Feb 7, 2026 10:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اسلام حال دیکھتا ہے! ماضی و استقبال نہیں

اسلام حال دیکھتا ہے! ماضی و استقبال نہیں

02 Nov 2025
1 min read

اسلام حال دیکھتا ہے! ماضی و استقبال نہیں

از قلم: جمال اختر خان نظامی اشرفی

خادم اہل سنت رحمانیہ مسجد

 بانی وسربراہ اعلی جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ انگلش اینڈ اسلامک انسٹیٹیوٹ 

ڈونگرا واپی گجرات 

دنیا کی اس چمک دمک اور فتنہ و فساد سے بھری فضا میں آج ایک بڑی صورتِ حال سامنے آرہی ہے کہ اگر کوئی بندہ راہ ہدایت پر آجائےاپنے پرانے گناہوں غلط حرکتوں اورناپسندیدہ وطیروں کو چھوڑ دےدین کی طرف رجوع کرے نماز و توبہ و استغفار کی راہ اختیار کرےتو بجائے خوشی و تحسین کےلوگ طعن وملامت کا نشانہ بنا دیتے ہیں زبانوں سے یہ جملے سننے کو ملتے ہیں دیکھو یہ تو وہی ہے نا جو پہلے ایسا تھا سو چوہا کھا کے بلی چلی حج کو یا یوں بولا جاتا ہے ارے اسے بھی اب دینداری سوجھی ہے یہ تو کل تک شراب و شباب میں غرق تھا حالانکہ قرآن مجید میں متعدد بار متعد الفاط میں صاف طور پراعلان موجود ہے مَن يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَن يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ

یعنی جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

 یہ آیت مبارکہ ایک فیصلہ کن اصول طے کرتی ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میںہےجب وہ اپنے فضل و کرم سے کسی کو توبہ کی توفیق دے دے تو ساری دنیا بھی اس کے ماضی کے خلاف بولتی رہے تو کچھ بگاڑ نہیں سکتی اسلام کا مزاج ماضی پر نہیں بلکہ حال پر فیصلہ کرنے کا ہے اگر اسلام ماضی اور استقبال (آئندہ) کو دیکھ کر فیصلہ کرتا تو آج حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی علنہ کو خلافت ثانیہ کی تاج پوشی نصیب نہ ہوتیوہی عمر جن کے تلوار کے وار کبھی اسلام کے خلاف اٹھتے تھے مگر جب اللہ نے نورہدایت عطا فرمایاتو وہی تلوار اسلام کے دفاع کی علامت بن گئی اگر ماضی کو بنیاد بنایا جاتا تو حضرت خالد بن ولیدسیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار نہ کہلاتے یہی تو اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ کسی کے کل کو نہیں بلکہ آج کو دیکھتا ہے اس کے دل کی کیفیت اس کے اعمال کی سمت اور اس کی نیت کی سچائی کو پرکھتا ہے  اسلام کا یہ عدل و انصاف کا اصول ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کو حال کے آئینے میں دیکھوماضی کے دھندلکوں میں نہیں

مگر افسوس! آج اس اصول کو ہم نے بھلا دیا ہے یہاں تک کہ اس بیماری میں بعض اہل علم بھی مبتلا دکھائی دیتے ہیں

اگر کوئی عالم دین زمانے کی رفتار کے ساتھ اپنی علمی فکری اور دینی پیش رفت میں ترقی کرے نئے ذرائع ابلاغ کو دین کی خدمت کے لیے استعمال کرے، تو کچھ لوگ طعنہ زنی پر اتر آتے ہیںیہ تو پڑھائی کے زمانے میں ایسا تھا ویسا تھا اب بڑا متقی بن بیٹھا حالانکہ یہ سوچ سراسر جہالت ہے کیا تمہیں علم ہے کہ رب کب کہاں اور کس لمحے اپنے کسی بندے پر اپنی رحمت کا دروازہ کھول دے اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کسی شے کی کمی نہیں جب وہ کسی پر کرم کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے ولایت کی سڑکیں ہموار کر دیتا ہے تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ حضرت بشر حافیؒ جیسے لوگ جو کبھی شراب کے کارخانے چلاتے تھے ایک لمحے کی توبہ پر اولیاء کی صف میں شامل کر دیے گئے یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ جب چاہے گناہوں کے تاجر کو بھی ایمان و ولایت کا وارث بنا دےکسی کے ماضی کی گہرائیوں میں جھانکنے کے بجائے اس کے حال کے نور کو دیکھو اگر آج وہ نیک ہےتائب ہےصالح ہے تو تمہارا فریضہ ہے کہ اس کے لیے دعائے استقامت کرو نہ کہ تمسخر و طعنہ اسلام کا دستور یہی ہے اور یہی ہے نظام مصطفی کا عدل و توازن

إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنِ عِبَادِهِ

بیشک اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہےپس یاد رکھواسلام حال پر فیصلہ کرتا ہے ماضی کے داغوں پر نہیں جو آج اللہ کے قریب ہےوہی کل تم سے بہتر ہے اور جو آج تم سے کمتر لگ رہا ہے شاید کل وہ اللہ کا مقرب بن جائے اسی لیے مومن کا شیوہ یہی ہے کہ وہ ماضی نہیں حال دیکھ کر رائے قائم کرےیہی اسلام کا دستور ہے یہی مصطفوی نظام کی روح

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383