Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال میں سلسلہ قادریہ برکاتیہ کا فیضان

نیپال میں سلسلہ قادریہ برکاتیہ کا فیضان

13 Nov 2025
1 min read

نیپال میں سلسلہ قادریہ برکاتیہ کا فیضان

از قلم: محمد رضا مصباحی قادری نقشبندی

متحدہ ہندوستان میں سلسلہ قادریہ کی اشاعت جس عظیم خانوادہ اور خانقاہ کے ذریعہ ہوئی ، وہ سلطان العاشقین، حضور صاحب البركات، قطب عالم، سید شاہ برکت اللہ واسطی بلگرامی مارہروی قدس سرہ کا روحانی خانوادہ اور ان کی قائم کردہ خانقاہ برکاتیہ ہے۔حضرت سلطان العاشقین سید شاہ برکت اللہ قادری کی ولادت ۲۶ / جمادی الآخرہ ۱۰۷۰ھ مطابق ۱۶۶۰ء کو پورب کے مشہور مردم خیز قصبہ بلگرام میں ہوئی اور وصال شب عاشورہ محرم الحرام ۱۱۴۲ھ مطابق ۷۲۹باء کو مارہرہ میں ہوا۔ آپ حضرت سید نا زید شہید بن حضرت امام زین العابدین بن سید الشہداء امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل سے ہیں ۔ آپ کے جد اعلیٰ سید میر محمد صغری بلگرامی (ولادت : ۵۶۴ھ، وفات: شعبان ۶۴۵ ھ ) قدس سره مرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی چشتی علیہ الرحمہ نے بلگرام کو فتح کیا اور اپنی اولاد کے ساتھ سکونت پذیر ہوئے ۔ بلگرام ضلع ہر دوئی سے اسی خانوادہ کے بطل جلیل میر سید عبد الجلیل بلگرامی (۹۷۲ھ۔ ۱۰۵۷ھ ۱۶۰۸ء) ابن سید عبد الواحد بلگرامی صاحب سبع سنابل شریف (۹۰۹ھ۔ ۱۰۱۷ھ) نے حالت جذب و مستی میں بلگرام کو خیر آباد کہہ کر مارہرہ نام کی بستی میں سکونت اختیار کی اور مسلسل اکتالیس سال تک رشد و ہدایت ، تبلیغ اسلام اور خدمت خلق کا فریضہ انجام دیا۔ مارہرہ میں خانقاہ کی تعمیر کی۔ آپ کی بلگرامی زوجہ سے چار فرزند ہوئے ، ان میں ایک صاحبزادے کا نام سید شاہ اویس بلگرامی ہے۔ انھیں کے صاحبزادے حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بلگرامی ثم مارہروی ہیں۔پروفیسر محمد ایوب قادری (پاکستان) نے سبع سنابل شریف کے مقدمہ میں ایک اقتباس نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:میر بلگرامی کے فرزند میر عبد الجلیل (م ۱۰۵۷ھ) نے مارہرہ میں سکونت اختیار کر کے اس قصبہ کو رشد و ہدایت کا مرکز بنادیا اور کم و بیش چار سو سال سے اس خانوادہ میں سلسلۂ ارشاد جاری ہے اور نامور صوفیہ و مشائخ اور اصحاب علم و فضل پیدا ہوئے ہیں۔ (مقدمه سبع سنابل : میر عبدالواحد بلگرامی ، ص : ۱۳۔)

حضور صاحب البرکات ابا عن جد چشتی تھے، مگر سلسلہ چشتیہ کے ساتھ انھیں قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور مدار یہ سلاسل کی اجازت و خلافت بھی حاصل تھی ۔ آپ کو اپنے والد ماجد سے سلسلۂ چشتیہ قدیم (آبائی) سلسلہ قادریہ قدیم ( آبائی ) سلسلہ سہر ورد یہ قدیم ( آبائی) کی اجازت و خلافت حاصل تھی 

والد ماجد کی حیات تک بلگرام ہی میں رہے ۔ والد ماجد کی وفات ۲۰/ رجب ۱۰۹۷ھ کے بعد آپ کا لپی شریف ضلع جالون تشریف لے گئے ۔ وہاں مشہور زمانہ بزرگ، سید شاہ فضل اللہ قادری مسند رشد و ہدایت پر جلوہ افروز تھے، ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنی روحانی تشنگی بجھائی اور سید شاہ فضل اللہ کالپوی ( وصال ااااھ ) سے اجازت و خلافت ، سلاسل عالیہ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، نقشبندیہ، ابو العلائیہ اور مدار یہ بدیعیہ حاصل کی اور صاحب البرکات کا خطاب پایا۔

