May 2, 2026 03:00 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سُدن گُرنگ کا استعفیٰ — کس نے مجبور کیا اور نقصان کیا ہوا؟

سُدن گُرنگ کا استعفیٰ — کس نے مجبور کیا اور نقصان کیا ہوا؟

01 May 2026
1 min read

سُدن گُرنگ کا استعفیٰ — کس نے مجبور کیا اور نقصان کیا ہوا؟

راشد سيف اللہ 

مدینہ منورہ

نیپال کی سیاست میں ایک تکلیف دہ روایت ہے، جو شخص واقعی کچھ کرنے کی کوشش کرے، جو بدعنوانی کی زنجیریں توڑنا چاہے، جو طاقتور اور با اثر لوگوں کو قانون کے سامنے لانے کا حوصلہ دکھائے، اسے سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے، وزیرِ داخلہ سُدن گُرنگ کے ساتھ بھی یہی ہوا، وہ صرف ستائیس دن وزارت میں رہے لیکن ان ستائیس دنوں میں انہوں نے وہ کام کیے جو برسوں میں نہیں ہوئے تھے، ان کا استعفیٰ محض ایک وزیر کا جانا نہیں، یہ ایک سوچی سمجھی اور منظم مہم کا نتیجہ ہے جس میں اپوزیشن جماعتیں، مفاد پرست میڈیا اور طاقتور کاروباری طبقہ سب مل کر ایک ہی مقصد کے لیے میدان میں اترے، آج ہم اس بات کا تفصیلی جائزہ لیں گے کہ کن لوگوں نے انہیں استعفے پر مجبور کیا اور اس استعفے سے نیپال کو کیا کیا نقصان ہوا۔

پہلی قوت اپوزیشن کا منظم دباؤ

اپوزیشن جماعتوں کا کردار اس پوری مہم میں سب سے نمایاں رہا، نیپالی کانگریس وہ پہلی جماعت تھی جس نے باضابطہ طور پر سُدن گُرنگ کے استعفے کا مطالبہ کیا، اس کے بعد سی پی این-یو ایم ایل نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں فوری تحقیقات اور وزیر کے استعفے کی مانگ کی گئی، اور شرم سنکرتی پارٹی نے بھی یہی موقف اپنایا، بظاہر یہ مطالبات احتساب کے نام پر تھے لیکن ان کا اصل پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ سُدان گُرنگ نے عہدہ سنبھالتے  ہی اپنی پہلی رات کو سی پی این -یو ایم ایل کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی کو گرفتار کروایا تھا، وہی اولی جن کی جماعت اب گُرنگ کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہی تھی، یہ احتساب کی آواز نہیں تھی، یہ انتقام کی سیاست تھی، نیپالی کانگریس اور دیگر روایتی جماعتوں کا معاملہ بھی مختلف نہیں، یہ وہی پارٹیاں ہیں جو دہائیوں تک نیپال کی سیاست پر قابض رہیں، جن کے دور میں بدعنوانی پھلی پھولی، اور جنہیں بالن شاہ کی حکومت نے عوام کے سامنے بے نقاب کیا، ان کے لیے سُدن 

گُرنگ جیسا وزیر ایک خطرہ تھا، اور خطرے کو راستے سے ہٹانے کا آسان ترین طریقہ الزامات کی بوچھاڑ ہے۔

دوسری قوت میڈیا کا ہتھیار کے طور پر استعمال

میڈیا کا کردار کسی بھی جمہوریت میں نہایت اہم ہوتا ہے لیکن جب میڈیا کو کسی مقصد کے لیے ہتھیار بنایا جائے تو وہ احتساب کے بجائے ظلم کا آلہ بن جاتا ہے، گُرنگ نے خود میڈیا رپورٹوں کو سپانسرڈ افواہیں قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ برسوں سے قومی خزانے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں آج وہ خوفزدہ ہیں اور یہ افواہوں کی مہم ان کی بے بسی کی علامت ہے، غور کریں کہ گُرنگ نے عہدہ سنبھالنے کے چند دنوں بعد ہی غیرقانونی دھندوں پر چھاپے مارے، بڑے بڑے کاروباری نیٹ ورکس کو کھنگالنا شروع کیا اور وی آئی پی کلچر پر ضرب لگائی، ان سب اقدامات سے جن کے مفادات متاثر ہوئے انہوں نے اپنے وسائل اور میڈیا تک رسائی استعمال کرتے ہوئے ایک منظم بیانیہ بنایا، اور اس بیانیے کو پھیلانے میں میڈیا کے کچھ حصے نے بخوشی ساتھ دیا، یہ صحافت نہیں تھی، یہ مفادات کا تحفظ تھا۔

