Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا سایہ اور قوم کی بیداری کی ضرورت:تحریر: امیر الدین خان شیرانی

اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا سایہ اور قوم کی بیداری کی ضرورت:تحریر: امیر الدین خان شیرانی

04 Dec 2025
1 min read

اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا سایہ اور قوم کی بیداری کی ضرورت

تحریر: امیر الدین خان شیرانی

جامعہ اہلسنت حنفیہ فیضانِ رضا، واپی (گجرات)

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد محبت، اخوت اور آپسی بھائی چارہ ہے مگر آج کچھ شرپسند عناصر اور مخصوص میڈیا کی منفی ذہنیت نے اسلاموفوبیا کو ایک خطرناک مہم بنا دیا ہے۔ وہ ملک جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب ساتھ ساتھ رہتے آئے، وہاں ایک خاص طبقہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور عدمِ اعتماد کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ چند نیوز چینل اپنے اسٹوڈیوز کو عدالت اور منبر بنا بیٹھے ہیں، بعض اینکر ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے مسلمان اس ملک کے مجرم ہوں۔ معمولی واقعات کو مذہب سے جوڑ کر نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا جاتا ہے اور یہی آج کے اسلاموفوبیا کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر فرضی ویڈیوز، جھوٹے بیانات اور گمراہ کن پوسٹس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف عوامی ذہن مسموم کیا جا رہا ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ عوام روزگار، تعلیم اور مہنگائی جیسے حقیقی مسائلسے توجہ ہٹا کر مذہبی انتشار میں الجھ جائیں۔ ایسی سیاست میں نہ انسانیت کا احترام ہے اور نہ ملک کی ترقی کا مفاد، صرف تقسیم، نفرت اور اقتدار کی ہوس ہے۔ اسلام جس نے دنیا کو امن، محبت، علم، انصاف اور بھائی چارے کا پیغام دیا، آج اسی دین کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ہندوستان کی خدمت کی ہے، چاہے وہ آزادی کی قربانیاں ہوں یا ملکی ترقی میں کردار، مگر افسوس آج انہی کی حب الوطنی مشکوک بنائی جا رہی ہے۔ ظلم کو تقویت دینے والی سب سے بڑی چیز خاموشی ہے۔ اگر قوم خاموش ہو جائے تو اس کے حقوق دوسروں کی مرضی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ آج ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ لڑائی نفرت کی نہیں، شعور اور حق کی لڑائی ہے۔ ہمیں سچ بولنا، سچ پھیلانا، جھوٹے پروپیگنڈے کا علمی اور قانونی جواب دینا ہوگا، نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور ٹیکنالوجی سے مضبوط کرنا ہوگا اور اپنے کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ مسلمان اس ملک کے امن کے سفیر ہیں۔ اللہ جنہیں عزت اور مقام دیتا ہے، انہیں قوم کی رہنمائی کا فریضہ بھی سونپتا ہے۔ آج ضرورت ایسے معزز رہنماؤں کی ہے جو بے خوف ہو کر حق بات کریں، قوم کو بیدار کریں، اور نوجوانوں کو ایک مضبوط مستقبل کی طرف لے جائیں۔ جب قوم ایک آواز بن جائے گی تو نہ میڈیا کا شور ہماری شناخت مٹا سکے گا اور نہ کوئی شرپسند ہمارا وقار چھین سکے گا۔ ہم اسی دھرتی کے بیٹے ہیں، ہماری سانسیں، ہمارا پیار اور ہماری محنت اسی وطن کے نام ہے۔ ہمارا وجود اس ہندوستان کی پہچان ہے — اور یہ پہچان کسی کے رحم و کرم کی محتاج نہیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383