کربلا کا پیغام اور دور حاضر کی خواتین کی اصلاح
از قلم عالمہ قاریہ زینب فردوسی دختر نیک اختر جناب قمر الہدیٰ انصاری نیپال
اسلامی تاریخ میں واقعۂ کربلا حق، صبر، استقامت، حیا، وفاداری اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہر قربانی پیش کرنے کا عظیم ترین نمونہ ہے،
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے مردوں اور عورتوں کے لئے عملی درسگاہ ہے، جس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، اسی طرح اہلِ بیت کی عظیم خواتین نے صبر، عزیمت، علم، حوصلہ اور کردار کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گی، ان شاءاللہ عزوجل
آج جب معاشرہ مختلف فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنجز سے گزر رہا ہے، خصوصاً خواتین کے سامنے بے شمار آزمائشیں موجود ہیں، تو کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے،
کربلا اور خواتین کا عظیم کردار
کربلا کی تاریخ صرف شہادتوں کی تاریخ نہیں بلکہ عظیم خواتین کی استقامت کی بھی تاریخ ہے، انہوں نے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود صبر، وقار اور ایمان کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک باکردار خاتون اپنی زبان، اپنے اخلاق اور اپنے یقین سے پوری قوم کی رہنمائی کر سکتی ہے،
کربلا کی خواتین نے یہ سبق دیا کہ عزت و عصمت، حیا و وقار اور اللہ پر کامل بھروسہ ہر حال میں برقرار رہنا چاہئے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، مسلمان عورت اپنی شناخت اور اپنے دینی اصولوں پر ثابت قدم رہتی ہے
دورِ حاضر کی خواتین کو درپیش چیلنجز
آج کی دنیا میں ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ کئی ایسے رجحانات بھی پیدا ہوئے ہیں جو اخلاقی اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔ مادہ پرستی، نمود و نمائش، وقت کا ضیاع، سوشل میڈیا کا غیر متوازن استعمال، خاندانی نظام سے دوری اور دینی تعلیم سے غفلت ایسے مسائل ہیں جن کا اثر معاشرے پر نمایاں نظر آتا ہے،
اسلام خواتین کو علم حاصل کرنے، معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے اور خاندان کی بہترین تربیت کرنے کی ترغیب دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ حیا، عفت، اخلاق اور ذمہ داری کو بھی بنیادی حیثیت دیتا ہے،
کربلا کا اصلاحی پیغام
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ:
حق پر قائم رہنا ہی کامیابی ہے،
اللہ کی رضا دنیا کی ہر کامیابی سے بڑھ کر ہے،
صبر اور استقامت ایمان کی علامت ہیں،
عورت کا اصل حسن اس کے کردار، علم اور حیا میں ہے،
بہترین نسلوں کی تربیت ایک صالحہ ماں اور معلمہ ہی کر سکتی ہے،
اگر آج کی خواتین اپنے گھروں میں دینی ماحول قائم کریں، بچوں کی اسلامی تربیت کریں، علم و اخلاق کو فروغ دیں اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں تو پورا معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے
معلمات کی خصوصی ذمہ داری
مدرسہ، اسکول اور تعلیمی اداروں میں
خدمات انجام دینے والی معلمات صرف کتابیں نہیں پڑھاتیں بلکہ نسلوں کی تعمیر کرتی ہیں، ان کے اخلاق، لباس، گفتگو، عبادت اور کردار سے طالبات متاثر ہوتی ہیں،
ایک کامیاب معلمہ وہ ہے جو طالبات میں علم کے ساتھ ساتھ ادب، احترام، حیا، خدمتِ خلق، سچائی اور محبتِ رسول ﷺ پیدا کرے، وہ اپنے عمل سے یہ پیغام دے کہ اسلام علم اور کردار دونوں کا نام ہے،
عملی تجاویز
روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کے مفاہیم پر غور کیا جائے،گھروں میں نماز اور دینی تعلیم کا ماحول بنایا جائے،
بچوں خصوصاً بچیوں کی اخلاقی تربیت پر
خصوصی توجہ دی جائے،
سوشل میڈیا کا استعمال علم، دعوت اور خیر کے لئے کیا جائے،
حیا، سادگی، عفت اور حسنِ اخلاق کو اپنی شخصیت کا حصہ بنایا جائے،
معاشرے میں خیرخواہی، خدمت اور اتحاد کو فروغ دیا جائے،
واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا، لیکن اسی راستے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور حقیقی کامیابی پوشیدہ ہے، آج کی مسلمان خواتین اگر کربلا کے پیغام کو اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرلیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہیں،
رب قدیر ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہلِ بیتِ اطہار کی سیرت سے اخلاص، صبر، استقامت، حیا اور تقویٰ کی روشنی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور معلمات کو دین و دنیا میں کامیاب فرمائے، آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
آمین یا رب العالمین، بجاہ سید المرسلین ﷺ
