"تاریخ کی دھیمی آنچ " اور ہندی مسلمان
محمد عباس الازہری
دنیا کے بڑے سانحے ہمیشہ آہستہ آہستہ جنم لیتے ہیں۔ کوئی قوم ایک صبح بیدار ہو کر اچانک یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے گھر جلا دیے گئے، اس کے بچے لاپتا ہیں، یا اس کی زمین کسی اور کی ملکیت قرار پا چکی ہے۔ ظلم کی ابتدا ہمیشہ خاموش ہوتی ہے، قدم قدم چلتی ہے، اور صدیوں پرانی بستیاں ایک روز اس طرح مٹ جاتی ہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں۔
برما— آج کا میانمار— اس خاموش بربادی کی ایک ایسی ہی دل دہلانے والی مثال ہے۔ صدیوں پرانی روہنگیا مسلم آبادی، جو اراکان کے ساحلی علاقوں میں زبان، تہذیب، معاش، اور تاریخ کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، بتدریج ایک ایسی ’’غیر قوم‘‘ بنا دی گئی جسے آخرکار زمین سے مٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ یہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا وہ طویل کھیل تھا جس میں پہلے ذہن بدلے گئے، پھر قانون بدلے گئے، اور آخر میں انسانوں کی شناخت بدل دی گئی— یا ضبط کر لی گئی۔
میانمار کی بربادی کی جڑیں بہت دور تک جاتی ہیں۔ ابتدا میں روہنگیا کو ریاستی سطح پر ان کی اصل شناخت سے محروم کیا گیا۔ ان کی شہریت پر سوال اٹھایا گیا، پھر اس سوال کو قانون بنا دیا گیا، اور قانون کو پوری قوم کے لیے ایک پھانسی کا پھندہ۔ ایک وقت وہ آیا جب روہنگیا کا ووٹ دینے کا حق ختم کر دیا گیا۔ پھر ان کے کاغذاتِ شناخت کو ’’جعلی‘‘ کہہ کر ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے بازاروں میں خوف کی فضا پیدا کی گئی، ان کے روزگار بالکل محدود کیے گئے، اور ان کی معاشرتی زندگی کو گھیرا بندی کی طرف دھکیلا گیا۔
پھر ایک دن میڈیا نے ان کی تصویر بدل دی۔ وہی لوگ جن کے ساتھ میانمار کے بدھ باشندوں نے صدیوں تک کھیت، بازار اور سڑکیں شیئر کی تھیں، اچانک ملک کے لیے ’’خطرہ‘‘ قرار دیے گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ظلم نے اپنی آخری شکل اختیار کی۔ جب کوئی قوم ’’خطرہ‘‘ قرار دے دی جائے تو اس کے خلاف ہر جرم کو ’’ضروری اقدام‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہی ہوا۔ بستیوں میں آگ لگی، گاؤں اجڑ گئے، بچے سمندر میں پھینک دیے گئے، عورتیں بے گھر ہوئیں، اور لاکھوں انسان اپنی ہی زمین پر اجنبی ٹھہرے۔ وہی روہنگیا جن کے بزرگ اسی دھرتی پر دفن تھے، آج سمندروں میں لاش بن کر بہتے رہے۔
اس پوری تباہی میں دنیا کی خاموشی سب سے خوفناک کردار تھی۔ ظلم اپنے قدم اس وقت مضبوطی سے جماتا ہے جب دنیا تماشائی بنی رہے، اور متاثرہ قوم اپنے اندر بھی ایسی منتشر ہو کہ کوئی اجتماعی آواز نہ اٹھ سکے۔
یہ پورا منظر بھارت کے مسلمانوں کے لیے ایک خاموش لیکن بہت گہرا پیغام رکھتا ہے۔ شہری دستاویزات اور رجسٹریشن کے ایشوز آج محض ’’کاغذی معاملہ‘‘ نہیں ہیں۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قوموں کی شناخت پر پہلا وار ہمیشہ کاغذ پر ہوتا ہے۔ کسی کے کاغذ مشکوک قرار دے دیے جائیں تو اس کا اگلا قدم ووٹر لسٹ سے نام کا غائب ہونا ہوتا ہے، پھر اس کے بعد حقِ شہریت پر سوال اٹھتا ہے، اور آخر میں یہ سوال الزام میں بدل جاتا ہے۔
