Feb 7, 2026 06:10 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خانقاہوں کی حقیقت واہمیت ایک جائزہ

خانقاہوں کی حقیقت واہمیت ایک جائزہ

05 Jan 2026
1 min read

خانقاہوں کی حقیقت واہمیت ایک جائزہ

محمد علی شیر قادری نظامی

سکونت: روضہ شریف، مہوتری نیپال

کبھی صدیوں پہلے، تہذیبوں کے شور اور دنیا کے ہنگامے سے دور، ایک ایسی دنیا آباد تھی جہاں انسان اپنے اندر کے سفر پر روانہ ہوتا تھا۔ یہ دنیا خانقاہ کہلاتی تھی—ایک ایسی سرزمین جہاں قدم رکھ کر دل کو تڑپ، روح کو سکوت، اور عقل کو سمت ملتی تھی۔جہاں در و دیوار مٹی کے تھے مگر فضا نور کی تھی۔

جہاں عاجزی تخت تھی اور خدمت تاج۔جہاں چٹائی پر بیٹھا ہوا فقیر بادشاہوں سے زیادہ قیمتی لگتا تھا۔آج، جب ہم اسی خانقاہ کے دروازے پر آ کر رکتے ہیں،تو دل یہ پوچھتا ہے:کیا وہی روشنی آج بھی موجود ہے؟کیا وہی خوشبو آج بھی مہکتی ہے؟یا خانقاہیں بھی دنیا کی دھول میں کہیں کھو گئیں؟ماضی کی خانقاہیں زبانِ حال سے یہ کہتی تھیں کہ:“اے مسافر! اگر تُو دنیا سے تھک جائےتو یہاں آ جا،یہاں دلوں کو مرہم ملتا ہے،یہاں آنکھیں بخشش کی بارش میں بھیگتی ہیں،یہاں انسان اپنے آپ کو پاتا ہے۔”ان خانقاہوں میں ذکر کی گونج دلوں کو مصفّا کرتی،شیخ کی صحبت کردار کو جِلا دیتی،درس و تعلیم عقل کو جلا بخشتی،خدمتِ خلق انسانیت کو تازہ کرتی،اور عبادت کی سکینت روح کو مطمئن کرتی تھی۔وہ خانقاہیں انسان کو اندر سے بدل دیتی تھیں۔وہاں آنے والا درویش بن کر جاتا نہ تھا،بلکہ بہتر انسان بن کر لوٹتا تھا۔آج کی خانقاہیں دو رنگوں میں دکھائی دیتی ہیں—کہیں وہی نور کی آبشار ہےاور کہیں قصوں کی گرد میں چھپی ہوئی دھندلی یاد۔(١)  آج بھی کچھ ایسی خانقاہیں ہیں جس میں ماضی کی جھلک باقی ہے۔جہاں سادگی ہے،اخلاص ہے،علم ہے،ذکر کی حرارت ہے،اور اصلاح کا سوز ہے۔ان خانقاہوں میں انسان آج بھی بدلتا ہے،اس کی نگاہ نرم ہوتی ہے،اس کا دل روشن ہوتاہے،اور وہ اللہ سے قریب ہوتا ہے۔یہ خانقاہیں ماضی کی گونج ہیں،وہی پرانے چراغ آج بھی سورج کی طرح جگمگا رہے ہیں(٢) لیکن  پھر کچھ خانقاہیں ایسی بھی ہیں جہاں:میلوں ٹھیلوں قوالیوں نذرانوں اور ظاہری رسوم نے روحانیت کی جگہ لے لی ہے۔جہاں دلوں کی تطہیر کے بجائے ہجوم کا شور ملتا ہے۔جہاں تصوف کا گہرائی بھرا سوزصرف کتابوں کے جملوں میں باقی ہے،

