Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دھنوشا، نیپال میں مسجد و قرآن کی بے حرمتی کیے جانے کے بعد ملک بھر کے عوام میں غم و غصہ اور احتجاجی م

دھنوشا، نیپال میں مسجد و قرآن کی بے حرمتی کیے جانے کے بعد ملک بھر کے عوام میں غم و غصہ اور احتجاجی م

05 Jan 2026
1 min read

دھنوشا، نیپال میں مسجد و قرآن کی بے حرمتی کیے جانے کے بعد ملک بھر کے عوام میں غم و غصہ اور احتجاجی مظاہرے 

نمائندہ نیپال اردوٹائمز 

احمدرضاابن عبدالقادراویسی 

جنک پور

 3 جنوری 2026 کو دھنوشہ کے علاقے کملا میونسپلٹی(سکھوا مارن) میں ایک گروہ نے مبینہ طور پر مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور مذہبی کتب کو نقصان پہنچایا۔دھنوشا میں مسجد کی توڑ پھوڑ اور قرآن مجید نذر آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعے کے خلاف مدھیش پردیش میں اتوار کی صبح سے مسلم برادری سراپا احتجاج بن گئی ، جس کے نتیجے میں شہر کی فضا شدید کشیدگی کا شکار ہو گئی ۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ دھنوشا کملا نگر پالیکا 6 سکھوا مارن کے مسلم ٹول میں واقع مسجد میں پیش آیا، جہاں نا معلوم شر پسند عناصر نے مقدس مسجد میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی نیز قرآن مجید کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نذر آتش کر دیا۔ واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوامی جذبات بھڑک اٹھے،بیر گنج (ضلع پارسا) اور جنک پور سمیت مختلف علاقوں میں مسلم کمیونٹی نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کر دی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد بیر گنج کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گھنٹہ گھر، مرلی اور چھپکیاکے عید گاہ چوک سمیت کئی مقامات پر مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلائے اور شدید نعرے بازی کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ احتجاج کے دوران چھپکیا عید گاہ چوک پر مظاہرین اور پولس کے درمیان معمولی جھڑپ بھی ہوئی۔ صورتحال کے قابو سے باہرہونے پر پولس نے امن و امان قائم رکھنے کے لیے پانچ راؤنڈ آنسو گیس فائر کی ۔ اس کارروائی کے دوران ایک پولس اہلکار معمولی زخمی بھی ہوا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسجد کی بے حرمتی اور قرآن مجید کو جلانا صرف ایک مذہبی طبقے پر حملہ نہیں بلکہ ملک کے امن، باہمی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے، تا کہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام ہو سکے۔  مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انصاف میں تاخیر کی گئی تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383