May 10, 2026 06:13 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
موقع پرستی کی سیاست یا نظریاتی انحراف؟

موقع پرستی کی سیاست یا نظریاتی انحراف؟

30 Apr 2026
1 min read

موقع پرستی کی سیاست یا نظریاتی انحراف؟

(حافظ)افتخاراحمدقادری

ہندوستانی سیاست اپنی تمام تر وسعت، رنگا رنگی اور پیچیدگیوں کے باوجود ایک بنیادی اصول پر قائم رہی ہے اور وہ ہے نظریاتی وابستگی اور عوامی اعتماد جب بھی کوئی سیاسی رہنما اس اصول سے انحراف کرتا ہے تو نہ صرف اس کی اپنی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والی سیاسی ہلچل نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا موجودہ سیاست نظریات کے گرد گھومتی ہے یا صرف اقتدار کے حصول کا ایک ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔

  بالآخر وہی کچھ ہوا جس کا اندیشہ کافی عرصے سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے ایک نمایاں چہرے۔رکن راجیہ سبھا راگھو چڈھا نے پارٹی سے استعفیٰ پیش کر کے سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان کے اس فیصلے نے نہ صرف پارٹی قیادت کو حیران کیا بلکہ ان لاکھوں حامیوں کو بھی مایوسی سے دو چار کر دیا جنہوں نے انہیں ایک سنجیدہ، باصلاحیت اور نظریاتی سیاستدان کے طور پر دیکھا تھا۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ کئیدیگر اہم ارکان کو بھی اپنے ساتھ لے کر ایک نئی سیاسی منزل کی جانب گامزن ہونے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک فرد کے فیصلے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر سیاسی منظرنامے پر مرتب ہوں گے۔ راگھو چڈھا کے ساتھ جن دیگر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان میں سابق کرکٹر ہر بھجن سنگھ، سماجی کارکن اور دہلی خواتین کمیشن کی سابق صدر نشین سواتی مالیوال اشوک متل اور سندیپ پاٹھک جیسے افراد شامل ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنہیں عام آدمی پارٹی نے نہ صرف مواقع فراہم کیے بلکہ انہیں قومی سطح پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایسے میں ان کا یکجا ہو کر ایک مختلف سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا یقیناً کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

  عام آدمی پارٹی کی جانب سے پہلے ہی اس بات کے اشارے دیے جا رہے تھے کہ کچھ رہنما پارٹی پالیسیوں سے انحراف کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کسی اور سیاسی سمت کا انتخاب کریں۔ راگھو چڈھا کے حالیہ بیانات اور ان کی خاموشی خاص طور پر حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف اہم معاملات پر پارٹی قیادت کے لیے تشویش کا باعث بن رہیتھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں پارلیمنٹ میں اظہار خیال کے مواقع محدود کیے جانے لگے جو کہ اندرونی اختلافات کی واضح علامت تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ راگھو چڈھا کی سیاسی شناخت عام آدمی پارٹی ہی کی مرہون منت رہی ہے۔ ایک نوجوان اور تعلیم یافتہ چہرے کے طور پر انہیں جس تیزی سے قومی سیاست میں مقام ملا وہ پارٹی کی حکمت عملی اور اعتماد کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح دیگر رہنماؤں کو بھی عوامی خدمت اور سیاسی تجربے کے مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ مگر سیاست کے اس موڑ پر آ کر ان کا پارٹی سے الگ ہونا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ شاید اقتدار کی کشش نظریاتی وابستگی پر غالب آ چکی ہے۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وفاداری اور استقامت ہی وہ اوصاف ہیں جو کسی رہنما کو عوام کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔ اقتدار کا آنا جانا ایک فطری عمل ہے مگر مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ چھوڑ دینا اکثر رہنماؤں کے لیے طویل مدتی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ راگھو چڈھا کے اس فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں ان کی شبیہ ایک سنجیدہ اور اصول پسند سیاستدان سے ہٹ کر ایک موقع پرست رہنما کی بن کر سامنے آئی ہے۔  دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی

کی حکمت عملی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب جیسے اہم ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کو ایک مضبوط اور قابل قبول چہرے کی تلاش تھی۔ شرومنی اکالی دل سے اتحاد نہ کرنے کے فیصلے کے بعد اس ضرورت میں مزید شدت آگئی تھی۔ ایسے میں عام آدمی پارٹی کے نمایاں چہروں کو اپنی صفوں میں شامل کرنا ایک سوچی سمجھی سیاسی چال معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد نہ صرف اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے بلکہ حریف جماعت کو کمزور کرنا بھی ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے فیصلے عوامی سطح پر قبولیت حاصل کر پائیں گے؟ کیونکہ جن رہنماؤں نے اپنی سیاسی بنیاد بی جے پی کی مخالفت پر رکھی ہو ان کا اچانک اسی جماعت میں شامل ہو جانا عوام کے لیے ایک الجھن کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ تضاد نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ یہ ہندوستانی سیاست میں بڑھتی ہوئی موقع پرستی

کی ایک واضح مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں نظریات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور اقتدار کا حصول اولین ترجیح بن جاتا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہو سکتی ہیں، کیونکہ عوام کا اعتماد ہی اس نظام کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ یاد رکھیں کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ یہ عوامی خدمت، نظریاتی وابستگی اور اخلاقی ذمہ داری کا نام ہے۔ جو رہنما ان اصولوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتے ہیں مگر تاریخ میں ان کا مقام ہمیشہ متنازع ہی رہتا ہے۔ راگھو چڈھا اور ان کے ساتھیوں کا یہ فیصلہ بھی وقت کے ساتھ اپنے اثرات ظاہر کرے گا، اور یہ عوام ہی ہوں گے جو اس پر اپنا حتمی فیصلہ سنائیں گے۔

                     *کریم گنج،پورن پور 

  (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)