تیسری قوت طاقتور کاروباری طبقہ

نیپال میں طاقتور کاروباری طبقے کی سیاست پر گرفت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، سُدن گُرنگ نے جب غیر قانونی لین دین پر ہاتھ ڈالا، منی لانڈرنگ کے ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کی اور حکومتی ٹھیکوں میں سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے فائدہ اٹھانے والے کاروباریوں کو نشانہ بنایا تو یہ طبقہ فطری طور پر بے چین ہو گیا، کچھ کاروباری جو مبینہ طور پر سیاسی اور بیوروکریٹک تعلقات کے ذریعے حکومتی ٹھیکے حاصل کرتے آئے تھے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل استثنا کے ساتھ کام کرتے تھے، انہیں اب خطرہ محسوس ہوا، اس طبقے کے پاس نہ صرف وسائل ہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں اور میڈیا تک براہِ راست رسائی بھی ہے، گُرنگ کے خلاف مہم میں اس طبقے کی پشت پناہی کا اندازہ خود گُرنگ کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ یہ مہم صرف انہیں روکنے کے لیے ہے لیکن تحقیقات نہیں رکیں گی۔ چوتھی قوت اپنی ہی جماعت کے اندر کشمکش

شاید سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ گُرنگ کو باہر سے ہی نہیں، اپنی جماعت کے اندر سے بھی بھرپور حمایت نہیں ملی، راشٹریہ سواتنتر پارٹی کے چیئرمین ربی لامی چھانے نے ابتدا میں وزارتِ داخلہ کے لیے ڈی پی آریال کا نام آگے بڑھایا تھا اور گُرنگ کو وزیرِ اعظم بالن شاہ کی ذاتی کوشش سے یہ عہدہ ملا، اس اندرونی کشمکش نے جماعت کو ایک متحد آواز بننے سے روکا اور جب باہری دباؤ بڑھا تو اندرونی حمایت کمزور پڑ گئی، نتیجہ یہ نکلا کہ گُرنگ چاروں طرف سے گھرے ہوئے تھے، باہر سے اپوزیشن، میڈیا اور کاروباری دباؤ، اور اندر سے جماعت کا غیر یقینی رویہ۔

استعفے کے نقصانات ایک جائزہ

اب آئیں اس اہم سوال کی طرف کہ اس استعفے سے نیپال کو اصل میں کیا کھونا پڑا، سب سے پہلا اور سب سے واضح نقصان یہ ہے کہ وہ تحقیقاتی عمل جو گُرنگ نے شروع کیا تھا اب سوالیہ نشان بن گئے ہیں، جو مقدمات وہ کھلوا رہے تھے، جن افسران کو انہوں نے بدعنوانی کے خلاف متحرک کیا تھا، اب وہ سب ایک نئے وزیر کی ترجیحات کے محتاج ہیں، گُرنگ کا استعفیٰ اس حکومت کے لیے ایک دھچکا ہے جو اصلاح پسند شبیہ کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، اور جس وزیر نے بدعنوانی کے خلاف بے باک کارروائی کا عہد کیا تھا وہ اب خود تحقیقات کی زد میں ہے۔

دوسرا بڑا نقصان پولیس اور بیوروکریسی کے مورال کو ہوا، جب سُدن گُرنگ نے پولیسہیڈکوارٹر میں رات بھر کھڑے رہ کر گرفتاریاں یقینی بنائیں اور افسران کو یہ پیغام دیا کہ سیاسی دباؤ سے نہیں بلکہ قانون سے کام لو، تو پولیس کے اندر ایک نئی روح آئی، لیکن جب وہی وزیر صرف ستائیس دن میں 

باہر ہو گیا تو پولیس اور بیوروکریسی کو یہ پیغام

 گیا کہ جو بھی حکمران طبقے کے خلاف جائے گا اسے ٹھکانے لگا دیا جائے گا، یہ پیغام نظامِ احتساب کو برسوں پیچھے دھکیل سکتا ہے۔

