بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستان(قسط دوم)
نور محمد خالد مصباحی ازہری برکاتی
وَضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ وَالمَسكَنَةُ وَباءوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِآياتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّينَ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ (-2البقرہ: 6 1)
(اور ڈالی گئی ان پر ذلت اور محتاجی، اور پھرے اللہ کا غضب لے کر۔ یہ اس لیے ہوا کہ نہیں مانتے تھے احکامِ خداوندی کو، اور خون کرتے تھے پیغمبروں کا ناحق۔ یہ اس لیے کہ نافرمان تھے اور حد پر نہ رہتے تھے۔)
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ ميرے معلومات کے مطابق جتنے انعامات واحسانات بني إسرائيل پر اللہ تعالی کی طرف سے کئے گئے ہیں شاید اتنے احسانات وانعامات دنيا كی اور كسي قوم پر کیا گیا ہو اُن کی شخصی تہذیب شہری اجتماعیت کے تربیتی مراحل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام كے جدوجہد کا بڑا دخل تھا ، لیکن ان کی اکثریت فرعونی غلامی کے اثرات سے باہر نہ نکل سکی۔ انہیں فرعون کی غلامی سے آزادی حاصل ہونے، تورات جیسی الہامی کتاب کے نازل ہونے، مَنّ و سلویٰ کے حاصل ہونے، جیسے بڑے انعامات کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے احکام الہیہ کی پاسداری نہ کر کے جرم عظیم کے مرتکب ہوئے اُن کی تعلیم و تربیت کو قبول نہیں کیا، بلکہ مسلسل اُن کی نافرمانی کرتے ہوئے بچھڑے کو معبود بنا لیا، دیدار خداوندی کا مطالبہ کیا۔ بستی میں داخل ہوتے وقت توبہ اور استغفار کے بجائے نافرمانی پر مشتمل الفاظ ادا کیے۔ ۔ نتیجتا اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیلیوں پر ذلت و مسکنت اور غضبِ الٰہی کا عذاب مسلط کر دیا۔ آیتِ مباکہ میں اُن پر اسی غضب الهی اور عذاب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
وَضُرِبَت علیھم الذلة والمسكنة :
کسی بہترین اجتماعی نظام کی تشکیل میں اعلیٰ فکر عزت و احترام امن و امان ۔ مستحکم سیاسی نظام، عدل و انصاف پر مبنی خوش حال معاشی نظام كا بڑا اہم کردار ادا ہوتا ہے۔ ان تینوں مذكوره جہت سے بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ہوئے، لیکن انھوں نے تورات کی تعلیمات کو پورے طور پر قبول نہ کیا۔ عدل و انصاف اور امن و امان کے بہترین سیاسی نظام کی پوری پاسداری نہ کی۔ معاشی عدل و انصاف کے منصفانہ نظام سے روگردانی کی۔ مَنّ و سلویٰ اور غذائی اَجناس کی ذخیرہ اندوزی کرکے معاشی ظلم و ناانصافی کے رویوں کا اظہار کیا۔ اس کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر تین طرح کے عذاب مسلط کیے۔
1۔ الذِّلَّةُ: سیاسی حوالے سے ذلت اور رُسوائی کا عذاب مسلط ہوا، یہاں تک کہ ان کے اس عادات و اطوار کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ہمیشہ کے لیے انہیں حکومت کی محرومی میں مبتلا کر دیا ۔ حكيم الامت حضرت علامه احمد يار خان نعيمي عليه الرحمة اس ايت مبارکہ كي تفسير ميں فرمائے ہیں کہ یہود پر ذلت و خواری لازم کر دی گئی کہ ان سے ہمیشہ کے لئے سلطنت چھین لی گئی اور ان کو مسلمانوں یا عیسائیوں کا غلام بنا ديا گیا، کسی یہودی کے پاس مال ہوا تو کیا وہ اپنی مستقل اور آزاد خود مختار ریاست سے بالکل محروم ہو گئے جو موجب عزت تھی اور آج بھی الحمد لله خود مختار ازاد رياست سے یہودی محروم ہیں اور صبح قيامت تک ان شاء الله محروم رہیں گے۔
