Feb 7, 2026 06:13 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
انسان زندہ لاش ہے تعلیم کے بغیر

انسان زندہ لاش ہے تعلیم کے بغیر

25 Dec 2025
1 min read

انسان زندہ لاش ہے تعلیم کے بغیر

محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

بچباری آبادپور کٹیہار (بہار)

خالق کائنات نے انسان کو شرفِ آدمیت، قوتِ فکر، نورِ عقل اور تاجِ خلافت سے نوازا۔ اسی انسان کی وجہ سے تہذیبوں کو جلا ملی، علوم نے فروغ پایا اور دنیا کی رونقیں قائم ہوئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسان اپنی اصل عظمت اس وقت بھی برقرار رکھتا ہے جب اس کے اندر علم کا نور بجھ جائے؟ ہرگز نہیں۔ علم کے بغیر انسان ایسا ہی ہے جیسے جسم روح کے بغیر—چلتا پھرتا مگر بے مقصد، سانس لیتا مگر بے روح، زندہ مگر حقیقت میں مردہ۔

اسی لیے کہا گیا: "العلم حیاۃ" علم زندگی ہے۔مزید فرمایا گیا: "من صار بالعلم حیا لا یموت أبداً" جو شخص علم سے زندہ ہو گیا وہ کبھی نہیں مرے گا۔

علم زندگی کا چراغ، روح کا تنفس، انسانیت کی بنیاد اور کردار کی تعمیری قوت ہے۔ یہ وہ نور ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے، ذہنوں کو بیدار کرتا ہے، اور زندگی کی گھٹن زدہ فضا میں تازگی کی ہوا چلاتا ہے۔

فرمایا گیا ہے کہ "العلم خیر من العبادة" یعنی علم عبادت سے افضل ہے، کیونکہ عبادت تبھی صحیح طور پر ادا کی جا سکتی ہے جب اس کی صحیح معلومات اور علم حاصل ہو۔ یوں علم مرکز و محور ہے ـــعلم وہ دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے، جس پر نہ چوری کا خطرہ ہے نہ زوال کا اندیشہ۔ دنیا کی ہر شے زیادہ ہو کر ارزاں ہو جاتی ہے، مگر علم کی زیادتی صاحبِ علم کے مرتبے کو مزید بلند کرتی ہے۔

تعلیم کے بغیر انسان کی حالت ایسی ہے جیسے آنکھیں ہوں مگر روشنی نہ ہو، دل ہو مگر احساس نہ ہو، کان ہوں مگر فہم نہ ہو، زبان ہو مگر حکمت نہ ہو، قدم ہوں مگر سمت نہ ہو۔ وہ صرف حرکت کرتا ہے، مگر حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ وہ دیکھتا ہے مگر پہچان نہیں رکھتا۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اندھیرے میں ڈگمگاتا رہتا ہے۔ ایسا انسان نہ اپنے لیے مفید ہوتا ہے، نہ معاشرے کے لیے، نہ قوم کے لیے وہ بالآخر حقیقتاً زندہ لاش بن جاتا ہے۔

جہالت فرد کو تباہ کرتی ہے، جہاں علم نہ ہو وہاں فکر مر جاتی ہے، عقل ساکت ہو جاتی ہے، کردار ٹوٹ جاتا ہے، نسلیں گونگی اور اندھی ہوجاتی ہیں، خود اعتمادی خاک ہو جاتی ہے، اور تہذیب کا سانس رک جاتا ہے ــ

اسی حقیقت کو حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے منسوب قول میں یوں بیان کیا گیا ہے:

"لیس الجمال بأثواب تزیننا

إن الجمال جمال العلم والأدب"

خوبصورتی کپڑوں کی زینت سے نہیں، بلکہ اصل خوبصورتی علم اور ادب کی خوبصورتی ہے۔اور مزید فرمایا:

"لیس الیتیم الذی قد مات والدہ

إن الیتیم یتیم العلم والحسب"