ایک بڑی اکثریت کے لیے اگر لاکھوں نام ریکارڈ سے غائب بھی ہو جائیں، تو وقت کے ساتھ کوئی نہ کوئی قانونی دروازہ کھول کر انہیں ’’سہولت‘‘ فراہم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اقلیتوں کے لیے سوالات سخت ہوتے ہیں، ثبوت مشکل ہوتے ہیں، اور ہر نتیجہ زیادہ تباہ کن۔ اس لیے کہ طاقتور نظام ہمیشہ کمزوروں کو پہلے آزماتا ہے، پھر انہیں مشقِ ستم بناتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ کی دھیمی آنچ کو محسوس کرنا ضروری ہے۔ حراستی مراکز کا لفظ آج محض خبروں کی سرخیوں میں ہے، مگر دنیا میں جہاں جہاں اس نظام کا تجربہ ہوا ہے، وہاں انسانوں کو ان مراکز میں ایک نمبر، ایک فائل، ایک قیدی کی حیثیت دے کر رکھا گیا ہے۔ جب شناخت پر سوال اٹھ جائے تو انسان کا گھر، اس کا کاروبار، اس کی زمین، اس کی یادیں— سب اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل جاتے ہیں۔
یہ کوئی خوف پھیلانے کی کوشش نہیں، یہ غفلت پر طمانچہ ہے۔ عوام کی وہ غفلت جو اپنے گھروں کی چھتوں پر سکون کی نیند سو جاتی ہے، مگر معاشرے کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی لرزش محسوس نہیں کر پاتی۔ میانمار کا سانحہ ان لوگوں کے لیے نہیں تھا جو طاقتور تھے، بلکہ ان کے لیے تھا جنہوں نے آنے والے خطرے کو بہت دیر میں سمجھا۔آج بھارت کے مسلمانوں کو سب سے بڑا خطرہ بیرونی نہیں، اندرونی ہے۔ افتراق، انتشار، قیادت کی کمی، اور مشترکہ لائحۂ عمل کا فقدان— یہ وہ کمزوریاں ہیں جو کسی بھی قوم کو باہر سے زیادہ اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ میانمار کی بربادی کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے افراد منتشر ہو جائیں تو پھر ظلم کے لیے ان پر غلبہ پانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔
جو کل روہنگیا کے ساتھ ہوا وہ آج کسی بھی کمزور قوم کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ دنیا میں طاقت کا مزاج بدل چکا ہے، اور ریاستیں اب قانون کے ذریعے ظلم کرتی ہیں، گولی سے پہلے قلم چلتا ہے، اور قید سے پہلے شناخت چھینی جاتی ہے۔
یہ وقت تاریخ کو پڑھنے کا نہیں، اس سے سیکھنے کا ہے۔میانمار کے المیے کی آگ آج بھی بجھی نہیں ہے، وہ ہمیں صرف دور سے دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کی حرارت ان دلوں تک ضرور پہنچ سکتی ہے جو بیدار رہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ بھارت کے مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنی اجتماعی شناخت، اپنے حقوق، اپنے کاغذات، اور اپنی سماجی وحدت کو مضبوط کرنا کوئی سیاسی عمل نہیں— یہ بقا کی جدوجہد ہے۔ جو قوم بکھر جائے وہ تاریخ کی کتابوں میں محض ایک ’’باب‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔تاریخ آج بھی سرگوشی کر رہی ہے: جن راستوں سے روہنگیا گزرے، وہاں ابھی قدموں کے نشان باقی ہیں۔ بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔
