Aug 3, 2026 02:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
کیا ہم خود آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر رہے ہیں؟

کیا ہم خود آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر رہے ہیں؟

02 Aug 2026
1 min read

کیا ہم خود آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر رہے ہیں؟

ڈاکٹر سلیم جھاپا 

تجزیہ نگار 

 آج کل نیپال میں ایک بار پھر ملک کو ہندو راشٹر بنانے یا سیکولر ریاست برقرار رکھنے کے موضوع پر بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے جذباتی تبصرے اور طویل مباحثے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ مسلمان جذبات کے بجائے حقائق، آئین، حکمت اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی رائے قائم کریں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نیپال کو سیکولر ریاست بنانے کا فیصلہ مسلمانوں یا کسی ایک اقلیتی برادری نے نہیں کیا تھا۔ یہ فیصلہ اُس وقت کی قانون ساز اسمبلی اور پارلیمنٹ نے آئینی طریقۂ کار کے مطابق کیا تھا، جس کے منتخب نمائندوں کی غالب اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ اس لیے سیکولر ریاست کا قیام ایک جمہوری اور آئینی عمل کا نتیجہ تھا۔ اگر مستقبل میں ملک کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے دوبارہ نیپال کو ہندو راشٹر بنانا چاہیں تو اس کے لیے بھی آئین میں درج طریقۂ کار کے مطابق آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ اگر پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت موجود ہو تو یہ فیصلہ بھی آئینی اور جمہوری طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی اقلیتی برادری، بشمول مسلمانوں، کے لیے تنہا ایسے فیصلے کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیکولر نظام کے کچھ فوائد ضرور ہیں، لیکن یہ فوائد صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ نیپال کے تمام شہریوں اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ہیں۔ مذہبی آزادی، قانون کے سامنے برابری اور اپنے عقیدے پر عمل کرنے کا حق ہر شہری کا مشترکہ حق ہے، نہ کہ کسی ایک مذہب کا خصوصی حق۔ اس لیے اگر مسلمان سیکولر نظام کی حمایت کریں تو اس کی بنیاد صرف اپنے مذہبی مفاد پر نہیں بلکہ آئین، مساوی شہری حقوق اور قومی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ نیپال کے بیشتر مسلمان ہندو بادشاہت کے دور میں بھی اپنی عبادات، مساجد، مدارس اور مذہبی زندگی گزارتے رہے، اگرچہ اُس وقت ریاست کا آئینی ڈھانچہ موجودہ سیکولر نظام سے مختلف تھا۔ اس لیے اس موضوع کو مسلمانوں کے وجود یا بقا کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا حقیقت پسندانہ رویہ نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی سوشل میڈیا پر ہندو راشٹر اور سیکولر ریاست کی بحث شروع ہوتی ہے تو بعض مسلم نوجوان سب سے آگے آ کر جذباتی انداز میں بحث کرنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات سخت زبان، طنزیہ تبصرے اور اشتعال انگیز جملے استعمال کیے جاتے ہیں، جو نہ صرف اسلامی اخلاق کے خلاف ہیں بلکہ معاشرے میں کشیدگی بھی بڑھاتے ہیں۔ 

مسلم نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کا طرزِ عمل اکثر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

 جب مسلمان خود اس بحث میں سب سے نمایاں نظر آتے ہیں تو بعض انتہا پسند عناصر اس صورتِ حال کو اپنے بیانیے کے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا صرف مسلمان ہی ہندو راشٹر کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک آئینی، سیاسی اور قومی مسئلہ ہے جس پر مختلف سیاسی جماعتوں، دانشوروں اور خود ہندو معاشرے کے اندر بھی مختلف آراء موجود ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو جذبات کے بجائے سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہر بحث میں کودنا، ہر پوسٹ کا جواب دینا اور ہر اشتعال انگیز تبصرے پر ردِعمل ظاہر کرنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی فائدہ مند۔ بعض اوقات خاموشی، تحمل اور حسنِ اخلاق ہی سب سے مؤثر جواب ہوتے ہیں۔ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ فتنے کے ماحول میں حکمت، صبر اور اصلاح کا راستہ اختیار کیا جائے۔ 

ایک باشعور مسلمان وہ ہے جو اپنے الفاظ اور اپنے رویے کے نتائج کو سمجھتا ہو، نہ کہ صرف وقتی جذبات کی بنیاد پر ردِعمل ظاہر کرے۔ مسلمانوں کی اصل ترجیح تعلیم، معاشی ترقی، اخلاقی تربیت، قانون کی پاسداری، قومی اتحاد اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا ہونی چاہیے۔ اگر ہماری توانائیاں سوشل میڈیا کی بے مقصد بحثوں میں صرف ہوں گی تو اس کا نقصان خود ہماری برادری کو ہوگا۔ آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہندو راشٹر ہو یا سیکولر ریاست، اس کا فیصلہ نہ سوشل میڈیا کرے گا اور نہ ہی کسی ایک مذہبی برادری کی خواہش سے ہوگا۔ اس کا فیصلہ صرف آئین، پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کے ذریعے ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں لچک، حکمت، صبر اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اور اپنے کردار، علم، خدمت اور حسنِ اخلاق سے معاشرے میں اعتماد پیدا کریں۔ یہی اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے، یہی ایک ذمہ دار شہری کا رویہ ہے، اور یہی نیپال کے پائیدار امن اور قومی یکجہتی کے لیے سب سے بہتر راستہ ہے۔ ڈاکٹر سلیم انصاری جھاپا نیپال

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)