Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حیات مبارکہ حضور احسن العلماء قدس سرہ

حیات مبارکہ حضور احسن العلماء قدس سرہ

13 Nov 2025
1 min read

حیات مبارکہ حضور احسن العلماء قدس سرہ

(از: محمد رضاءُالمصطفیٰ مصباحی بدایونی

ہنڈور کلاں، سہسوان، بدایوں شریف)

یوں تو اللہ کے نیک بندوں اور بزرگوں میں ہر ایک کی اپنی خاص شان اور کمال ہے۔ ہر ولی اپنے علم، عمل، تقویٰ، زہد اور دین پر مضبوطی میں نمایاں نظر آتا ہے، مگر مارہرہ مقدسہ کے بزرگوں کی ایک خاص پہچان یہ رہی ہے کہ وہ روحانی کیفیات اور باطنی قرب کے ساتھ ساتھ ظاہری شریعت پر بھی کامل طور پر قائم رہتے ہیں۔ ان کے یہاں سلوک و معرفت کا ہر درجہ، عشق و مستی کی ہر حالت، حدودِ شریعت کے اندر سمٹ جاتی ہے۔ یہی ان کے فیض کی بنیاد اور ان کی خانقاہی روش کی روح ہے۔اسی روشن سلسلے کے ایک درخشاں چراغ، حضور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں مارہروی علیہ الرحمہ ہیں، جنہیں تاجدارِ خاندانِ برکات، مرشدِ مفتیِ اعظمِ ہند، نورالعرفین، اور امامِ وقت کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا وجود سراپا نور، سراپا فیض اور سراپا محبت تھا۔ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ اتباعِ شریعت، محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ دین سے روشن تھا۔ حضرت نوری میاں کی شخصیت میں علم و عرفان، زہد و تقویٰ، سادگی و انکسار، اور ربانی جلال و جمال کا حسین امتزاج تھا۔ آپ کی مجلسوں میں ذکرِ الٰہی کی لذت بھی تھی، علمِ دین کی روشنی بھی، اور محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو بھی۔ آپ کے اندر ایک ایسی روحانی تاثیر تھی کہ جو بھی آپ کے قریب آیا، بدل گیا۔ حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ جس کے ایمان و اعمال میں پختگی اور درستی پیدا نہ ہو، اُس کا علم نفع نہیں دیتا۔ جس کے اعمال میں شریعت کی روشنی نہ ہو، وہ علم سراسر بربادی کا باعث ہے۔ علم حاصل کرنے کی پوری کوشش کرو اور اس کے بعد طریقِ باطنی پر قدم رکھو، تاکہ تمہارے علم میں روح پیدا ہو۔ ورنہ بے عمل عابد شیطان کا مسخرہ ہے، اس کا علم وبالِ گردن ہے اور اس کی عبادت ناقابلِ قبول۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے فضل سے نچلے کو اوپر اور اوپر والے کو نیچے کر دیتا ہے۔ ظاہری علم والے سے بھی مرتبہ بڑھنا ممکن ہے، اگر وہ علم کے ساتھ عمل اور اخلاص کو لازم کر لے۔ جو علمِ شریعت کو تھامے، اللہ تعالیٰ اُسے باطنی بصیرت عطا فرماتا ہے۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایمان و اسلام کے قبول کے بعد سب سے پہلی وصیت یہ ہے کہ مذہبِ اہلِ سنت و جماعت پر مضبوطی سے قائم رہو۔ ظاہر کو شریعت کے موافق اور باطن کو طریقت کے مطابق رکھو۔ تمام اولیائے کرام کی پیروی کرو۔ اسلام کے سارے احکام کی پابندی کرو، اور اپنے اوپر لازم کر لو کہ علماءِ دین، فقہا و محدثین کے اقوال اور طریقت کے مشائخ کے آداب کی پیروی میں کمی نہ ہو۔ اپنے مرشد، اساتذہ، والدین اور اہلِ دین کی خدمت کرو۔ درگاہ و خانقاہ کی خدمت بجا لاؤ۔ نماز باجماعت کے لیے مسجد میں حاضر رہو۔ اپنے پیر و مشائخ کا ادب کرو، اور اپنے زمانے کے تمام سلاسلِ طریقت کے شیوخ سے محبت رکھو۔ اپنے اندر تواضع و انکسار پیدا کرو کہ یہی اللہ کے مقربین کی علامت ہے۔ جس کے اعمال میں استقامت نہیں، اُس کا تصوف محض دھوکا ہے۔ اور جو علم کے ساتھ عمل کو لازم کر لے، اُس پر معرفت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ کا سب سے نمایاں وصف تصلّب فی الدین یعنی دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنا تھا۔ آپ نہ صرف خود شریعت کے ہر حکم پر سختی سے کاربند تھے بلکہ اپنے مریدوں، وابستگان اور عقیدت مندوں کو بھی ہمیشہ اسی راہ کی تاکید فرمایا کرتے۔ آپ فرمایا کرتے کہ شریعت وہ آفتاب ہے

جو ولایت کے افق کو روشن کرتا ہے، اور جو اس روشنی سے محروم ہو گیا، وہ ولایت کی حقیقت سے بھی محروم رہا۔ آپ کے نزدیک سلوک اور معرفت کا ہر درجہ شریعت کے دائرے میں رہ کر ہی مکمل ہوتا تھا۔آپ کا مزاج انتہائی متوازن، باوقار اور شرعی حدود کا پاسدار تھا۔ آپ کے یہاں کوئی ایسا تصوف نہیں تھا جو عقل و شریعت سے الگ ہو، بلکہ آپ کے تصوف کا سرچشمہ ہی اتباعِ نبوی ﷺ تھا۔آپ کی خانقاہ علم و عمل کا مرکز تھی، جہاں دنیا بھر سے طالبانِ حق حاضر ہوتے، اپنے باطن کو سنوارتے اور شریعت کی راہوں پر چلنے کا حوصلہ پاتے۔ آپ کی ایک نگاہ سے دلوں کی دنیا بدل جاتی، اور ایک جملے سے زندگیوں کا رخ پلٹ جاتا۔ حضرت نوری میاں کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ولایت اور روحانیت کی اصل روح اتباعِ شریعت، محبتِ رسول ﷺ، اور خدمتِ دین میں مضمر ہے۔ جس نے شریعت کو تھاما، اس نے ولایت کو پا لیا، اور جو شریعت سے ہٹا، وہ ولایت سے محروم رہا۔ آپ کے یہ فرمودات آج بھی ان کے فیض یافتگان کے دلوں میں چراغ کی طرح روشن ہیں، اور امت کو یاد دلاتے ہیں کہ دین کی مضبوطی ہی روحانیت کی اصل بنیاد ہے۔ حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ کی حیاتِ طیبہ دراصل اس حقیقت کی زندہ تفسیر ہے کہ علم، عمل، شریعت اور طریقت جب ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو انسان نہ صرف کامل مؤمن بلکہ محبوبِ خدا بن جاتا ہے۔

مولی تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے 

آمین یا مجیب السالکین بحق طہ و یس و بحرمۃ سید المرسلین ﷺ

 از: محمد رضاءُالمصطفیٰ مصباحی بدایونی 

(ہنڈور کلاں، 

سہسوان، بدایوں شریف)

 

 

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383