تیسرا نقصان پوری اصلاحی حکومت کی ساکھ کو ہوا، بالن شاہ کی حکومت بدعنوانی کے خلاف واضح موقف اور اصلاحی ایجنڈے کی بنا پر اقتدار میں آئی تھی، اس حکومت نے آتے ہی سیاستدانوں کے اثاثوں کی جانچ کے لیے ایک سابق سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن قائم کیا تھا، لیکن اپنے ہی وزیرِ داخلہ کا ایک مہینے کے اندر اس طرح چلے جانا حکومت کی کمزوری کا تاثر دیتا ہے، اس استعفے کے اگلے ہی دن صدرِ نیپال نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا آئندہ اجلاس بغیر کسی وضاحت کے معطل کر دیا، اپوزیشن نے اسے بے مثال اور حیران کن قدم قرار دیا۔

چوتھا اور شاید سب سے خطرناک نقصان ایک غلط نظیر کا قیام ہے، جمہوریت کا ایک مقدس اصول ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ ہے، خود گُرنگ نے کہا کہ فیصلے جذبات پر نہیں بلکہ ثبوت پر ہونے چاہئیں، اگر آج یہ روایت پڑ گئی کہ اپوزیشن کا الزام اور میڈیا کی مہم کسی وزیر کو عہدہ چھڑوانے کے لیے کافی ہے تو آگے چل کر کوئی بھی اصلاح کار عہدے پر ٹک نہیں سکےگا، جب بھی کوئی وزیر کسی طاقتور کو للکارے گا اسے اسی طریقے سے نشانہ بنایا جائے گا، یہ جمہوریت نہیں بلکہ منظم گردن زنی ہے اور اس کا فائدہ صرف اور صرف مفاد پرست طبقے کو ہوتا ہے۔

پانچواں نقصان نوجوان نسل کی امیدوں کو ہوا، سُدن گُرنگ 2025ء کی جنریشن-زی تحریک کا ایک زندہ استعارہ تھے، ایک ایسا نوجوان جو گلیوں سے اٹھ کر سیاست کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچا اور جس نے ثابت

کیا کہ تبدیلی ممکن ہے، ان کا اس طرح نکلنا اس نوجوان نسل کو یہ مایوس کن پیغام دیتا ہے کہ نظام کا حصہ بنو تو نظام تمہیں توڑ دیتا ہے، لڑنے والوں کو نکال دیا جاتا ہے اور پرانے چہروں کی جگہ لینا آسان نہیں۔

پھر بھی امید باقی ہے

ان تمام نقصانات کے باوجود ایک مثبت پہلو موجود ہے، وزیرِ اعظم بالن شاہ نے وزارتِ داخلہ خود اپنے ہاتھ میں لی اور واضح کیا کہ اگر پچیس دن میں الزامات ثابت نہ ہوئے تو سُدن گُرنگ دوبارہ اپنے عہدے پر واپس آئیں گے، یہ ایک ذمہ دارانہ اور منصفانہ اعلان ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت محض دباؤ میں نہیں آئی بلکہ اس نے ایک قانونی راستہ اختیار کیا ہے، اگر یہ تحقیقات شفاف ہوئی اور الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے، جیسا کہ گُرنگ بار بار دعویٰ کرتے رہے، تو ان کی واپسی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری اصلاحی تحریک کے لیے ایک نئی شروعات ہو گی۔ سُدن گُرنگ کو روکنے والے جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، ایک ایسے وزیر کو جو صرف ستائیس دنوں میں نیپال کی سیاسی تاریخ کو ہلا رہا تھا، اسے روکنا ان کے لیے ضروری تھا، اور انہوں نے روک لیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیپال کی عوام اس کھیل کو سمجھتی ہے؟ کیا وہ نوجوان نسل جس نے 46 ہم عمروں کی جانوں کی قربانی دے کر یہ حکومت بنوائی، وہ اپنے اس اصلاح کار کو میدان سے جاتے دیکھ کر خاموش رہے گی؟ اللہ کرے کہ تحقیقات منصفانہ ہو، الزامات بے بنیاد ثابت ہوں اور سُدن گُرنگ دوبارہ اس عہدے پر واپس آ کر وہ کام مکمل کریں جو نیپال کو بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383) weeklynepalurdutimes@gmail.com