Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مسلم خواتین اور اسلام

مسلم خواتین اور اسلام

27 Nov 2025
1 min read

مسلم خواتین اور اسلام

 از:ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی(تاراپٹی،نیپال)

 حالیہ دنوں کچھ حلقوں میں، بالخصوص وزیر اعظم سوشیلا کارکی کے بیان کے بعد، اسلام اور مسلم سماج کے متعلق یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ : 

(1)مسلمانوں میں عورتوں پر ظلم ہوتا ہے،

(2) انہیں تعلیم سے روکا جاتا ہے،

 (3) کم عمری میں شادیاں کی جاتی ہیں اور

 (4) چند رسومات غیر منصفانہ ہیں۔ یہ باتیں محض لاعلمی اور یک طرفہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ان کا حقیقت سے رشتہ نہایت کمزور ہے۔ ایسی گفتگو نہ صرف ایک مذہبی اقلیت کی کردار کشی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان دعوؤں کو علمی بنیاد پر پرکھا جائے اور درست حقائق سامنے رکھے جائیں۔ اسلام میں عورتوں پر ظلم کا تصور نہیں ہے: سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو اُس دور میں عزت، وقار، معاشرتی مقام اور حقوق عطا کیے جب دنیا کے بڑے بڑے سماجوں میں عورت کو ہیچ، بے وقعت اور خرید و فروخت کی شے سمجھا جاتا تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا تھا، یہاں تک کہ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ قرآن نے اس ظلم کی مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین گناہ قرار دیا اور عورت کی عزت اور انسانی قدر و قیمت کو قانونی و مذہبی حیثیت دی۔ رسول اکرم ﷺ نے عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان اور بہترین اخلاق کا معیار قرار دیا اور فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہو۔ کیا کوئی ایسا دین عورت پر ظلم کی اجازت دے سکتا ہے؟ عورت چاہے بیٹی کے روپ میں ہو، بیوی کی صورت میں، ماں کی شکل میں یا بہن کے رشتے میں—اسلام نے اسے ہر درجے میں عظمت، احترام اور بلند مقام عطا کیا ہے۔ اسے نشانِ عزت بھی قرار دیا، باعثِ برکت بھی ٹھہرایا اور سکونِ قلب کا ذریعہ بھی بتایا۔ خصوصاً ماں کے بارے میں تو یہ تک فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے—یعنی ماں کی خدمت، محبت اور فرمانبرداری ہی جنت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ یہ اسلام ہی کا انقلابی پیغام تھا کہ ایسے دور میں جب بیٹی کو زحمت، بوجھ اور باعثِ عار سمجھا جاتا تھا، اسلام نے اسے باعثِ رحمت قرار دیا۔ وہ زمانہ جس میں عرب اپنی جہالت کی بنا پر بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اسلام نے اسی بیٹی کو عزت و شرف کا تاج پہنایا، اسے زندگی، تعلیم، وراثت، محبت اور تحفظ کے حقوق عطا کیے اور اعلان کیا کہ جو شخص اپنی بیٹیوں کی پرورش محبت، شفقت اور عزت کے ساتھ کرے گا، وہ قیامت کے دن جنت میں نبی کریم ﷺ کا ساتھی ہوگا۔ اسلام نے بیٹی کو رحمت، نعمت اور جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بیٹیوں کی تربیت، پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو محض اخلاقی خوبی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کا وسیلہ قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس کے تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی پرورش کرے، ان پر شفقت رکھے اور ان کی شادی کر دے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ یہ اعلان اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ بیٹی کی ذمہ داری اٹھانا جنت کی طرف راستہ ہموار کرتا ہے۔ اسی مضمون کو مزید آسان اور ہر طبقے کے لیے قابلِ عمل بنانے کے لیے ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اور ان کے حقوق ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ یوں ہوگا، جیسے یہ دو انگلیاں۔ (آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر دکھائیں۔) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے بیٹی کی اہمیت کو اس درجہ بلند کر دیا کہ اس کی تربیت کرنے والا جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قرب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔مزید برآں، نبی کریم ﷺ نے بیٹی کو آزمائش نہیں بلکہ رحمت ثابت کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص بیٹی سے آزمایا جائے اور وہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، تو یہ بیٹی اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائے گی۔ یعنی بیٹی کی محبت، نگہداشت اور تربیت انسان کو نہ صرف دنیا میں سکون دیتی ہے بلکہ آخرت کے عذاب سے بھی بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان احادیث کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ بیٹی اللہ کی نعمت ہے، اس کی تربیت عبادت ہے، اس کے حقوق ادا کرنا انسانیت ہے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک جنت کا پروانہ ہے۔ اسلام نے بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت کا تاج پہنایا، اور اسے والدین کے لئے نجات کا دروازہ بنا دیا۔ یٹیوں کی اہمیت اور ان کے حقوق کے بارے میں اسلام نے جو روشن اصول عطا کیے، وہ انسانی تاریخ میں بے مثال ہیں۔ مگر یہ صرف بیٹیوں تک محدود نہیں؛ اسلام نے عورت کو ہر حیثیت میں (بیٹی، بیوی، ماں اور بہن کی صورت میں)بلند مرتبہ دیا ہے۔