یتیم وہ نہیں ہے جس کا باپ مر جائے بلکہ اصل یتیم وہ ہے جو علم اور حسب سے محروم ہوجائے۔

دنیا کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ آئے اور مٹ گئے، ان کا نام تک باقی نہیں رہا؛ مگر جنہوں نے علم کا دامن تھاما وہ آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ علم کبھی مرنےنہیں دیتا۔ علم آنے سے مہارت پیدا ہوتی ہے، سوچ پختہ ہوتی ہے، کردار نکھرتا ہے، اعتماد بڑھتا ہے، دل روشن ہوتا ہے، ذہن وسیع ہوتا ہے، اور منزلیں آسان ہوسکتی ہیں۔ علم تلوار سے زیادہ طاقتور ہتھیار ہے تلوار زخم دیتی ہے، علم زمانے کو بدل دیتا ہے 

علم کے بغیر قومیں اور نسلیں چراگاہ بن جاتی ہیں۔ جہالت صرف ایک کمزوری نہیں بلکہ ایسی تاریکی ہے جو نسلوں کی آنکھوں سے بصیرت چھین لیتی ہے۔ جاہل قوم لاکھوں کی آبادی رکھتی ہو تب بھی وہ ایک خاموش قبرستان ہوتی ہے—جہاں نہ خواب جاگتے ہیں، نہ سوچ سفر کرتی ہے، نہ رفعتیں ملتی ہیں، نہ عزت۔

علم کے بغیر انسان دوسروں کا غلام بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے خیالوں کا پیروکار، دوسروں کی تہذیب کا محتاج، دوسروں کے اشاروں کا محکوم بن جاتا ہے۔

آج معلومات بہت ہیں مگر علم کم ہے۔ ہاتھ میں موبائل ہے مگر ذہن خالی، اسکرین روشن ہے مگر دل اندھیرا۔ معلومات سمندر کی طرح بہہ رہی ہیں مگر تعلیم کا نور ماند پڑتا جا رہا ہے۔ معلومات ذہن کو پُر کرتی ہیں، مگر علم روح کو زندہ کرتا ہے۔ معلومات ہاتھ میں موبائل دیتی ہیں، مگر علم ہاتھ میں انقلاب دیتا ہے تعلیم صرف لکھنا پڑھنا نہیں سکھاتی بلکہ جینے کاسلیقہ دیتی ہے۔ علم عقل کو روشنی بخشتا ہے، قلب کو نور دیتا ہے، کردار کو مضبوط کرتا ہے، اور زبان کو حکمت عطا کرتا ہے ــــــــــــــــ

امام شافعی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے علم حاصل کرنے کے بنیادی اصول یوں بیان فرمائے:

"اخی لن تنال العلم إلا بستۃ، سانبک عن تفصیلھا ببیان"

"ذکاء، حرص، اجتھاد، بلغۃ، طول زمان، وإرشاد استاذ"

اے میرے بھائی! علم چھ چیزوں کے بغیر حاصل نہیں کرستے جس کو میں تفصیل سے بیان کردیتا ہوں (۱) ذہانت(۲) شوق(۳) محنت(۴) روزی و وسائل(۵) استاد کی رہنمائی(۶) وقت علم کی روحانی تاثیر کو اس شعر نے حقیقت کے آئینے میں واضح کر دیا ہے:

"العلم یحیی قلوب المیت کما

تحیا البلاد اذا مامسہا المطر"

جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے، اسی طرح علم مردہ دلوں کو زندہ کر دیتا ہے۔المختصر حقیقت یہی ہے کہ علم وہ نور ہے جس کے بغیر انسان ظلمت میں بھٹکتا ہے، نسلیں بے سمت ہو جاتی ہیں، اور تہذیبیں مٹ جاتی ہیں۔ جس دل میں علم اتر جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے، جس قوم میں علم آ جائے وہ بیدار ہو جاتی ہے، اور جس فکر سے علم پھوٹے وہ زمانے کا رخ موڑ دیتی ہے ــــــــــــــــ

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383