اپنی ذمہ داری کا احساس
محمد علی شیر نظامی روضہ شریف،مہوتری نیپال
دور حاضر کا انسان سہولتوں، اسائشوں اور خوابوں کے جال میں اس قدر الجھ چکا ہے کہ اسے اپنی اصل ذمہ داریوں کا شعور کم ہی رہ گیا ہے۔آج کا معاشرہ اخلاقی، فکری اور روحانی زوال کا شکار ہے ،تو ہر شخص دوسروں سے امید لگائے بیٹھا ہے کہ کوئی آئے گا اور حالات بدل دے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا ہمیں اپنی حفاظت اپنی عزت اور اپنے ایمان کی پاسبانی خود کرنی ہوگی۔کسی صاحب نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ۔ پیاس کہتی ہے کہ چلو ریت نچوڑی جائے، اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا،، اپنے مساجد کی حفاظت خود کرنی ہوگی،، اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا،ریت سے سمندر نچوڑنے کی مثال اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ محض خواہش یا دعا کے سہارے منزل حاصل نہیں کی جا سکتی عمل، قربانی، اور استقامت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے ہماری مساجد، مدارس، اقتدار اور تہذیب اس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتیں جب تک ہم خود ان کے محافظ نہ بن جائیں۔آج کے حالات میں دشمن کوئی بیرونی طاقت نہیں بلکہ ہماری اپنی غفلت، بے حسی اور لاپرواہی ہے ۔اگر ہم نے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اصلاح سے آغاز کریں، علم و کردار کی روشنی پھیلائیں اور اپنے دین و ثقافت کے قلعے کی حفاظت دل و جان سے کریں یاد رکھیں مدد تب آتی ہے جب ہم خود کوشش کریں۔ کیونکہ قسمت بھی انہی کا ساتھ دیتی ہے جو خود اٹھ کر اپنا بوجھ اٹھاتے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ علماء اور گاؤں محلے کے سردار اپنی ذاتی مفادات کی خاطر ذات پات اور برادری کے نام پر لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں وہ دین کی خدمت کے بجائے تعصب، نفرت اور فتنہ پھیلانے میں لگے ہیں تاکہ اپنی روٹی سینک سکیں یہ طرز عمل نہ صرف دینی طور پر گناہ ہے بلکہ سماجی اور ملی تباہی کا سبب ہے۔دیکھیے آج ہمارا معاشرہ ظاہری مذہبیت کے باوجود اندر سے بکھرا ہوا ہے گاؤں یا شہر، خانقاہیں ہوں یا مدرسے ہر جگہ انانیت ،مفاد پرستی اور گروہ بندی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔نام نہاد پیر اور خود ساختہ روحانی پیشوا لوگوں کے ایمان اور خوف خدا کو اپنے مفاد کے لیۓ استعمال کر رہے ہیں وہ لوگو ں کو علم اور شعور نہیں دیتے بلکہ اندھی عقیدت میں مبتلا کر دیتے ہیں ایسے پیر روحانی نہیں بلکہ دنیا دار تاجر ہیں جنہوں نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اور دوسری طرف کچھ علماء نے علم دین کو اتحاد کا نہیں بلکہ تقسیم کا
ہتھیار بنا لیا ہے ۔مسجدیں، مدرسے اور منبر و محراب بھی گروہ بندی کا شکار ہیں اختلاف رائے کو دشمنی میں بدل دینا اور اپنے مخالف کو کافر یا گمراہ کہنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔اور پھر ان سب کے ساتھ گاؤں اور محلوں کے سردار بھی اپنی سازشوں میں لگے ہیں وہ جان بوجھ کر عوام کو تقسیم کرکے رکھتے ہیں تاکہ ان کا اقتدار قائم رہے وہ بھائی کو بھائی سے، مرید کو پیر سے ،اور عالم کو عوام سے ،اور عوام کو عالم سے بدظن کر دیتے ہیں ان کی سیاست کا دارومدار ہی لوگوں کی جہالت اور بے اتفاقی پر ہے ایسے حالات میں سب سےاہم ضرورت یہ ہے کہ عوام خود سوچنا سیکھیں سوال کرنا سیکھیں اور حق و باطل میں فرق پہچانیں۔دین اندھی تقلید کا نہیں شعور اور کردار کی پاکیزگی کا نام ہے خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنے دلوں کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔اگر ہم نے اپنے اندر سے مفاد، لالچ، اور انا کا زہر نہ نکالا تو نہ خانقاہوں میں سکون رہے گا ،نہ مسجدوں میں برکت اور نہ گاؤں محلوں میں بھائی چارہ۔ضرورت ہے اپنے ایمان اپنے کردار اور اپنے ضمیر کے نگہبان خود بنے نہ کسی جھوٹے پیر کے مرید بنے نہ کسی لالچی سردار کے غلام سچائی اور انصاف وہ چراغ ہیں جو ہر اندھیرے کو مٹا سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ انہیں بجھنے نہ دیا جائے۔علامہ اقبال نے کیا ہی خوب فرمایاہےخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے ،بتا تیری رضا کیا ہے۔اور یہ معاملہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ علمائے کرام کی صفوں میں بھی گروہ بندی نے۔ دین کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے، ہر مسلک اپنے دائرے میں قید ہے، اور اکثر علماء ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ علمی اختلاف جو کبھی خیر کا ذریعہ تھے ،اب فتنہ اور الزام تراشی کا ہتھیار بن گئے ہیں منبرو محراب سے رہنمائی کے بجائے اکثر اوقات تقسیم اور نفرت کا پیغام سنائی دیتا ہے۔غور کرنے کی بات ہے کہ غیروں نے ہم سے سیکھ کر کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور ہم وہ ہیں کہ اپنی انانیت ،ذات پات، اور حسد کینہ، بغض، دشمنی، غیبت ،چغل خوری کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی آ کر ہمیں دھمکا کر اور جبر و تشدد کی آنکھ دکھا کرچلا جاتا ہے اور ہم کچھ نہیں کر پاتے۔آئیں ہم اس دلدل سے باہر ہوکر پھر سے اسلام کی اصل پیغام کی طرف لوٹیں اتحاد مساوات اور بھائی چارے کی طرف۔ ذات، برادری، اور فرقے کے بجائے ایمان اخلاق اور انسانیت کی بنیاد پر زنگی گزاریں جوڑنے والے بنے توڑنے والے نہیں یہی ہماری سماجی بقا اور ملی طاقت کا راز ہے۔۔۔بس اپنی بات کو علامہ اقبال کےاس شعر پر ختم کرتا ہوںکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں۔۔۔خداحافظ
محمد علی شیر نظامی روضہ