 عورت کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے رسولِ اکرم ﷺ نے بار بار نصیحت فرمائی کہ مرد عورتوں کے ساتھ نرمی، محبت، عزت، وفاداری اور عدل کا رویہ اختیار کریں۔ ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور پاکیزہ بنانے کے لیے سب سے بنیادی اصول یہی بتایا کہ بہترین انسان وہ نہیں جو باہر اچھا ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے گھر میں اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب میں اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ حجۃ الوداع جیسے تاریخی موقع پرجب نبی کریم ﷺ نے امت کو آخری جامع ہدایات دیں، وہاں بھی عورتوں کے حقوق کو خصوصی طور پر موضوعِ گفتگو بنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے۔ یہ الفاظ عورت کے وقار و مقام کو آسمانی بلندی عطا کرتے ہیں۔ جب کوئی رشتہ "امانتِ خداوندی" کہہ دیا جائے تو اس میں ظلم، اذیت، تحقیر یا ناانصافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ایک اور حدیث میں ایمان اور اخلاق کی تکمیل بھی عورت سے حسنِ سلوک کے ساتھ جوڑی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اہلِ ایمان میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہو۔ اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور تحفظ کا جو مقام عطا کیا ہے، دنیا کی کوئی تہذیب اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے حقوق کی پاس داری کو ایمان کی علامت اور اعلیٰ اخلاق کی نشانی قرار دیا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف زبانی ہدایات دیں بلکہ اپنی پوری زندگی میں عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا عملی نمونہ پیش فرمایا، جسے امت کے لئے قیامت تک کے لئے معیار بنا دیا۔ سب سے پہلی اور بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ایک مسلمان کی اچھائی کا سب سے بڑا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کی عورتوں کے حق میں کیسا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں تم سب سے بہتر ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر، جو آپ کی آخری اور جامع ترین نصیحتوں کا مجموعہ ہے، امت کو خصوصیت کے ساتھ عورتوں کے حقوق کی وصیت فرمائی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ کی امانت سے لیا ہے۔