2۔ المَسكَنَةُ: معاشی نا انصافی اور ظلم کے نتیجے میں ان پر معاشی حوالے سے مسکنت اور محتاجی مسلط کردی گئی۔ حكيم الامت حضرت علامہ احمد يار خان نعيمي عليه الرحمة اس آيت كي تفسير ميں فرمائے کہ یہود پر ہمیشہ دوسری حكومتوں کی طرف سے ٹیکس وغيره اس قدر لگتے رہیں گے کہ جس سے وه غریب رہیں گے یا ٹیکس کے خوف سے ہمیشہ اپنی غريبی ظاهر نہ کریں گے کہ کوئی ہم کو مالدار نہ جانے اور یہ بھی درست ہے کہ ’’تونگری بہ دل است نہ بہ مال معاشی آسودگی دل سے ہوتی ہے، نہ کہ مال سے۔ اس لیے کہ یہود مال دار ہو کر بھی محتاج ہی رہے اور ہیں ۔
3۔ وَباءوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ : کوئی قوم اعلیٰ تعلیم حاصل کرلینے کے باوجود اس پر پورے طور پر عمل نہ کرے تو وہ غضب ِالٰہی کی مستحق ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے پاس ایک اعلیٰ کتاب تورات الله كی طرف سے برہان بن کر نازل ہوئی، لیکن انھوں نے اس کی پورے طور پر پاسداری نہ کی۔ اس کے نتیجے میں اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا۔ علم کی صحیح قدر نہ کی جائے اور اس کے تقاضوں کے مطابق پورا عمل نہ کیا جائے تو وہ قوم ’’مغضوب علیہم‘‘ بن جاتی ہے۔
حكيم الامت فرماتے ہیں یعنی وہ رب کے بڑے ہی قہر کے مستحق ہو گئے کہ دنیاوی عزت اور آخرت کی جنت سے محروم رہے اور انبیاء کرام اور اولیاء کرام کی برکت سے جو رتبے انہیں حاصل ہوئے جاتے رہے۔
4۔ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِآياتِ اللَّهِ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی ترقی اور تہذیب اور انسانیت کی رہنمائی کے لیے کلامِ الٰہی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیا پر نازل کیا تھا، لیکن انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈالا، اس سبب سے وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہوئے۔ یہود کی پوری تاریخ اللہ کی آیات؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن حکیم کے انکار اور توہین پر مبنی رہی ہے۔
انہوں نے توریت کو بدل دیا اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ عذاب موسی علیہ السلام کے دور میں نہ آیا بلکہ موسی علیہ السلام کے بعد کے ادوار میں بنی اسرائیل پر پیش آیا۔
5 وَيَقتُلونَ النَّبِيّينَ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ :
یہودیوں نے بہت سے پیغمبروں کو شہید کیا جیسے کہ حضرت يوشع وزكريا وشعيب ويحی علیہم السلام اور بہت سے انبیاء کرام کو شہید کرنے کی کوشش کی جیسے حضرت عیسی عليه السلام اور خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر بھی دیا، ایک دفعہ تو ایک دن میں ان لوگوں نے 70 انبياء كوشهيد كيا.عيسي عليه السلام كو چند روپئے کی لالچ میں شہید کر نے کی کوشش کی حضرت زكريا ويحي عليهماالسلام كوصرف اس لئے شہید کیا کہ وقت کا بادشاہ اپنی سوتیلی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو ان حضرات نے اس کو حرام فرما ديا اور بادشاه کے خواہش کے موافق فتوی نہ دیا ۔
6۔ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ:
کوئی قوم ظلم، ناانصافی اور نافرمانی کو اپنا رویہ بنا لے تو وہ دنیا میں بھی عذاب کی مستحق ہوتی ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ بنی اسرائیل ’’عِصیان‘‘ و ’’عُدوان‘‘ پر کاربند رہے۔
