مسلم معاشرہ: بے حیائی و تہذیبی تاراجی کے مناظر لمحہ فکریہ
غلام مصطفیٰ رضوی :نوری مشن مالیگاؤں
اسلام دُشمن قوتوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو مغربی کلچر کا دلدادہ بنا دیا جائے- اسلامی ثقافت و کلچر کے مقابل مُردہ و شکستہ تہذیبوں کا تعارف تاریخی تحقیق کے نام پر ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف- یہی کچھ مصر میں ہوا- عراق و ایران میں ہوا- جہاں اس بات کا پرچار شدومد کے ساتھ کیا گیا کہ فراعنہ کی تہذیب بڑی مہذب تھی- فارسی تمدن عمدہ تھے- روم و کسریٰ کے کلچر قابلِ قدر تھے- ہند میں عریاں مشرکانہ کلچر کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کیے گئے؛ گائے کے فضلات کھانے والوں نے اسلام دُشمنی کی حدیں پار کر لیں- لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن تہذیبوں نے انسانیت سوز کام انجام دیے؛ جن کے یہاں ظلم و جور ہی غالب تھے؛ ان کے دیے اسلام نے بجھا دیے- مردہ تہذیبوں کے فروغ کی پشت پر اسلام دُشمنی کا عنصر کارفرما رہا ہے-
بہر کیف المیہ یہ ہے کہ مسلمان مغربی معاشرہ جو انسانی اَقدار و حقوق کا گلہ گھونٹ کر اپنی ناکامی کا جنازہ نکال چکا ہے؛ سے ایسے مرعوب ہوئے کہ تباہی کے دہانے پر جا پہنچے- جس تمدن نے انسانی حقوق کا اعلیٰ تصور دیا؛ حقوقِ نسواں کی حفاظت کا رول ماڈل معاشرہ قائم کیا- اسی پاکیزہ اسلامی تمدن سے رُوگردانی نے مسلمانوں کو رُسوا کیا- اپنے عظیم ورثے سے دوری یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے-فوٹو گرافی کی لعنت بھی مغربی کلچر سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے- جس نے بے حیائی کے فروغ میں کوئی کثر نہیں چھوڑی- اس لعنت نے ایسا دامن پسارہ کہ شریف بچوں/بچیوں کی شادی میں بھی فوٹو گرافر بلوا کر حیا کے پردے تار تار کر دیے جاتے ہیں- فوٹو گرافر سجی سنوری دلہن کا ہر زاویے سے بے باکانہ فوٹو/ویڈیوز بناتا ہے- غیرتوں کے یہ جنازے والدین/بھائی/بہنوں کے رُوبرُو اور اُنھیں کی معاونت سے نکلتے ہیں- یہ وبا برائیوں سے محفوظ گھرانوں میں بھی گھستی چلی جا رہی ہے- باحیا گھرانوں کی یہ بے حیائی و بے غیرتی شادی کی یادگار کے نام پر رَوا رکھی جاتی ہے- جو غیرت و عزت پر کلنک ہی کہی جا سکتی ہے-
رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی- ملٹی میڈیا موبائل جس کے مثبت استعمال سے تعلیمی و اصلاحی فتوحات حاصل کی جا سکتی تھیں؛ لیکن منفی استعمال نے تضییع اوقات، برائی، بے حیائی اور فحاشی کی وَبا عام کر دی- نتیجہ یہ ہوا کہ احترام والدین و آدابِ معاشرترُخصت ہو گئے- تہذیبی اقدار سے دوری روز بڑھ رہی ہے- پاکیزہ معاشرہ حیا سے عاری و آلودگی کا شکار بنتا چلا جا رہا ہے- ضرورت اس بات کی ہے کہ:
1- اسلامی علوم سے نسلوں کو آراستہ کروایا جائے-
2- اسلامی تہذیب کے دائرے میں زندگی گزاری جائے کہ ہماری تہذیب قابلِ افتخار ہے-
3- شادی بیاہ رسم و رواج کو شریعت کے مطابق انجام دیے جائیں-
4- شریعت پر عمل کیا جائے اور فضول اخراجات کے بوجھ کم کیے جائیں-
5- رزق بھی پاکیزہ و حلال اختیار کیا جائے کہ بے حیائی حرام رزق سے جڑ پکڑتی ہے-
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صالح اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عشق کی لَو تیز کرنے کا جذبہ صالح عطا کرے- آمین- اعلیٰ حضرت نے بیداری کی فکر دی تھی جسے گرہ میں باندھنے کی ضرورت ہے:
سٗونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چُرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گھٹری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
یہ جو تُجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دَم میں نہ آنا مَت کیسی متوالی ہے
غلام مصطفیٰ رضوی :نوری مشن مالیگاؤں
