میری زندگی کی یادیں
محمد حامد رضا*
متعلم: دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی (یوپی)*
انسان کی زندگی محض سانسوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی جدوجہد کا نام ہے جس میں ہر قدم کسی مقصد کی طرف بڑھتا ہے۔ اس سفر میں اگر کوئی چیز انسان کا سب سے بڑا سہارا بنتی ہے تو وہ علم ہے۔ یہی علم اندھیروں میں روشنی بنتا ہے، یہی انسان کو شعور دیتا ہے، اور یہی اسے صحیح اور غلط کی پہچان عطا کرتا ہے۔
انسانی حیات میں علم کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسی کے ذریعے ہم گمراہی سے ہدایت کی طرف آتے ہیں اور زندگی کے ہر میدان میں اپنا راستہ متعین کرتے ہیں۔ *یہی وہ جذبہ تھا جس نے مجھے بھی علم کے سفر پر گامزن کیا اور میری زندگی کا رخ بدل دیا۔*
حصول علم کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس میں مشکلات بھی آتی ہیں، آزمائشیں بھی اور قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ تب کہیں جا کر انسان اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب جستجوئے علم نے مجھے اپنے وطن سے دور ہونے پر آمادہ کیا۔ گھر بار، والدین اور اپنوں سے جدا ہونا یقیناً آسان نہ تھا، مگر دل میں ایک ایسی لگن سلگ رہی تھی، ایک ایسی تڑپ جاگ رہی تھی جس نے ہر مشکل کو پس پشت ڈال دیا اور مجھے آگے بڑھنے پر مجبور کر دیا۔
چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دارالعلوم فدائیہ نوریہ پانچھوں رسیا میں حفظ قرآن کے لیے داخلہ لیا، جہاں ایک سال میں قرآن کریم کے چھ پارے حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ صرف یاد کرنے کا عمل نہ تھا، بلکہ *صبر، محنت اور خود کو ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کا آغاز تھا۔*بعد ازاں قرب و جوار کے طلبہ، خصوصاً اپنے چچازاد بھائی کو دیکھ کر شوق میں مزید اضافہ ہوا۔ دل میں ایک نئی آگ بھڑک اٹھی، ایک نیا حوصلہ
پیدا ہوا اور اسی جذبے نے مجھے پونہ (مہاراشٹرا) کا رخ کرنے پر آمادہ کیا، جہاں دارالعلوم غریب نواز میں بحمد اللہ حفظِ قرآن مکمل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ *یہ مرحلہ محض تکمیل نہ تھا، بلکہ ایک نئے سفر کی بنیاد تھا۔*
*پھر ایک نیا مرحلہ آیا۔* والدین کی خواہش پر میں نے درسِ نظامی کی تعلیم کا آغاز کیا۔ اس وقت مدارس کے نظام سے مکمل واقفیت نہ تھی، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے مدرسہ اشرفیہ سراج العلوم میں اعدادیہ کے لیے داخلہ ملا۔ یہاں سے گویا علم کے *ایک وسیع سمندر میں قدم رکھ دیا،* جہاں ہر دن ایک نئی جستجو اور ہر سبق ایک نئی دنیا بن کر سامنے آتا تھا۔
اسی دوران لاک ڈاؤن نے تعلیمی سلسلے کو ایک سال کے لیے روک دیا۔ یہ وقفہ بظاہر ایک رکاوٹ تھا، مگر میرے لیے ایک آزمائش بھی تھا اور ایک موقع بھی۔ خاموشی کے اس دور میں دل کی آواز اور بھی واضح ہو گئی۔ جب میں نے اپنے بعض ساتھیوں کو ممبئی میں تعلیم حاصل کرتے دیکھا تو میرے اندر بھی آگے بڑھنے کا جذبہ اور شدت اختیار کر گیا، اور میں نے ممبئی کا رخ کیا۔ وہاں دارالعلوم غوثیہ ضیاء القرآن میں اولیٰ اور ثانیہ کی تعلیم مکمل کی۔
اسی جستجو نے مجھے آگے بڑھایا۔ بہتر تعلیمی ماحول کی تلاش اور اپنے اساتذہ کی رہنمائی، خصوصاً میرے مربی و استاذ مولانا داؤد مصباحی (اطال اللہ عمرہ) کی بارہا توجہ کے نتیجے میں، میں نے دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی میں داخلہ لیا۔ الحمدللہ جماعت ثالثہ سے لے کر جماعت خامسہ تک اسی ادارے میں زیر
تعلیم ہوں—اور یہ سفر آج بھی جاری ہے، *ایک نئی منزل، ایک نئے عزم اور ایک نئی امید کے ساتھ۔*
میری رائے
میری نظر میں علم صرف بڑے اداروں میں پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ *اصل علم وہ ہے جو انسان کے اندر محنت کی آگ روشن کر دے، صبر کو اس کی عادت بنا دے*
اور استقامت کو اس کی پہچان بنا دے۔ علم وہ چراغ ہے جو انسان کے باطن کو روشن کر دیتا ہے اور اسے اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔
*کامیابی صرف خواہشوں سے نہیں ملتی،* بلکہ یہ ان آنکھوں کو نصیب ہوتی ہے جو نیند قربان کرتی ہیں، ان قدموں کو ملتی ہے جو تھکنے کے باوجود رکتے نہیں اور ان دلوں کو عطا ہوتی ہے جو ہر حال میں اپنے مقصد سے جڑے رہتے ہیں۔
ہر طالب علم کے دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ وہ ایک باصلاحیت اور باوقار عالم بنے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ *وہی شخص اس مقام تک پہنچتا ہے جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ علم کے لیے وقف کر دے،* اپنی ترجیحات کو درست کر لے اور اپنے مقصد کے سامنے ہر مشکل کو ہیچ سمجھے۔
*ان سات برسوں نے مجھے یہ سکھایا ہے* کہ محنت صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک عبادت ہے؛ صبر کامیابی کی کنجی ہے؛ اور پختہ عزم وہ طاقت ہے جو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقل سلیم ، فہم کامل اور ایسا علم عطا فرمائے جو ہمارے دلوں کو منور کرے، ہمارے اعمال کو سنوارے اور دونوں جہاں میں سرخرو کرے- سیمل باڑی، کشن گنج (بہار)*
*بتاریخ: ۲۶ اپریل ۲۰۲۶ء*
*بمطابق: ۸ ذوالقعدہ ۱۴۴۷ھ*