’’عِصیان‘‘ یہ ہے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کی نافرمانی اور ان میں کمی اور کوتاہی کرنا۔ ’’عُدوان‘‘ یہ ہے کہ ظلم و ناانصافی کو اپنی عادت اور رویہ بنا لینا۔ اس اِفراط و تفریط اور ظلم و زیادتی کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر طرح طرح كا عذاب نازل فرمایا، كبھی ان پر اشوریوں و بابلیوں کو مسلط کر دیا تو کبھی بخت نصر بادشاہ کو مسلط کر دیا جس نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ہیکل سلیمانی کو مسمار کر دیا اور پورے فلسطین کو برباد کرکے چھوڑا مگر وہ اپنی حركتوں سے باز نہ آئے آخر ایک بار پھر سن 60 عیسوی میں رومی جنرل تائتس Titus)نے یہودیوں کو فلسطین سے بے دخل کرکے انہیں قیدی وغلام بناكر پایہ تخت روم لے گیا مگر دنیا کی یہ سب سے نافرمان قوم مکمل 2000 برس تک یورپ امریکہ شمالی افریقہ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی رہی، یہ جس بھی ملک میں گئے یا تو در بدر کئے گئے یا مار ڈالے گئے یا زندہ جلا دئے گئے، یورپ کے اکثر ممالک جيسے انگلینڈ ۔پولینڈ ۔نیدر لینڈ ۔جرمنی فرانس مشرقی یورپ ۔روس یوکرین اسپین پرتگال میں جاکر آباد ہو گئی پھر پندرہویں صدی میں امریکہ کے دریافت کے بعد یہودیوں کی اچھی خاصی آبادی کاروبار کی تلاش میں شمالی امریکہ جنوبی امریکہ چلی گئی، 2000 برس تک دنیا کے اکثر ممالک میں سخت مصائب و آلام جھیلنے کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ اب ہمیں دنیا میں باعزت رہنے کے لئے ایک وطن کی ضرورت ہے( مگر خدا جس قوم کے مقدر میں ذلت لکھ دے اسے کون عزت دے سکتا ہے )۔
اس لیے یہود یوں کے بڑے بڑے مفکرین نے انسويں صدي كے نصف میں صہیونیت تحريک کی بنیاد رکھی صہیونیت کے متعدد اقسام ہیں اور ہر قسم کا الگ الگ شخص بانی ہے صیہونیت کے چند اقسام مندرجہ ذیل ہیں:
1صہیونیت مذہبی 2صهيونیت ثقافتي 3 صہیونیت سیاسی سر دست میں صہیونیت سیاسی پر گفتگو کروں گا اور اسکے عزائم پر روشنی ڈالوں گا۔
تو جانتے ہیں کہ صہیونیت کی تعریف کیا ہے؟ صیہونیت ( Zionism) یہودیوں کی ایک قومی تحريک ہے جو یہودیوں کے لئے فلسطین میں ایک وطن کے قیام کی حمايت كرتي ہے اس تحريك کا بانی تھیوڈور ہرتزل تھا جس کی ولادت 1860عيسوي میں ہنگری (Hungry میں اور موت 1904عيسوی میں آسٹریا (۔Austria میں ہوئی تھی
1896 میں اس نے "یہودی ریاست" نامی کتاب لکھ کر دنیا بھر کے تمام یہودیوں کو فلسطین میں آکر آباد ہونے کا تصور پیش کیا ۔چنانچہ اسی تصور پر یہودیوں کا پہلا گروہ 1882 میں ارض مقدس یعنی فلسطین میں آکر آباد ہوا اس وقت کا فلسطین سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیین تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے حالات دن بدن بگرتے جا رہے تھے اس کے متعدد
وجوہات تھے جس پر مختصرا قسط اول میں میں نے روشنی ڈالی ہے ۔
پہلی جنگ عظیم میں جرمنGerman کے یہودیوں نے اپنے ملک جرمنی سے بے وفائی اور بد عہدی کرکے فریق مخالف برطانیہ کی خوب خوب مالی تعاون کی اور بدلے میں برطانیہ سے جنگ جیتنے کی صورت میں فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا خفیہ معاہدہ کر لیا بالآخر جنگ عظیم اول 1414 تا 1418 میں جرمنی اور اسکے اتحادی سلطنت عثمانیہ کو شکست فاش ہوئی۔ جنگ کے دوران ہی 1917 ميں برطانیہ نے بالفور اعلامیہ پاس کرکے دنیا بھر کے تمام یہودیوں کو فلسطین میں آکر آباد ہونے کی اجازت دے دی ۔چنانچہ دنیا بھر سے یہودی فلسطین آکر آباد ہونے لگے اور1936 آتے آتے فلسطین میں یہودیوں کی اچھی خاصی آبادی ہوگئی اسی سال 1936 میں یہودیوں اور عرب فلسطینوں کے مابین جنگ لڑی گئی مگر عرب فلسطینیوں کو اس جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا
