Jun 21, 2026 02:00 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مدارس اسلامیہ کا موجودہ نصاب تعلیم اور عصر حاضر کے تقاضے

مدارس اسلامیہ کا موجودہ نصاب تعلیم اور عصر حاضر کے تقاضے

18 Jun 2026
1 min read

مدارس اسلامیہ کا موجودہ نصاب تعلیم اور عصر حاضر کے تقاضے

از قلم –

نور محمد خالد مصباحی ازہری

 جامعه اسلامیه احسن البرکات تو لهوا

اسلام مکمل نظام حیات انسانی کا ضامن ہے اسکا دستور اساسی قرآن و حدیث ہے قرآن اللہ کا ایسا کلام ہے جو حیات انسانی کے تمام شعبوں پر مشتمل ہے دنیا کا کوئی ایسا علم نہیں ہے جو قرآن پاک میں موجود نہ ہو جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ ولا رطب ولا يابس الا في كتاب مبین ۔ قرآن جنس ماحول میں نازل ہوا تھا اس وقت کے اھل عرب تعلیم و تعلم و خط و کتابت میں بہت پس ماندہ تھے مگر جب رحمت اللعلمین کا یہ معجزہ تھا بقول حالی اتر کر حرا سے سوئے قوم آئے۔ اور ایک نسخئے کیمیاں ساتھ لائے مسے خاک کو جس نے کندن بنایا۔ کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

اسی قرآن عظیم کے برکت سے عرب کے بوریا نشیں قیصر و کسری کو بھی ماں کر دیا اونٹ اور بکری کے چرواہے نبی رحمت کی برکت سے دنیا کے امامت و قیادت کا فریضہ انجام دینے لگے صحابہ میں صداقت و عدالت سخاوت و شجاعت ایثار و ہمیت کا جز بہ بیدار ہوا ایک صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ دنیا کے تین براعظموں پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا صا الله نبی پاک صلی ایم نے تعلیم و تعلم کی اہمیت بتاتے ہو ۔ اہمیت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ طلب العلم فريضه على كل مسلم و مسلمه اس حدیث میں اگر چہ شارحین حدیث نے علم سے مراد دینی علم لیا ہے مگر میری ناقص رائے میں حدیث میں مطلقا علم کہا گیا ہے جو دینی ارود نیاوی علم دونو کو محیط ہے۔ اور اس کی تاوید دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے اطلبوا العلم ولو كان بالصين علم حاصل کرو چاہے چین جانا 

پڑے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہاں علم سے مراد علم دنیاہی ہے کیونکہ حضور کے زمانے میں چین میں کوئی دینی مدرسہ نہیں تھا تو اب یقین کامل ہو گیا کہ علم سے مراد یہاں دین و دنیا ہی ہے تیسری حدیث میں اللہ کے رسول نے فرمایا۔ اطبلو العلم من المہد الی الحد ۔ علم چاہے قرآن کا ہو یا حدیث کا یا فقہ کا جو قرآن و حدیث سے ماخوذ ہے یا علم جبر ہو یا علم ہیت منطق ہو یا فلسفہ ہو سا ئنیں ہو یا کامرس کمپیوٹر ہو یا میتھہ یا علم کا کوئی بھی شعبہ ہو جو انسانیت کے لئے مفید ہے اس کا حصول جائز ہے عربی دینی مدارس نظامیہ بغداد سے لیکر فرنگی محلی لکھنئو یک کس نے کما حقہ دینی تعلیم کےساتھ عصری علوم کو کماحقہ جگہ ناد الاماشاء الہی بعض ایسے ادارے تھے جہاں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جیسے قاہرہ کا جامعہ اظہر ان دلس کا جامعہ قرطبہ جامعہ غرناطہ جامعہ اش بلیا تیونس کا جامعہ زیتونہ اور ہندوستان میں علاؤدین خلجی نے کچھ ایسے دینی مدارس کو قائم کیا تھا جس میں دینی علوم کے ساتھ عصری علا عصری علوم کی تعلیم بھی ہوتی تھی اور انہی مدارس کا دین تھا کہ مسلمانوں نے اپنے اپنے دور میں ریاضی طب کیمیا فلقیات اور سائنس کے دوسرے شعبوں میں انقلاب برپا کیا محمد بن موسی الخار جمی علم ریاضی اور کمپیوٹر سائنس الجبرا الگور تھم کا بانی مانا جاتا ہے ان سینا موجودہ میڈین کے ان مانے جاتے ہیں نظامی میں ہی سن کی بتان بین کی طرف منسب سے ساری دنیا کا ایک بات بھی ابن سینا کام لینے پر مجبور ہیں اور اس کی لکھی ہوئی کتاب القانون کئی صدیوں تک یورپ کے

یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی تھیں ابن ابھیشم فی کس علم طبعیات جو علم بصارت کے 

موجد تھے عینک کو انہوں نے ایجاد کیا جابر بن حیان علم کمسٹری کے موجد مانے جاتے ہیں البیرونی جنہیں علم جغرافیہ کا موجد مانا جاتا ہے الزہر اوی علم سرجری کا موجد مانا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اور اس کے علاوہ قرون وسطی میں ہزاروں مسلم سائنس دانوں نے جنم لیا اور 14 ویں صدی میں امام احمد رضا نے بھی سائنسی علوم میں ایک