(سیدین نمبر ماہنامہ اشرفیہ ص: ۱۹۸ مضمون حضرت سید محمد امین میاں قادری برکاتی ۔)

 آپ کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ جس وقت حضرت صاحب البرکات کالپی شریف پہنچے سید شاہ فضل اللہ قادری قدس سرہ نے کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کیا اور تین بار معانقہ فرمایا۔ اور یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:

در یا به در یا پیوست

(تذکرہ مشائخ مارہرہ۔ ڈاکٹر احمد مجتبی صدیقی - ص : ۱۷ - البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ۔)ان تین معانقوں میں محبت و معرفت کا جو جام پلا یا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔چونکہ حضرت صاحب البرکات پر نسبت قادریت غالب تھی اور سر کار غوثیت مآب سے جنون کی حد تک عشق تھا یہی وجہ ہے کہ آپ نے سلسلہ قادریہ ہی میں بیعت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ مارہرہ شریف میں سلسلہ قادریہ جدیدہ کالپی شریف سے پہنچا ہے۔ اور پھر مارہرہ سے بدایوں شریف اور بریلی شریف تک پہنچا۔ سلسلہقادریہ برکاتیہ ہی کی اہم شاخ سلسلہ قادریہ رضویہ ہے۔ متحدہ ہندوستان کی اکثر خانقاہوں میں سلسلہ قادریہ، مارہرہ شریف سے ہی پہنچا ہے۔ یہ وہ با عظمت خانقاہ ہے جہاں شاہان مغل حضرت اور نگ زیب عالم گیر سے لے کر محمد شاہ تک نیاز نامے بھیجا کرتے تھے۔ یہ وہ برکاتی میخانہ ہے جہاں سے بغدادی جام بھر بھر کر پلائے جاتے ہیں۔ یہ وہ روحانی خانقاہ ہے جہاں قبلہ کی ہمرکابی میں شرکت کےلئے حاضر ہوتا رہا۔ خلق خدا کے اس ازدحام میں بھی آپ کے اخلاق حمیدہ واوصاف فاضلہ کو دیکھ کر حضور نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زندگی پاک کا پاکیزہ نقشہ پردہ ذہن پر آکر دور حاضر کے زاہدان خشک سے یوں گویا ہوتا ہے۔

کیجئے ظاہر خوش اخلاقی سے اپنی خوبیاں  یہ نمود جبہ و دستار رہنے دیجئے کیوں نہ ہو! رب کریم نے اپنے بندوں کے ذہن و فکر پر اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق طیبہ کو ثبت فرمانے کے لئے ارشاد فرمایا وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ یقیناً خلق عظیم پر ہیں خود محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد بُعِثْتُ لا تم مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ وَ مَحَاسِنَ الْأَفْعَالِ یعنی میں تو اسی لئے اس خاکدان گیتی پر بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کی بزرگیوں اور اعمال کی خوبیوں کو مرتبۂ کمال پر پہونچا کر انہیں مکمل کر دوں۔ خدو رسول کی بارگاہ میں جس وصف کی یہ اہمیت ہو اب اگر ایک صاحب ایمان اس سے دور رہے تو کس قدر افسوس ناک بات ہے۔ 