یورپ اور امریکہ کی مدد سےمئی 1948میں دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک بنام اسرائیل وجود میں آیا اورفلسطین کو دو حصوں ميں بانٹ كر مغربی کنارہ west Bank اردن کے زیر کنٹرول اور غازہ پٹی مصر کے زیر کنٹرول كر ديا گیا
یوں1967 تک فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں چھوٹی بڑی جنگیں ہوتی رہیں بالآخر 1967میں اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین فلسطین کو غاصب یہودیوں کے پنجہ سے آزاد کرنے کیلئے 6 روزه معرکة الأراء جنگ لڑی گئی مگر اسرائیل یورپی اور امریکی ممالک کے جدید آلات حرب کی مدد سے یہ جنگ جیت گیا اور فلسطین کے بچے کھچے علاقے غازه پٹی اور مغربی کنارہ پر بھی قبضہ کر لیا مگر بعد میں مصر سے امن معاہدہ کرکے غزہ پٹی فلسطینیوں کو واپس کر دیا اور مغربی کنارہ پر یاسر عرفات کی کٹھ پتلی۔حكومت بنام۔ الفتح .كاقبضہ ہو گیا ( اس وقت مسلم ممالک شیعہ ۔سنی وہابی میں اپنا انرجی صرف کر رہے تھے انہیں ان چیزوں سے کوئی مطلب نہ تھا اگر مطلب تھا تو بریانی اور حلوه سے تھا یہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حال تھا اور ہے کہ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حديث
ميں فرمايا کہ جس نے نیزہ بازی سیکھ کر اسے بھلا دیا فھو لیس منا یعنی وہ ہماری امت سے نہیں ہے اور آج مسلمان جدید آلات حرب ميں انہیں یہود ونصاری کے محتاج ہیں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں یہود ونصاری کے مقابل۔صفر ہیں فتدبروا یا اولی۔الالباب )
ليكن یہودیوں نے اپنی عادت خبیثہ یعنی قتل وغارت گری فتنہ و فساد ۔ظلم و عدوان ۔کذب بياني.وعدہ شکنی۔ بے وفائی جو انکی حيات کا جزء لا ينفك ہے اسے فلسطینی عوام کے خلاف استعمال کرکے ظلم و بربریت کی حد کردی فلسطینیوں کو قید سلاسل کیا انہیں بلاوجہ گولیوں کا نشانہ بنایا ، بالآخر مصر کی اخوانی تحريك سے متاتر شیخ یسین کی قیادت میں 1987میں حركة المقاومة الإسلامية یعنی حماس كي بنيادي ڈالی گئی۔
جس کا بنیادی مقصد اسرائیلیوں کے ظلم و بربریت سے فلسطینیوں کو بچانا تھا جب اسرائیلیوں کاظلم حد سے بڑھا تو ایک کہاوت کے مطابق کہ بلی جب عاجز آتی ہے تو شیر پر بھی حملہ کر دیتی ہے آخر کار 7اكتوبر 2023 کو حماس نے ایک منظم پلان کے تحت طوفان الاقصی نام سے اسرائیل پر حملہ کر دیا اور آج دو برس سے زائد کا عرصہ ہوگیا عداوت کی یہ آگ نہ بھجی، مگر دنیا نے انکی شقاوت قلبی کا اس دو سالہ جنگ میں مشاہدہ کر لیا
اور انھوں نے اهل غزہ پر ظلم و بربریت کے جو پہاڑ توڑے ماضی قریب میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
الحمد لله آج بھی یہودی ایک آزاد ریاست سے محروم ہیں اور صبح قیامت تک محروم رہیں گے اگر ان کے آقا یورپ امریکہ 5 منٹ کے لئے ان سے دور ہو جائیں تو اسرائیل 5منٹ ميں دنیا کے نقشے سے مٹا ديا جائیگا اور آج بھی اسرائیل اپنے ہر فیصلے میں امریکہ و یورپ کا محتاج ہے اور یہی انکے غلامی کی نشانی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی آج تک آزاد ریاست قائم نہ کر پائے اور ان شاءالله صبح قيامت تک قائم بھی نہ کر پائیں گے۔
سچ فرمایا میرے رب نے ضربت عليهم الذلة والمسكنة۔۔جاری
9779811190536
