اداریہ
بہارانتخابات اور مسلمان !!
عبدالجبار علیمی نظامی
abdul jabbar alimi nepali
حالیہ دنوں پڑوسی ملک ہندوستا ن کے صوبہ بہار کے سیاسی افق پر انتخابی بگل بج چکا ہے، ہر طرف دھول اڑ رہی ہے، ہر جماعت اقتدار کی دوڑ میں شامل ہے ،ایک طرف ہندوستان کی حالیہ حکومت بی جے پی اپنی پوری توانائی کے ساتھ بہار کے حالیہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی کو جتانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا ئے ہوئے ہے تو دوسري طرف آر جے ڈی اور انڈیا اتحادی پارٹیاں بہار ميں تیجسوی یادو کی سرکار بنانے کے لیے مہم تیز کئے ہوئے ہیں ۔
وہیں پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج اپنے جیت کی دعویداری پیش کر رہی ہے تو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین بھی میدان میں کمرکسے ہوئے ہے، بہار کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اگر کسی ایک زاویے کو بنیاد بنایا جائے تو وہ ذات برادری ہے، یہاں کی سیاست پر نظریات کی روشنی سے زیادہ ذات برادری کا سایہ گہرا نظر آتا ہے۔
انتخابی مہمات ہوں یا امیدواروں کی نامزدگیاں، یر فیصلے اسی پیمانے ہر کیا جاتا ہے کہ کس برادری کی تعداد کہاں کتنی ہے اور وہ کس کے ساتھ جا سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں مسلمان ایک بڑی مگر منتشر سیاسی قوت کے طور پر موجود ہیں —
ایک ایسی قوت جو ہر انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں مگر اسکے باوجود اپنے اثر سے بےخبر دکھائی دیتے ہیں ۔.
بہار میں مسلمان ہمیشہ ایک ووٹ بینک کی طرح رہے ہیں۔ کئی حلقوں میں ان کی آبادی کا تناسب نتائج بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ صورتِ حال صرف سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔
مسلم ووٹر جذباتی ہیں، وہ انصاف اور مساوات کے نعروں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ وہ دل سے ووٹ دیتے ہیں، دماغ سے حساب نہیں لگاتے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ووٹ کی تقسیم کا انجام کس کے حق میں جائے گا۔ یہی رویہ ان کی سیاسی قوت کو کمزور کرتا آیا ہے، اگر ان میں اجتماعی سوچ پیدا ہو جائے، اگر وہ اپنے ووٹ کو اصولی بنیاد پر استعمال کریں، تو بہار کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔
یہ ایک دلچسپ مگر تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت سیاسی طور پر جس کے خلاف ووٹ دیتی ہے، عملی طور پر نتیجہ اسی کے حق میں جاتا ہے۔ اس کی وجہ کسی کو جتانے کی نیت نہیں بلکہ اتحاد کی کمی اور غیر منظم سیاسی شعور ہے۔ ان کے ووٹ کا رخ ہر علاقے اور طبقے میں مختلف ہوتا ہے ۔ کہیں مذہبی وابستگی، کہیں مقامی رشتہ داری، اور کہیں امیدوار کی ذاتی ساکھ اثر انداز ہوتی ہے۔ نتیجتاً ووٹ تقسیم ہو جاتے ہیں اور وہ طاقت جس کے خلاف وہ کھڑے ہوتے ہیں، مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
۔ لوگ پارٹی یا منشور کے بجائے برادری دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں۔ نظریہ محض رسمی حیثیت رکھتا ہے۔ کوئی امیدوار چاہے ترقی کی کتنی ہی بات کرے، اگر وہ مخالف ذات سے ہے تو اس کے لیے ووٹ دینا دشوار سمجھا جاتا ہے۔ یہی حقیقت ریاست میں جمہوری شعور کے محدود ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
اب ایسی صورت میں بہار کے انتخاب پرنہ صرف ہندوستان بلکہ پڑوسی ممالک کی بھی نظریں جمی ہوئی ہیں ، چوں کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یوپی اور بہار کے انتخابات حکومتوں کے فیصلے کرتے ہیں ، چوں کہ یہاں کا انتخابی مہم جو بھی ہو لیکن زیر اقتدار بی جے پی کسی صورت اس انتخاب کو جیتنے کی کوشش کرے گی ، وہیں انڈیا اتحاد کے سربراہ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے جو پیغام محبت دیا تھا کیا اس پیغام کو عوام یاد رکھے گی؟
آنے والے 14 نومبر کو دیکھنا دل چسپ ہوگا کہ صوبہ بہار میں کس کے سر سہرا سجتا ہے، نتیش کمار یا تیجسوی یادو
