانقاہ مارہرہ مقدسہ کا یہ انفرادی رنگ ہے کیوں نہ ہو اسی خانوادے کے پروردہ سید نا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اعلان فرماتے ہیں۔
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ ناں نہیں
اخلاق و عادات:حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کے اخلاق فاضلہ و عادات کریمہ کا کیا کہنا جن حضرات کو شرف زیارت حاصل ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ دور حاضر کے سادات کرام و مشائخ عظام میں آپ ایک مخصوص انداز کریمانہ کے مالک تھے۔ راقم الحروف کے والد ماجد حضور خطیب البراهین حضرت علامہ شاہ صوفی محمد نظام الدین قادری برکاتی نوری محدث بستوی علیہ الرحمہ (خلیفہ حضور احسن العلماء مارہرہ مطہرہ) نے فقیر کو پہلی بار زیارت کراتے ہوئے میرے متعلق حضور سے عرض کیا تھا کہ حضور یہ غلام زادہ ہے ، دعا کیجئے۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ چلو میاں تم کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر لیا۔ بحمدہ تعالیٰ اس کے بعد ممبئی کھڑک والی مسجد میں کئی بار شرف زیارت حاصل ہوئی، کبھی روپئے پیسے سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا لو میاں یہ تمہاری عیدی ہے اور کبھی عطر عنایت فرمایا۔ حضور کے یہ عطئے تاہنوز بحمدہ تعالیٰ فقیر کے پاس محفوظ ہیں۔ پھر تو ہر سال عرس قاسمی مارہرہ مقدسہ میں والد گرامی قبلہ کی ہمرکابی میں شرکت کےلئے حاضر ہوتا رہا۔ خلق خدا کے اس ازدحام میں بھی آپ کے اخلاق حمیدہ واوصاف فاضلہ کو دیکھ کر حضور نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زندگی پاک کا پاکیزہ نقشہ پردہ ذہن پر آکر دور حاضر کے زاہدان خشک سے یوں گویا ہوتا ہے۔
کیجئے ظاہر خوش اخلاقی سے اپنی خوبیاں
یہ نمود جبہ و دستار رہنے دیجئے
کیوں نہ ہو! رب کریم نے اپنے بندوں کے ذہن و فکر پر اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق طیبہ کو ثبت فرمانے کے لئے ارشاد فرمایا وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ یقیناً خلق عظیم پر ہیں خود محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد بُعِثْتُ لا تم مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ وَ مَحَاسِنَ الْأَفْعَالِ یعنی میں تو اسی لئے اس خاکدان گیتی پر بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کی بزرگیوں اور اعمال کی خوبیوں کو مرتبۂ کمال پر پہونچا کر انہیں مکمل کر دوں۔ خدو رسول کی بارگاہ میں جس وصف کی یہ اہمیت ہو اب اگر ایک صاحب ایمان اس سے دور رہے تو کس قدر افسوس ناک بات ہے۔ اقبال نے سچ کہا۔
آہ وہ مردان حق؟ وہ عربی شہوار
حامل «خلق عظیم صاحب صدق و یقیں
بحمدہ تعالیٰ ہمارے سرکار حضور احسن العلماء قدس سرہ کے اخلاق حسنہ اور خوردہ نوازی کا یہ عالم تھا کہ آپ جب کسی عالم اہل سنت کی کوئی خوبی دیکھتے یا سنتے چاہے وہ آپ کے خلفاء میں سے ہو یا غیر خلفاء میں سے تو بیحد مسرور ہوتے۔حضرت مولانا غلام حسین صاحب برکاتی نظامی کا بیان ہے کہ ایک بار ممبئی کھڑک والی مسجد میں آپ کے خلفاء میں سے حضرت صوفی صاحب قبلہ کے بارے میں کسی نے کہا کہ آپ کے خلیفہ حضرت صوفی صاحب کے ذریعہ بحمدہ تعالٰی سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کا خوب خوب فروغ ہو رہا ہے۔ حضرت اٹھ کر بیٹھ گئے اور انتہائی سرور میں فرمانے لگے کہ جی ہاں یہ حسن کاحسین انتخاب ہے۔ پھر مزید دعاؤں سے نوازتے رہے۔ کیوں نہ ہو آپ اہل سنت کے سچے ہمدردو بہی خواہ تھے۔ ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں۔
ہیں حاضر یہاں جتنے بھی اہل سنت
ہمیشہ ہو ان سب پر ر رحمت خدا کی
وفات حسرت آیات:اپنی حیات مبارکہ میں سرکار احسن العلماء عاشق غوث الوری بارگاہ ایزدی میں دعا کرتے ہیں
تمنا ہے وقت اجل یہ خدایا
کہ ہم کو زیارت ہو غوث الوری کی
وہ شام کتنی روح فرسا تھی جب کہ ہمارے سر کار حضور احسن العلماء عاشق غوث الوری سے متعلق یہ خبر جانکاہ مسموع ہوئی تھی کہ افسوس سر کار احسن العلماء کا ۱۵ ربیع الآخر ۱۴۱۶ھ بمطابق ۱۲ ستمبر ۱۹۹۵ء شب سہ شنبہ دلی میں ۹ بجگر دس منٹ پر وصال ہو گیا ہے۔ اتنا سننا تھا کہ پوری دنیائے سنیت سکتے ہیں آگئی۔ کیوں نہ ہو جب کہ خود سر کار دو عالم محمد مصطفے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے مَوتُ العَالِمِ مَوْتُ العَالَمُ ۔ سچ کہا ہے۔
ہر سو بپا ہے آہ و فغاں
حضور احسن احسن العلماء
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کےلئے
اس وقت حضور کے چاروں صاحبزادوں کا کرم نامہ والد گرامی حضرت صوفی نظام الدین صاحب قبلہ کے پاس آیا تھا۔ جس میں حضور احسن العلماء کے چہلم شریف اور عرس قاسمی سے متعلق تحریر تھا کہ ۲۵ جمادی الاولی ۱۴۱۶ھ مطابق ۲۲ - ۲۳ / اکتوبر ۱۹۹۵ء بروز اتوار دو شنبہ مبارکہ کو عرس قاسمی نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے۔
لہذا ! تمام احباب اہل سنت سے گزارش ہے کہ جذبہ اخلاص کے ساتھ مذکورہ بالا تاریخوں میں شہرستان اولیاء خانقاہ مارہرہ مقدسہ میں حاضر ہو کر اپنی غلامی کا ثبوت دیں۔ بقول حضور احسن العلماء علیہ الرحمة والرضوان
شعار خدا اولیاء خدا ہیں
تو کیوں کر نہ ہم ان کے ڈنکے بجائیں
رب قدیر ہم جميع اہلسنت کو دارین میں ان پیاروں کے سایہ کرم میں رکھےاور ان کے فیوض وبرکات سے مالامال فرمائے۔ آمین یارب العالمین
