ایرا یونیورسٹی میں پانچویں بین الاقوامی اردو۔ہندی عالمی کانفرنس کا انعقاد
مذہب نہیں، زبان ایک دوسرے کو قریب لاتی ہے: غلام نبی آزاد
زبانیں تہذیب کا زندہ رشتہ ہیں، جو ماضی و مستقبل کو جوڑتی ہیں: ڈاکٹر عمار رضوی
لکھنؤ (ابوشحمہ انصاری)
پانچویں بین الاقوامی اردو۔ہندی عالمی کانفرنس کا افتتاحی اجلاس 30 نومبر کو ایرا میڈیکل یونیورسٹی، لکھنؤ میں نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ ملک و بیرون ممالک برطانیہ، خلیجی ممالک، تاشقند، ترکمینستان وغیرہ کی ممتاز علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کی شرکت نے اس اجلاس کو یادگار اور تاریخی اہمیت عطا کی۔
پروگرام کا آغاز مہمانوں کی گلپوشی اور شمع روشن کرنے کی روایت کے ساتھ ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ریشماں پروین نے پر کشش انداز میں انجام دیے۔ افتتاحی لمحات میں اردو کے معروف شاعر جناب عمر انصاری مرحوم کی مشہور نظم "اردو کی کہانی اردو کی زبانی" نظم کے چند منتخب اشعار معروف غزل گو ڈاکٹر پربھا سریواستوا نے پیش کیے، جس پر سامعین نے بھرپور داد دی۔
مہمان خصوصی سابق وزیر اعلیٰ، جموں و کشمیر، و سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی صرف زبانیں نہیں، بلکہ ملک کی تہذیب و یکجہتی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لکھنؤ، جو صدیوں سے گنگا-جمنی ثقافت اور تہذیب کا مرکز رہا ہے، اردو صحافت اور ادب سے ہمیشہ گہرا تعلق رکھتا رہا ہے۔ آج کی دنیا میں یہ ضروری ہے کہ ہم اردو کو فروغ دینا اپنا فریضہ سمجھیں اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ذمہ داری قبول کریں۔ بالکل اسی طرح ہندی زبان بھی نہ صرف بھارت میں بلکہ دیگر ممالک میں اپنے فروغ اور استحکام کے لیے سرگرم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اپنی زبانوں کو مضبوط بنا کر اپنی تہذیب، ثقافت اور علمی شناخت کو محفوظ کررہے ہیں، اور یہی مقصد ہمیں بھی اردو اور ہندی دونوں کے فروغ کے لیے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ میں وزیر اعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ہندوستانی زبان کو زندہ رکھنے اور اس کے فروغ کے لیے وہ اقدامات کیے ہیں جو دنیا کے دیگر ممالک اپنی زبانوں کے فروغ کے لیے عموماً کم کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو نہ صرف ہماری تہذیب اور ثقافت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
کانفرنس کے چیئرمین اور سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے خطاب میں موجودہ لسانی چیلنجز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اردو نامہ نگاروں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اردو اخبارات کی کمی ہمارے لسانی و فکری بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ گھروں سے اردو کا کم ہوتا رواج آنے والی نسل کے لیے ایک تہذیبی خلا جنم دے رہا ہے، جو مستقبل میں ہماری شناخت کے لیے بڑا سوال بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہندستان میں ایک بین الاقوامی ’’ترجمہ ہاؤس‘‘ قائم کیا جائے، تاکہ نئی نسل کو معیاری زبان، عالمی ترجمےاور لسانی تربیت کا مضبوط پلیٹ فارم فراہم ہو سکے۔ ان کے مطابق اردو اگر آنے والی نسلوں میں باوقار، زندہ اور مؤثر رکھنی ہے تو ایسے علمی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔
پروگرام کی صدارت سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر برائے خواتین فلاح و سیاحت پروفیسر ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو اور ہندی ہندوستان کی روح
میں بسی ہوئی زبانیں ہیں، جنہوں نے ہمیشہ مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کو تقویت بخشی ہے۔ ان کے مطابق یہ کانفرنس دونوں زبانوں کے سماجی کردار اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
اٹل بہاری واجپئی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سنجیو مشرا اور ایرا میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عباس علی مہدی نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اردو اور ہندی وہ مضبوط تہذیبی ستون ہیں جنہوں نے ہندوستانی معاشرے کو ہمیشہ جوڑے رکھا ہے، اور اس عالمی کانفرنس کے ذریعے زبانوں کے ڈیجیٹل مستقبل کی نئی راہیں کھلیں گی۔
بین الاقوامی کانفرنس کے اسی اجلاس میںپدم شری پروفیسر مہدی حسن کو ان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ شرکاء نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اردو اور ہندی کی مشترکہ تہذیبی روایت کا روشن چراغ قرار دیا۔
سیمینار کے مختلف سیشنز میں مندوبین نے اردو زبان و ادب کی تاریخ، اس کی تہذیبی میراث اور معاصر چیلنجوں پر مدلل گفتگو کی۔
اجلاس میں ڈاکٹر ہارون رضوی، ڈاکٹر انیس انصاری (سابق آئی اے ایس)، پروفیسر سلیمان عمار رضوی، عمار انیس نگرامی، امیر حیدر ایڈوکیٹ، مرزا اسلم بیگ، سید عاصم رضا (سابق ایڈیٹر نیا دور)، میثم عمار رضوی، مرزا فرقان بیگ،آصف زماں رضوی، ڈاکٹر موسیٰ رضا، ڈاکٹر تقدیس فاطمہ، ڈاکٹر ریشماں پروین، علیشا رضوی، ڈاکٹر شکیل
قدوائی، محمد سلمان انصاری، عتیق احمد انصاری، ابوشحمہ انصاری، شہاب الدین خان، ڈاکٹر آل احمد، احتشام خان، ڈاکٹر منتظر قائمی،ڈاکٹر سیما سنگھ، پروفیسر خان محمد عاطف، پروفیسر ماہ رخ مرزا (سابق وائس چانسلر، خواجہ معین الدین چشتی اردو، عربی، فارسی یونیورسٹی، لکھنؤ)، روی پرکاش یادو، عرفان منصوری اور محمد اویس نگرامی سمیت متعدد علمی و ادبی شخصیات شریک رہیں۔۔
یہ اطلاع کانفرنس کی اردو نشر و اشاعت کے انچارج ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی ہے۔
Abushahma Ansari
Journalist,District Secretary
Indian
Journalist Association
Distt.Barabanki (U.P.)