دلوں میں نہیں۔اصل مقصد سے دوری کیوں؟یہ سوال ایک درد بھرا تجزیہ مانگتا ہے۔چند بنیادی اسباب دل پر دستک دیتے ہیں:(١) باطن کی جگہ ظاہر کا غلبہ یعنی جب خانقاہ کا محور تقویٰ اور تزکیہ کےبجاۓ محفلوں اور تقریبات کا شور بن جائے،تو باطن کی روشنی بجھنے لگتی ہے۔روحانیت خاموشی میں پروان چڑھتی ہے—شور میں نہیں.(٢) شیخ و مرید کے رشتے کی کمزوری یعنی ماضی میں شیخ وہ چراغ تھا جس سے سینکڑوں چراغ جلتے تھے۔آج کئی جگہ شیخ کی شخصیت رسمی،اور مرید کی طلب کمزور ہو چکی ہے۔تربیت کا یہ رشتہ کمزور ہوتو روحانیت کا سفر بھی سطحی ہو جاتا ہے۔(٣) دنیا داری اور نمائش کا ہلکا مگر زہر آلود سایہ جب تصوف کا لباس زیبِ تن ہومگر دل دنیا کے بوجھ تلے دبا ہوتو خانقاہ کا نور متاثر ہوتا ہے۔صوفی کی اصل پہچان سادگی تھی—آج کئی جگہ نمائش نے اس سادگی کو اوٹ میں لے لیا ہے۔(٤) علم و بصیرت کی کمی اور فکری جمودیعنی ماضی کے صوفی قرآن و حدیث کے شناور تھے۔آج زیادہ تر خانقاہوں میں علم کا وہ درجہ باقی نہیں رہا،اسی لیے تربیت میں بھی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔علم کمزور ہو تو روحانیت محض جذبہ رہ جاتی ہے—

نظام نہیں۔(٥) نوجوانوں سے مکالمےکا دروازہ بند ہو جانایعنی آج کا نوجوان سوال پوچھتا ہے۔وہ دلیل مانگتا ہے۔وہ سمجھنا چاہتا ہے۔اگر خانقاہیں اس کی ذہنی تشنگی بجھانے کے قابل گفتگو پیدا نہ کریں تو نوجوان کی راہ بدل جاتی ہے،اس کا سفر روحانیت سے نہیں،بلکہ زمانے کے شور سے جڑ جاتا ہے۔(٦) مجاہدۂ نفس کی کمزوری یعنی تصوف کی بنیاد مجاہدہ ہے—اور مجاہدہ قربانی چاہتا ہے۔آج کی خانقاہوں میں وہ سختی،وہ محنت اور وہ ریاضت کم دکھائی دیتی ہےجو ماضی میں روحانی ترقی کا زینہ تھی۔کیا خانقاہ کا چراغ بجھ گیا؟ نہیں!سچ یہ ہے کہ چراغ بجھا نہیں،بس دھیمی ہوا میں ٹمٹما رہا ہے۔اگر اس پر ہاتھ کی اوٹ کر دی جائےتو لو پھر جوان ہو سکتی ہے۔آج بھی:اگر علم کو پھر سے مقام دیا جائے،اگر شیخ و مرید کا رشتہ سچا ہو جائے،اگر تصوف کو سادگی اور خدمت کی پٹڑی پر لایا جائے،   تو خانقاہیں ایک بار پھرانسانیت کی تربیت اور روحانیت کی بیداری کا مرکز بن سکتی ہیں۔خانقاہ دراصل وہ ہےجہاں انسان اپنے “میں” کو مٹا کراللہ کی رضا میں پگھل جائے۔اگر دل روشن ہوتو کچی جھونپڑی بھی خانقاہ ہے—اگر دل بجھا ہوتو سنگِ مرمر کی عمارت بھی بے نور۔دنیا میں بہت کچھ بدل گیا ہے،مگر انسان کی روح آج بھی روشنی چاہتی ہے۔اگر خانقاہیں اپنی اصل روح—اخلاص، علم، خدمت اور تزکیہ—دوبارہ پہچان لیں تو یہ دنیا پھر سے آباد ہوسکتی ہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو علم ،تقوی ،اور اخلاص سے مزین کریں، سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا سیکھیں، اور ایسے لوگوں سے بچیں جو دین کو کاروبار بنا چکے ہیں ۔صرف سچا علم اور خالص نیت ہی امت کو دوبارہ اتحاد ،عزت، اور امن کی راہ پر لا سکتی ہے۔

خادم علم و تدریس: مدرسہ اقبالیہ برکاتیہ

، لوہار پٹی نگر پالیکا، مہوتری نیپال

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383