May 10, 2026 05:26 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
انسانی نفس کے تین  اقسام (قرآن کی روشنی میں )

انسانی نفس کے تین اقسام (قرآن کی روشنی میں )

07 May 2026
1 min read

انسانی نفس کے تین  اقسام (قرآن کی روشنی میں )

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی سرینگر۔

         نفس عربی زبان کا لفظ ہے اس کے بہت سے معنی ہیں مثلأ۔روح،ذات، جان،اصل شے،لب لباب،وجود، ہستی،حقیقت، اصلیت، وغیرہ وغیرہ ۔انسانی نفس یا انسانی روح کا تعلق عالم امر سے ہے انسان کو اس کے متعلق تھوڑا سا علم دیا گیا ہے (سورہ اسرا۔ 85) روح عالم ارواح میں آدم کےہیولا میں پھونکی گئی ہے اور فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے میں گر پڑنے کا حکم ہوا سب سجدے میں گرپڑے سوائے ابلیس کے  وہ جنات میں سے تھا  حقیقت میں فرشتوں نے آدم کو سجدہ نہیں کیا بلکہ روح کو پہچان کر سجدے میں گرپڑے جبکہ ابلیس روح پہچاننے سے محروم رہا اور تا قیام قیامت دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا ہے ہر انسانی روح عالم ارواح میں اللہ سے عہد کرکے دنیا میں اپنی مستعار زندگی آزمائش کے طور گزارنے آئی ہے یہاں آکر انسانی روح یا نفس تین حصوں میں بٹ گیا (1) نفس امارہ =- وہ نفس جو بدی کی طرف رغبت دلائے۔سرکش ،ظالم اور بری بات کا حکم دینے والا ہو ۔قرآن میں (سورہ یوسف 53) میں اس کا ذکر کیا گیا ہے (اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی (انسان کا) نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے ) عزیز مصر کی بیوی نے جب حضرت یوسف علیہ السلام پر تہمت لگائی اور یوسف علیہ السلام کو جیل ہوئی پھر بادشاہ وقت کے خواب دیکھنے پر یوسف علیہ السلام کو جیل سےرہائی ملی اور یوسف 

علیہ السلام کے شرط پر عزیز مصر کی بیوی نے اپناجرم قبول کرکے اللہ نے قرآن میں مذکورہ  بالا آیت میں نفس امارہ کا ذکر فرمایا۔        (2) نفس لوامہ =- وہ نفس جو سخت ملامت کرنے والا ہو ،جو انسان کو برے کام کرنے پر ملامت کرتی ہے قرآن میں  (سورہ القیامہآیت 2) میں اس کا ذکر ہے اس سے مراد  انسان کا وہ نفس ہے جسے ہم عرف عام میں ضمیر کہتے ہیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مسلمان، کافر یا دہریہ انکار نہیں کرسکتا "میرا ضمیر۔مجھے ملامت کررہا ہے ،.my conscience is biting me  سوچنے کی بات ہے کہ کوئی غلط یا برا کام کریں تو اندر ہی اندر دل و دماغ میں چبھن پیدا کرتی ہے یہاں تک کہ نیند بھی اڑ جاتی ہے ہر انسان کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دینے کے لئے آخرت کا وجود میں لایا جانا ناگزیر ہے چنانچہ قیامت کی سب سے بڑی دلیل خود انسان کے اندر موجود ہے اور وہ ہے انسان کا نفس لوامہ  یا اس کا ضمیر۔       (3) نفس مطمئنہ =- انسان کا وہ نفس جو اس امتحانی زندگی میں مطمئن ہوکر یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی میں لگا رہا اور اس کے دین کے ساتھ چمٹا رہا ۔قرآن (سورہ الفجر آیت 27) میں اس کا ذکر ہے  ۔ایک اور مثال سے سمجھانے کی کوشش ضروری ہے۔(1) حق تلفی ، لوٹ کھسوٹ ظلم و جبر  ،مار دھاڑ ،فحاشی، بے حیائی،روگردانی، نفس امارہ کے زمرے میں آتے ہیں۔                     (2) نفس لوامہ =- برے کام انجام دے کر پچھتانا ،اندر ہی اندر  بے قرار رہنا دل و دماغ میں چبھن محسوس کرنا ،نادم و پشیماں ہونا ،نفس لوامہ کے زمرے میں آتا ہے۔                                        (3) نفس مطمئنہ =- ایک آسان  مثال  کسی شادی پر ڈھیر سارا کھانا اور مختلف قسم کے پکوانوں سے پیٹ بھرا ہو اس کے بعد باقی لوگوں کے لیے آپ کے سامنے کھانا

پروسا جائے اور مختلف قسم کے پکوان ہوں گے کیا آپ کا دل چاہے گا اور کھانے کا ،نہیں کیوں کہ  آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہے مزید کھانے کی ضرورت نہیں  ،کوئی جگہ خالی نہیں۔ یہی نفس مطمئنہ ہے ۔          قرآن میں اللہ تعالٰی( سورہ الواقعہ  آیت 7سے 10 آیت تک) انسانی نفس کے تینوں اقسام  بیان کرتا ہے ،فرماتا ہے "قیامت کے روز تم تین گروہوں میں منقسم ہوجاوگے(1) داہنے والے ،جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ،یہ جماعت حشر کے روز پیدل چلتی ہوگی ۔(2) دوسری جماعت جو بائیں والے ہوں گے تو کیا برا حال ہوگا بائیں والوں کا  وہ حشر کے روز سر کے بل چلتے ہوں گے ۔ (3) تیسری جماعت آگے نکل جانے والے ہوں گے  وہ مقربین میں سے ہوں گے حشر کے روز یہ جماعت گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔  پھر اللہ تعالٰی اسی سورہ کے آخر میں(آیت 88 سے 94تک) نفس انسانی کے ان تین گروہوں کا ذکر یوں فرماتا ہے کہ جب موت آتی ہے (1)اگر مرنے والا  مقربین میں سے ہوگا تو اس کے لئے راحت اور سرور اور نعمتوں والی جنت ہے ۔  (2) اور اگر مرنے والا اصحاب الیمین میں سے ہوگا تو سلامتی پہونچے  آپ کو اصحاب الیمین کی  طرف سے یعنی اصحاب الیمین بھی عیش میں ہوں گے اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز  ہوں گے۔                                       (3)  اور اگر مرنے والا جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا تو اس کی مہمان نوازی کھولتے پانی سے ہوگی اس کے بعد اسے جہنم کے اصل عذاب میں جھونک دیا جائے گا ۔                              یہ انسانی نفس کے تین اقسام ہیں جو میں نے قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں اپنے فہم کے مطابق  قلمبند کردئے ۔       ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر

www.nepalurdutimes.com 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)