سرہا:میں ہولناک فرقہ وارانہ تشدد: گول بازار میں ہندو انتہا پسند ہجوم کا مسجد پر حملہ،اور آتش زنی
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
مدھیش پردیش نیپال کے جنوبی متھیلا ریجن میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کی آگ ضلع سرہا کے تجارتی مرکز گول بازار تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز سینکڑوں کی تعداد میں بپھرے ہوئے ہندو انتہا پسند ہجوم نے "جئے شری رام" کے نعرے لگاتے ہوئے گول بازار میں واقع مقامی مسجد پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے مسجد کی عمارت میں شدید توڑ پھوڑ کی اور اس کے حصوں کو آگ لگا دی، جس سے اندرونی فرنیچر اور مذہبی کتابوں کو شدید نقصان پہنچا۔مسجد پر حملے کے بعد ہجوم نے گول بازار کے مشہور تجارتی مرکز "اے بی مال" کا رخ کیا اور اسے آگ کے حوالے کر دیا۔ مال میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ اس کے علاوہ، گول بازار میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 12 کے مسلم چیئرمین شعیب انور کے گھر پر بھی منظم حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا گیا۔ سڑکوں پر کھڑی مسلمانوں کی درجنوں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور دکانوں کو چن چن کر لوٹا گیا اور جلا دیا گیا۔حالات کو بے قابو ہوتے دیکھ کر مقامی پولیس نے بپھرے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے بعد سیدھی فائرنگ کر دی۔ پولیس کی گولی لگنے سے ایک مقامی نوجوان (جس کی شناخت گنیش یادو کے نام سے ہوئی ہے) موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ ۱۵ سے زائد افراد شدید زخمی ہیں جنہیں علاج کے لیے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ نوجوان کی ہلاکت کے بعد علاقے میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔سرہا کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے گول بازار اور اس سے ملحقہ "لہان"کے علاقوں سمیت ایسٹ ویسٹ ہائی وے پر فوری طور پر غیر معینہ مدت کے لیے سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی ناکامی کے بعد مقامی انتظامیہ نے نیپال آرمی کو طلب کر لیا ہے۔ فوجی دستوں نے شہر کا کنٹرول سنبھال کر سڑکوں پر فلیگ مارچ کیا ہے، جس کے بعد پوزیشن کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے
