ایک قتل… اور ہماری اجتماعی بے حسی
ہندوستان کی سرزمین تقریبا 20 سالوں سے جس طرح سے رنگ بدلی ہے ہر کس و ناکس پر عیاں ہے ، ہندوستان میں مسلم اقلیت پر ظلم و جبر کی داستان بہت لمبی ہے ،یہ سرگرمی اس وقت مزید برق رفتاری سے بڑھی جب سے بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی آئے دن مسلم نوجوانوں کا قتل ، کہیں ماب لنچنگ کے نام پر تو کہین دیگر معاملات میں ، ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی وہ فضا جس کو گنگا جمنی تہذیب کا عکس کہا جاتا تھا وہ کہیں دور نکل گئی ہے ۔
حالیہ دنوں جس طرح سے حضرت مولانا توصیف رضا علیہ الرحمہ کو چلتی ٹرین میں شہید کیا گیا یہ کوئی عام حادثہ نہیں بلکہ پوری ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اس حادثے نے کئی ایک سوال پیدا کئے ہیں جیسے کہ امت مسلم کی رہنمائی کرنے والے کب خوب غفلت سے بیدار ہوں گے کب تک اس طرح سے مسلم معاشرے کو تباہ کرنے کا وزن چلایا جاتا رہے گا؟ کب تب ہمیں ماب لنچنگ اور دہشت گردی کے نام پر پریشان کیا جائے گا ؟ اب بھی نہ جاگے تو کب جاگیں گے؟ مولانا توصیف رضا کا بہیمانہ قتل کوئی ایک فرد کی جان کا ضیاع نہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا—مگر کیا واقعی ہمای جاگے ہیں؟ یا حسبِ معمول چند دن کے غم، کچھ جذباتی بیانات، اور پھر خاموشی…؟ یہ لمحہ محض افسوس یا مذمت کا نہیں، بلکہ سنجیدہ خود احتسابی کا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر وہ کون سی کمزوریاں ہیں جنہوں نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا کہ ہمارے درمیان اہلِ علم، اہلِ دعوت اور اہلِ اصلاح بھی محفوظ نہیں رہے۔ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اتحاد کو زندہ کریں۔ مسلکی، گروہی اور ذاتی اختلافات اپنی جگہ، مگر جب معاملہ امت کے وقار، علماء کی حرمت اور اجتماعی سلامتی کا ہو تو ہمیں ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔
اختلاف رائے اپنی جگہ ایک علمی حسن ہے، مگر انتشار اور تفرقہ ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔
دوسری اہم بات—ہمیں قانونی اور پرامن جدوجہد کا راستہ اپنانا ہوگا۔ غصہ اور اشتعال وقتی تسکین تو دے سکتا ہے، مگر مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آئینی و قانونی راستے اختیار کریں، ذمہ داروں کے خلاف منظم، مہذب اور مؤثر آواز اٹھائیں، اور یہ پیغام دیں کہ ظلم کے خلاف ہماری خاموشی اب ٹوٹ چکی ہے۔
تیسری بات—تعلیم و شعور۔ ایسے سانحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری نئی نسل کو محض جذبات نہیں، بلکہ بصیرت کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے مدارس، مساجد اور گھروں میں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں دین کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری، صبر، حکمت اور امن کا پیغام بھی مضبوطی سے دیا جائے۔
چوتھی بات—علماء اور دینی شخصیات کا احترام اور تحفظ۔ جو لوگ دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں کھپا دیتے ہیں، ان کی عزت و حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا—نہ صرف زبانی طور پر، بلکہ عملی طور پر بھی۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں: کیا ہم صرف واقعات کے بعد جاگتے ہیں؟ یا ہم ایسا نظام، ایسی سوچ اور ایسی وحدت پیدا کر سکتے ہیں جس سے آئندہ ایسے سانحات کا راستہ روکا جا سکے؟ مولانا توصیف رضا کا خون ہمیں پکار رہا ہے— کہ ہم بیدار ہوں، متحد ہوں، اور حق و انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہوں—مگر حکمت، صبر اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اس سانحے کو محض ایک خبر بن کر نہیں رہنے دیں گے، بلکہ اسے اپنی اصلاح، اپنی بیداری اور اپنی اجتماعی قوت کا نقطۂ آغاز بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
#MolanaTauseefRaza
#JusticeForTauseefRaza
#StandForJustice
#UnityOfUmmah
#StopViolence
#nepalurdutimes
#stopkilling
✍️ آفتاب عالم گوہر قادری واحدی
