حضور شیر نیپال کی دینی خدمات اور اصلاحی کارنامے
محمد علی شیر قادری نظامی روضہ شریف ،مہوتری نیپال
لہنہ گاؤں، جنکپوردھام ،دھنوشا،نیپال۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں کی خاک بھی آج اپنے سینے میں ایک ایسے مرد خدا کی یاد سنبھالے بیٹھی ہے جو اپنی ذات میں ایک مدرسہ، ایک خانقاہ اور ایک روحانی درسگاہ تھا۔ وہ ہستی جسے اہل دل نے شیخ طریقت کہا، اہل ظاہر نے قاضی القضاۃ مانا، اہل علم نے مناظر اسلام سمجھا اور طالبان سلوک نے مرشد کامل پایا ۔وہ تھے مفتی جیش محمد صدیقی قادری برکاتی المعروف حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ۔ جن کی زندگی دینی بصیرت، علمی استقامت اور روحانی تباک کا حسین امتزاج تھی۔ ابتدا سے انتہا تک ان کی زندگی قرآن کے نور اور سنت مطہرہ کی خوشبو سے معطر رہی۔ حفظ قرآن سے لے کر فقہ و حدیث کی منزلوں تک، قرأت کی وادیوں سے مناظرہ و افتاء کی چوٹیوں تک، ہر میدان میں اللہ نے انہیں قبولیت عامہ عطا فرمائی۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ دلیل کے وزن ،محبت کے رس اور صداقت کے نور سے لبریز تھا ۔ حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کی دینی خدمات کا دائرہ وسیع اور ہمہ جہت تھا: بطور مفتی انہوں نے شریعت مطہرہکے مطابق بے شمار مسائل کے حل فرمائے۔ ان کے فتوے صرف قانونی رہنمائی نہ تھے ،بلکہ مزاج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی، بصیرت اور حکمت سے بھرپور ہوتے۔ باطل فرقوں اور گمراہ نظریات کے خلاف ان کے علمی مناظرے نیپال میں اسلامی اعتقاد کے استحکام کا ذریعہ بنے ۔مخالف بھی ان کی علمی قوت اور اخلاقی وقار کے قائل تھے۔ علاقے کی بستیوں میں ان کی آمد گویا روحانی بہار کا نزول تھی۔ ان کی صحبت سے دل بدلتے، گھروں میں ذکر جاری ہوتا، نوجوانوں کے سامنے مقصد حیات واضح ہوتا اور سماج میں دینی بیداری پھیلتی۔ایک مرشد کی حیثیت سے ان کے فیض یافتگان آج بھی اپنے اپنے علاقوں میں چراغ کی طرح روشن ہیں ۔وہ ذکر ،فکر ، محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اتباع سنت کی چاشنی ان کے دلوں میں انڈیل دیتے تھے ۔حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کی تعلیمات تین بنیادی اصولوں کے گرد گھومتی تھیں:(١) علم کے بغیر روحانیت ادھوری ہے (٢) محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلوک کی جان ہے (٣) بندگی میں اخلاص اور اخلاق میں نرمی۔وہ فرمایا کرتے:"جو دل علم دین سے خالی ہے، وہ سلوک کا سفر نہیں کر سکتا۔ نور کا راستہ علم ہی سے کھلتا ہے۔"ان کی محافل میں نعت و سلام کا چرچا ہوتا عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان کا نہیں کردار کا زیور تھا۔وہ سختیوں کے بجائے نرمی سے دل جیتنے کے قائل تھے۔ ہمیشہ کہتے :"جس نے اپنا اخلاق ٹھیک کر لیا اس نے اپنا دین محفوظ کر لیا۔"ان کے چھوڑے ہوئے نقوش آج بھی یاد دلاتے ہیں کہ: عالم کا رتبہ علم اور عمل دونوں سے ہوتا ہے ۔دین کی خدمت کے لیۓ شہرت نہیں، اخلاص ضروری ہے۔ روحانیت کا راستہ نفس کے خلاف جہاد سے کھلتا ہے ۔معاشرے کو محبت، عدل اور خیر خواہی سے سنوارا جا سکتا ہے ۔انہی تعلیمی وہ اصلاحی نقوش نے انہیں" شیر نیپال "کا لقب دیا ۔کہ وہ باطل کے سامنے شیر اور اللہ کے بندوں کے لیے سایۂ رحمت تھے۔ان کا وصال اہل دل کے لیے رنج کا لمحہ تو تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اولیاء جاتے نہیں،اپنے فیضان کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کا عرس مبارک ان کی یادوں، تعلیمات اور دعاؤں کا موسم بہار ہے۔ ایک ایسا موقع جب مریدین، عقیدت مند اور محبین ان کے فیوض کے سائے میں جمع ہوتے ہیں۔ عرس کے یہ ایام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ: ان کی زندگی کو اپنا نمونہ بنائیں، دین کے لیے اخلاص کے ساتھ کھڑے ہوں، اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کا وجود اس خطۂ نیپال کے لیے رحمت اور دین کے لیے مضبوط ستون تھا، و علم کے امین، شریعت کے ترجمان ،سلوک کے معلم، اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پروان تھے۔جبکہ ان کا عرس مبارک اسی ٢٥،٢٦نومبر٢٠٢٥ء مطابق۳،۴جمادی الاخری ۱۴۴۶ھ ہے تو دل ان کی یاد سے معطر اور نگاہیں ان کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہیں۔اللہ تعالی ان کے مزار انور پر رحمتوں کا نزول فرمائے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین۔
محمد علی شیر قادری نظامی