بحمدہ تعالیٰ ہمارے سرکار حضور احسن العلماء قدس سرہ کے اخلاق حسنہ اور خوردہ نوازی کا یہ عالم تھا کہ آپ جب کسی عالم اہل سنت کی کوئی خوبی دیکھتے یا سنتے چاہے وہ آپ کے خلفاء میں سے ہو یا غیر خلفاء میں سےتو بیحد مسرور ہوتے۔حضرت مولانا غلام حسین صاحب برکاتی نظامی کا بیان ہے کہ ایک بار ممبئی کھڑک والی مسجد میں آپ کے خلفاء میں سے حضرت صوفی صاحب قبلہ کے بارے میں کسی نے کہا کہ آپ کے خلیفہ حضرت صوفی صاحب کے ذریعہ بحمدہ تعالٰی سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کا خوب خوب فروغ ہو رہا ہے۔ حضرت اٹھ کر ایک گنبد کے نیچے سات اقطاب آرام فرما رہے ہیں ۔ یہی وہ مقدس آستانہ ہے؟ نہ ہے جس کی غلامی عمر بھر زبدۃ العار زبدة العارفين، تاج المتوکلین علامہ شاہ عین الحق عبدالمجید بدایونی کرتے رہے۔ یہی وہ روحانی بارگاہ ہے جس نے علامہ شاہ فضل رسول بدایونی کو سیف الله المسلول بنا دیا۔ تاج المتکلمین شمس العارفین علامہ شاہ عبد القادر بدایونی قدس سرہ کو تاج الفی بدایونی قدس سرہ کو تاج الفحول بنادیا۔ مجدداع ناج المحول بنادیا۔ مجد داعظم مولانا شاہ احمد رضا قادری برکاتی کو اعلیٰ حضرت ، عاشق رسول اور امام اہلسنت بنا دیا۔ جس در کی غلامی اور جاروب کشی پر اعلیٰ حضرت تا عمر فخر کرتے رہے اسی مقدس اور با عظمت خانقاہ کے فردفرید اور بطل جلیل کا نام سید آل مصطفی برکاتی مارہروی ہے۔حضور سید العلما سید شاہ آل مصطفیٰ قادری برکاتی(۱۳۳۳ / ۱۹۱۵ ء - ۱۳۹۴ / ۱۹۷۴ء )حضور سید العلما کا پورا نام آل مصطفیٰ اولاد حیدر ہے اور عرفی نام سید میاں اور لقب سید العلما ہے۔ آپ کی ولادت ۲۵ / رجب المرجب ۳۳۳ باھ چہار شنبہ کی رات میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی ۔ والد کا نام سید حیات النبی آل عبا بشیر حیدر تھا اور نانا کا نام مجدد برکاتیت حضرت مولانا سید ابو القاسم اسماعیل حسن رحمۃ اللہ علیہ تھا۔ آپ کی پرورش و پرداخت نانا جان کےآغوش عاطفت میں ہوئی۔ چار سال چار ماہ چار دن کی عمر میں تسمیہ خوانی کا جشن پورے اہتمام سے کیا گیا اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک سے لکھے ہوئے بسم الله الرحمن الرحیم سے حضور سید میاں کو علم کا پہلا جام بغدادی، میخانہ سے پلایا گیا۔ سات آٹھ سال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل فرمائی۔نانا جان اور خال محترم سید شاہ اولا د رسول محمد میاں مارہری قدس سرہ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا۔ تفسیر، حدیث، منطق، علم کلام ، صرف ونحو اور بلاغت میں کمال پیدا کیا۔ پھر منتہی کتابوں کی تعلیم کے لیے حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں جامعہ معینیہ اجمیر مقدس تشریف لے گئے اور معقول و منقول دونوں میں تبحر پیدا کیا۔

مولوی، عالم کی سند پنجاب بورڈ سے حاصل کی ۔ طبیہ کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندیہ و یونانی اور عمل جراحی میں ڈی آئی ایم ایس کاڈ پلو مالیا۔ اس کے بعد نا نا جان نے اپنے نواسے کو مکمل تیرہ سال تک خانقاہی تربیت عطا فرمائی۔ اپنی بیعت کے ساتھ خلافت واجازت سے بھی نوازا۔ نانا کے وصال کے بعد حضور تاج العلما نے روحانی تربیت کی اور اپنی تمام اجازت و خلافت انھیں عطا کی ۔

(سیدین نمبر ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور ۲۰۰۲ء - حضور سید آل رسول حسنین میاں نظمی کے مضمون سے ماخوذ ہے ۔ ص : ۴۷۴-۴۷۲)

آپ کی ذات مرجع علما تھی ، کیوں کہ آپ شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے۔ سالکین و طالبین، علما، فقہا اور عوام سب آپ سے مستفیض ہوتے تھے۔جنک پور، نیپال کے جلسہ میں حضور سید العلما کی آمد۱۲ - ۱۳/ مارچ / ۱۳۹۴ ھ/ ۱۹۷۳ء میں جنک پور، نیپال کے ایک جلسہ میں حضور حافظ ملت اور حضور سید العلما کی زندگی کا ایک عبرتآموز واقعہ جو سر تا پا اخلاص و محبت اور کسر نفسی کی روشن مثال ہے۔ ایک چشم دید عالم وفقیہ مفتی اعظم ہالینڈ ، حضرت مفتی عبد الواجد صاحب نیز قادری کے قلم سے ملاحظہ کریں۔ اس واقعہ کو انھوں نے حضور حافظ ملت کے وصال کی خبر پا کر بریلی شریف میں حضور مفتی اعظم ہند سے بیان کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں :حضور ! حافظ ملت علیہ الرحمہ کے اخلاص و کسر نفی کو یوں تو میں نے بار ہا بہت قریب سے دیکھا ہے، مگر جنک پور نیپال کے جلسہ میں جس کسر نفسی کا بر ملا اظہار ہوا ہے وہ میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا ہے۔ حضور مفتی اعظم نے میری طرف دیکھا تو میں عرض کرنے لگا۔

