مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مدھیش پردیش حکومت کا سخت مؤقف، قانونی کارروائی کا اعلان
نمائندہ نیپال اردوٹائمز
احمدرضاابن عبدالقادراویسی
جنک پور
حکومت نیپال نے مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہےجنوری 2026 کو دھنوشہ کے علاقے کملا میونسپلٹی (سکھوا مارن) میں ایک گروہ نے مبینہ طور پر مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور مذہبی کتب کو نقصان پہنچایا۔دھنو شا میں مسجد کی توڑ پھوڑ اور قرآن مجید نذر آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعے کے خلاف مدھیش پردیش میں اتوار کی صبح سے مسلم برادری سراپا احتجاج بن گئی ، جس کے نتیجے میں شہر کی فضا شدید کشیدگی کا شکار ہو گئی۔ وزارت داخلہ میں منعقد ہونے والے مرکزی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے افراد یا گروہوں کو ہر صورت قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مقامی انتظامیہ فعال اور ہم آہنگ کردار ادا کرے گی، جبکہ صوبائی اور مقامی حکومتوں سے بھی اسی نوعیت کے مؤثر تعاون اور رابطہ کاری کی اپیل کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران مختلف مذہبی برادریوں کو نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر کی جانے والی غلط، گمراہ کن اور اشتعال انگیز تبصروں اور ایسے واقعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا جو دوسرے مذاہب کے احترام کو مجروح کرتے ہیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان آنند کوئرالا کے مطابق اجلاس میں مذہبی سرگرمیوں اور ان سے جڑے حساس معاملات پر مزید تفصیلی گفتگو کے لیے پیر کے روز وزارت داخلہ میں قومی انسانی حقوق کمیشن، دیگر آئینی اداروں اور سلامتی کے اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور سماجی امن کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا اور اس مقصد کے خلاف کام کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