 اسی طرح اسلام نے عورت کی طبیعت اور مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے مردوں کو اس کے ساتھ نرمی، شفقت اور رعایت کا حکم دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، کیونکہ وہ نازک (کمزور) پیدا کی گئی ہیں۔ یہ حدیث عورت کی کمزوری کا مذاق نہیں بلکہ اس کے احترام اور نفسیاتی نزاکت کا اعتراف ہے۔ جس طرح نازک شے کی حفاظت زیادہ دھیان چاہتی ہے، اسی طرح عورت کے ساتھ بھی نرمی، محبت اور تحمل کا سلوک ضروری ہے۔ اسلام اور عورتوں کی تعلیم: عورت کی تعلیم کے بارے میں اسلام کا موقف نہایت واضح اور مضبوط ہے۔ پہلی وحی ہی "اقْرَأْ" ( پڑھو )کے حکم سے نازل ہوئی، جس نے یہ اعلان کر دیا کہ علم ہر انسان کی بنیادی ضرورت اور فریضہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اسلامی تاریخ میں خواتین نے علم و تحقیق کے میدان میں شاندار خدمات انجام دیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بے شمار صحابہ و تابعین کی معلمہ تھیں اور مختلف ادوار میں ہزاروں خواتین نے محدثہ، فقیہہ، استاذہ اور مفتیہ کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اگر نیپال کی مسلم خواتین کا جائزہ لیا جائے تو دینی و عصری دونوں میدانوں میں وہ نمایاں موجودگی رکھتی ہیں۔ ہاں، کہیں کمی محسوس ہوتی ہے تو وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشرتی حالات، سرکاری توجہ کی کمی، مسلم علاقوں میں اسکولوں کی کمی، مخلوط نظامِ تعلیم اور معاشی مسائل کی بنا پر ہے۔ انہی اسباب کے باعث بعض گارجین لڑکیوں کو مخلوط اداروں میں بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، ورنہ مسلم معاشرے میں تعلیم سے روکنے کا کوئی مذہبی جواز نہیں۔ کم عمری کی شادی: کم عمری کی شادی کے الزام بھی تحقیق کے بغیر مسلمانوں سے جوڑ دیے جاتے ہیں۔ اسلام بالغ، باشعور، ذمہ دار اور رضامند افراد کے درمیان شادی کا حکم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے۔ زبردستی یا نادان عمری میں شادی نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ ظلم ہے۔ اگر بعض علاقوں میں کم عمری کی شادی پائی جاتی ہے تو وہ مقامی رسم و رواج، غربت یا لاعلمی کا نتیجہ ہے، اسلام کا نہیں۔ ایسے واقعات دیگر مذاہب و قوموں میں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن تنقید صرف مسلمانوں پر کرنا سراسر تعصب ہے۔

 اسلام کا اصل پیغام یہ ہے کہ عورت کو تعلیم، عزت، تحفظ اور مکمل انسانی حیثیت دی جائےاور یہی وہ روشن حقیقت ہے جسے غلط فہمیوں اور منفی پروپیگنڈے کے باوجود مٹایا نہیں جا سکتا۔ اسلام عورت کے حقوق کا محافظ : اسلام وہ واحد دین ہے جس نے صدیوں پہلے عورت کو ایسی عزت، حقوق اور سماجی مقام عطا کیا جو آج بھی دنیا کے جدید دستور اور عالمی قوانین پوری طرح فراہم نہیں کر سکے۔ اسلام نے عورت کو وراثت، ملکیت، کاروبار، عقد و خلع، مہر، نان و نفقہ، گھریلو سکون، سوکن کے درمیان عدل، معاشرتی تحفظ اور عزتِ نفس جیسے بنیادی بلکہ عالی مقام حقوق دئے۔ یہ حقوق نہ کسی وقتی رجحان کا نتیجہ ہیں اور نہ انسانی قانون ساز اداروں کی اختراع، بلکہ خالقِ انسانیت کا وہ ابدی نظام ہے جس میں عدل بھی ہے، توازن بھی ہے اور رحمت بھی۔ اس کے باوجود اگر معاشرے میں کہیں عورت پر ظلم، ناانصافی یا محرومی دکھائی دیتی ہے تو اس کا سبب اسلام نہیں، اسلام کی نافرمانی ہے۔ مذہب کو موردِ الزام ٹھہرا دینا اور پوری کمیونٹی کو منفی رنگ میں پیش کرنا نہ علمی دیانت ہے، نہ اخلاقی انصاف؛ بلکہ حقیقت سے صریح انحراف ہے۔مزید یہ کہ ملک کے عظیم ترین مناصب پر فائز کسی بھی شخصیت کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی کم علمی، ادھوری معلومات یا یک طرفہ بیانات کی بنیاد پر اسلام یا کسی بھی مذہبی طبقہ کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ تبصرے کرے۔ ایسے بیانات عوام میں بداعتمادی، انتشار اور غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام دشمن پروپیگنڈے اور بے بنیاد بیانات سے اثرانداز ہونے کے بجائے اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھا جائے۔ مسلم خواتین کی حقیقی حالتِ زندگی کو غیر جانبدارانہ اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے اور تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف کے میدان میں مشترکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔نیز مسلم دانشوروں اور اہل علم کو تعلیم کے میدان میں مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے،صرف چندہ کے اداروں اور وقتی واہ واہی والے جلسوں سے قوم کی حقیقی ترقی ممکن نہیں ہے۔ 

ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی تاراپٹی،دھنوشا(نیپال) حال مقیم:دوحہ قطر ۲۷؍نومبر ۲۰۲۵

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383