جنک پور ، نیپال کے مشہور شہروں میں سے ایک سرحدی شہر ہے جہاں اہلسنت کا ایک ادارہ مولا نا جیش محمد برکاتی کے زیر انتظام چل رہا ہے۔ وہاں کئی بار جلسے ہوئے ۔ ایک جلسہ میں حضور سید العلما، حضور حافظ ملت اور مولانا سید مظفر حسین کچھو چھوی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیر ہم تشریف فرما تھے۔ اسٹیج سکریٹری اور اناؤنسر کی حیثیت سے میں اپنے بزرگوں کا تعارف کرا رہا تھا۔ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ اسٹیچ پر پہلے جلوہ بار ہو چکے تھے لہذا ان کی تقریر کا میں نے اعلان کر دیا ، کم و بیش ڈیڑھ دولاکھ کا جم غفیر تھا۔

حضور حافظ ملت خطبہ مسنونہ میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں حضور سید العلما اسٹیج پر جلوہ فرما ہو گئے اور حضور حافظ ملت سے فرمانے لگے حضور! آپ بڑے ہیں، پہلے میری تقریر ہو جانے دیجیے پھر آپ تقریر فرمائیے۔ میں آخر تک آپ کی تقریر سے مستفیض ہونا چاہتا ہوں۔

حضور سید العلما کی باتیں سن کر حضور حافظ ملت نے خطبہ تقریر موقوف فرما دیا اور سید العلما کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:

حضور ! میں آپ کے ادنی غلاموں میں سے ہوں، لیکن آقا کا حکم سر آنکھوں پر۔ آئیے اور اپنی تقریر پر تنویر سے مجھ جیسے ناکاروں کو نواز ہے۔ مولانا حافظ جیش محمد صدیقی اور مولا نا محبوب رضا روشن القادری نے حضور سید العلما کو سہارا دیا اور منبر تقریر پر بٹھا دیا اور حضور حافظ ملت آپ کی کرسی کے پایہ سے لگ کر اس طرح مؤدب بیٹھ گئے جیسے کوئی ہو نہار شاگرد استاذ کے سامنے دوزانو بیٹھتا ہے اور ہر لمحہ جی حضور ، جی حضور فرمانے لگے۔حضور سید العلما علیہ الرحمۃ والرضوان نے خطبہ مسنونہ کے بعد تمہید تقریر کے طور پر حضور حافظ ملت کی اجمیری زندگی پر روشنی ڈالی اور درمیان گفتگو فر مایا:

یہی وہ حافظ ملت ہیں جنھوں نے طالب علمی کے دور میں نہ صرف مجھے کتب متداولہ کی تکرار کرائی بلکہ میری گوشمالی فرما کر مجھے علم وفن کے سانچے میں ڈھالا۔

سید العلما علیہ الرحمہ کی اس گفتگو کا اثر اسٹیج پر بیٹھے ہوئے علما پر ایسا ہوا کہ بعض حضرات چیخیں مار کر رونے لگے۔ خود حضور حافظ ملت کا رومال آنسوؤں سے تر ہو گیا اور دو نوں گھٹنوں پر کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے حضور سید العلما سے بار بار معذرت طلب ہو رہے تھے۔

اس جاں گسل منظر کو اسٹیج کے قریب ہزاروں سامعین نے دیکھا اور ان دونوں حضرات کے آپسی خلوص و محبت پر قربان ہونے لگے۔

اس دو روزہ جلسہ میں پہلی شب کی صدارت حضور سید العلما نے کی جبکہ دوسری شب کی صدارت نبیرہ سرکار محبی، محبوب الاولیا حضرت مولانا حمید الرحمن قادری رحمانی پوکھر یروی علیہما الرحمہ نے فرمائی ۔  اس موقع پر حضرت شیر نیپال، میرے والد ماجد مولانا محمد عیسیٰ برکاتی اور میرے خسر محترم الحاج محمد رفیق برکاتی (لوکہا) اور سینکڑوں عوام و خواص ، حضرت سید العلما کے ہاتھ پر بیعت ہوئے ۔ اس طرح براہ راست خانقاہ برکاتیہ کا فیضان نیپال کی سرزمین پر عام و تام ہوا۔

از قلم: محمد رضا مصباحی قادری نقشبندی 

استاذ: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور اعظم گڑھ 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383