Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
روحانی فیوض و برکات کا مرکز

روحانی فیوض و برکات کا مرکز

13 Nov 2025
1 min read

روحانی فیوض و برکات کا مرکز

محمد علی شیر قادری نظامی روضہ شریف ،مہوتری نیپال

بر صغیر کی روحانی و علمی تاریخ کے روشن صفحات میں اگر کسی خانقاہ نے سب سے زیادہ قلوب و اذہان کو منور کیا ،دلوں کو سکون ایمان عطا کیا، اور ملت اسلامیہ کے فکری و روحانی تشخص کی حفاظت کی، تو وہ بلا شبہ خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ ہے یہ  خانقاہ محض ایک روحانی مرکز نہیں بلکہ ایک ایسا مینار نور ہے جس کی کرنیں صدیوں سے بر صغیر کے کوہ دامن، گلی کوچوں ،مدرسوں  اور محراب ومنبر تک روشنی بانٹ رہی ہیں۔مارہرہ مطہرہ کی یہ خانقاہ سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کا مرکز اعظم ہے جو فیوض غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ سے متصل اور متبرک ہے۔یہاں سے جاری ہونے والی روحانی باد نسیم نے نہ صرف ہندوستان بلکہ افغانستان، بنگال، عرب و عجم تک اپنے اثرات چھوڑے۔اسی فیض قادری نے دلوں کو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور کیا، اور علم و معرفت کے سر چشمے جاری کیۓ۔یہ خانقاہ ان نفوس قدسیہ کی آماجگاہ ہے جن کی حیاتیں ذکر الہی، عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، علم و عمل، اور خدمت خلق سے عبارت ہیں۔حضرت سید شاہ برکت اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ وہ بزرگ ہیں جن کے فیوض سے مارہرہ کی خاک نے تقدیس پائی۔پھر حضرت سید شاہ آل ل رسول احمدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے کو علمی و اصلاحی رنگ عطا کیا۔ان کے تلامذہ و خلفا نے بر صغیر کے گوشے گوشے میں علم و عرفان کے چراغ روشن کیۓ کسی نے منبرو محراب سے حق کی صدا بلند کی، کسی نے درس و تدریس کے ذریعے نسلوں کو قرآن و سنت کا پابند بنایا ،اور کسی نے تصنیف و تالیف سے دین کی آبیاری کی۔مارہرہ کی خاک

سے اٹھنے والی علمی خوشبو نے اردو، فارسی اور عربی ادب کو ایک نیا ذوق عطا کیا۔یہاں کے علماء نے جہاں شریعت و طریقت کی تفسیر کی وہیں ادب کو روحانیت کے سانچے میں ڈھالا۔حضرت خواجہ شاہ برکت اللہ کے ملفوظات ہوں یا حضرت سید شاہ ال رسول احمدی یا حضرت سید مصطفی حیدر حسن یا آل مصطفی رضی اللہ عنہم اجمعین کی تحریریں،سب میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم،عرفان الہی اور فکر اعتدال کا حسین امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نے ہمیشہ امت کو محبت ،رواداری، علم، عمل اور اخلاص کا پیغام دیا۔یہی وہ درگاہ ہے جہاں سے میانہ روی ،کا درس ملا۔ نہ غلو ،نہ جمود ،بلکہ ایک معتدل، روشن اور عمل پر مبنی اسلام۔یہ تعلیمات ہی دراصل تصوف کی روح ہیں: دلوں کو جوڑنا، نفوس کو پاک کرنا، اور انسان کو انسان بنانا۔صدیوں سے یہ خانقاہ صرف ذکر و فکر کا مرکز نہیں بلکہ ایک تحریکی و اصلاحی ادارہ ہے۔یہاں کے مشائخ نے ہمیشہ دین کی دعوت کو انسانیت کی خدمت کے ساتھ جوڑا کبھی وہ فقرائے شہر کے کام آئے کبھی امت کے فکری زوال پر قلم اٹھایا ،اور کبھی محبت و اتحاد کے نعرے کو زندہ کیا۔اسی( ۱۴، ۱۵، ۱۶ نومبر ۲۰۲۵ ء) کو جب اہل ایمان خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں صد سالہ عرس قاسمی کے موقع پر جمع ہوں گے، تو یہ محض ایک یادگار تقریب نہیں ہوگی، بلکہ صدیوں کے فیوض و برکات کی تجدید ہوگی۔یہ وہ لمحہ ہے جب روحانی نسبتوں کی تجدید، علمی پیغاموں کی بازگشت اور اخلاص و محبت کی خوشبو ایک بار پھر فضا میں مہکے گی۔مارہرہ مطہرہ کی اس خانقاہ کا پیغام واضح ہے "محبت کرو، علم حاصل کرو، اور ایمان کو حسن عمل سے مزین کرو"یہی پیغام ہمارے اکابرین کا تھا ،یہی آج بھی ہمارے لیۓ راہ نجات ہے۔

اللہ تعالی اس صد سالہ عرس قاسمی کو ملت اسلامیہ کے لیے خیر و برکت اتحاد و بیداری کا ذریعہ بنائے آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین

محمد علی شیر قادری نظامی

روضہ شریف ،مہوتری نیپال

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383