نیا باب رقم کیا اپ نے 311 ایسے زمین کے جنس سے ایسے مادیات کا تذکرہ کیا ہے جن سے تیم جائز ہے جو قدیم فقہا کے کتابوں میں دستیاب نہیں سولہویں صدی اتے آتے مسلم معاشرے میں عجمی تصوف کا غلبہ ہوا اور دکھاوے کے روحانیت کے نام پر عصری علوم کو مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم سے خارج کر دیا گیا بد قسمتی سے ستر ہویں صدی میں برصغیر پر انگریزوں کا تسلط ہو گیا اور لارڈ میکالے نے حکومتی عہدوں کو چلانے کے لیے انگلینڈ سے ایسا نصاب تعلیم لا یا جو دینی مدارس کے نصاب تعلیم سے یکسر مختلف تھا

اور حکومتی عہدوں میں انہی لوگوں کو جگہ دی جاتی تھی جو حکومت کے قائم کر دہ اداروں کے فارغ التحصیل ہوں اور ان کنوینٹ اداروں میں عصری علوم کے ساتھ مسیحی مذاہب کے علوم کو داخل نصاب کیا تا کہ بر صغیر کے ہندو مسلمان کو باسانی عیسائی بنایا جا سکے تب ہندو مسلمان دونوں کو ہوش آیا اور ان دونوں نے اپنے اپنے مذاہب کے تحفظ کے لیے مزید مذ ہبی ادارے قائم کرناشروع کیے چنانچہ مسلمانوں کے ہبی اداروں کو ایک ایسے نصاب تعلیم کی ضرورت تھی جہاں سے مفتی عالم عامتہ المسلمین کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کرسکیں اس کے لیے ملا نظام الدین سہلوی رحمتہ اللہ علیہ حافظ و قاری پیدا ہو کر کے نے ایک نصاب تعلیم مرتب کیا جو تین شعبوں پر مشتمل تھا علوم نقلیہ علوم عقلیہ علوم الیہ علوم نقلیہ میں تین علوم تھے علم قرآن تفسیر یعنی تفسیر علم حدیث علم فقہ علم کلام و عقائد علم تفسیر کی مشہور کتابیں جلالین مدارک بیضاوی داخل نصاب تھیں علم حدیث میں صحاح ستہ موطا امام مالک وغیرہ داخل نصاب تھیں علمفقہ میں قدوری نور الایضاح ہدا یہ داخل نصاب تھی وغیرہ علوم عقلیہ منطق فلسفہ علم حیت توقیت علم منطق کی مشہور کتابیں صغری کبری ملا حسن وغیرہ داخل نصاب تھی علوم فلسفہ میں ہدایت الحکمت شرح چغمینی و داخل نصاب تھیں علوم الیہ میں نحو صرف علم بلاغت معن العروض عربی نشر و نظم و غیرہ داخلے نصاب تھیں اور اس نصاب تعلیم پر مشتمل عربی مدارس کے نصاب کو ملا نظام الدین دہلوی کے نام پر درس نظامی کہا جانے لگا جو نصاب تعلیم اج تک دینی مدارس میں قائم و دائم ہے ہندوستان کے دو مکاتب فکر دیوبندی بریلوی دونوں کے دینی مدارس اسی نصاب پر چل رہے ہیں اول الذکر کا مر کز دار علوم دیو بند ہے اور ثانی کا مرکز جامعہ منظر اسلام بریلی شریف ہے اٹھارویں صدی سے لے کر اب تک ان اداروں کے فارغین علماء اپنی علمی زندگی میں حکومتی اداروں میں تقرری سے محروم کر دیے گئے چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان میں دو تحریکیں چلی تحریک سرسید علی گڑھ اور تحریک ندۃ العلماء کہ لعلماء لکھنو مگر بد قسمتی سے دونوں تحریکیں افراط و تفریط کا شکار ہو گئیںخود سر سید کو نیچری تحریک کا بانی کہا جانے لگا اور انہوں نے ایسے ایسے نظریات کو جنم دیا جو اہل علم پر مخفی نہیں اور خود ندوۃ العلماء سوائے عربی ادب کے فروغ کے عصری علوم کے فروغ کے تقاضوں کو انجام نہ دے سکا ہندوستان کے اکثر صوبوں کے دینی مدارس نے اپنے اپنے صوبوں میں مدرسہ بورڈ بھی قائم کیا مثلا عربی فارسی بورڈ لکھنو اتر پردیش مدرسہ ایجو کیشن بورڈ پیٹنا بہار کر ناٹک مدرسہ بورڈ کیرلا مدرسہ بورڈ وغیرہ وغیرہ مگر ان بورڈ کی سندیں آج بھی ہندوستانی حکومت کے اہم عہدوں پر فائض ہونے کے لیے غیر مقبول ہیں اب رہی ہمارے ملک کے نیپال کی دینی مدارس کی تو اس کا حال تو اور بھی برا ہے میچی سے مہا کالی تک ترائی سے ہمال تک ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدارس و مکاتب کا نہ کوئی مدرسہ بورڈ ہے نہ ہی کوئی نہ ہی کوئی یو نین لہذا میں تمام مکاتب فکر ارباب حل عقد و مدارس کے نظمی سے مودبانہ گزارش کروں گا آپ حضرات ایک جگہ جمع ہو کر مدارس دینیہ کے لیے ایک ایسا جامع نصاب مرتب کرے جو دینی و عصری علوم کا سنگم ہو تا کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات دسویں تک تعلیم حاصل کر سکیں بعدہ چاہے تو عالمانہ کورس کریں اور چاہیں تو حکومت کے قائم کر دہ عصری اداروں میں داخلہ لے کر اگے کی تعلیم مکمل کریں انجینیئر ڈاکٹر پروفیسر کمپیوٹر داں بن کر قوم وملت کی خدمت انجام دے سکیں اور مزید حکومت کے قائم کر دہ تمام سرکاری عہدوں پر کام کر سکیں

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)