عرس نظامی تمام اعراس کے لیے نمونۂ عمل ہے
مولانا محمد جمیل مصباحی
جامعہ اشرفیہ مبارک پور
آج جب جاہل اور نام نہاد پیروں نے اعراس کے اصل مقصد سے صرف نظر کرکے محض نام و نمود، تکمیل خواہش اور معاش کا ذریعہ بنا لیا ہے اور غیر ضروری چیزوں کو ترجیح دے کر اعراس کا اصل مقصد مفقود و معدوم کردیا ہے_جہاں سے شریعت اسلامیہ کی ترویج و اشاعت اور دعوت و تبلیغ ہونی تھی وہی جگہ اب بدعات و خرافات کی گڑھ بن چکی ہے_جہاں سے پیغام اسلام عام ہونا تھا وہیں کے لوگ اب پیغام اسلام سے کورے اور خالی ہوگئے ہیں، جہاں سےحیا اور پردے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا وہی جگہ اب بے حیائی اور بے غیرتی کا مرکز بن چکی ہے، اعراس کی ہیئت و صورت کو اس قدر تبدیل کردیا گیا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ اسے عرس کہیں یا میلہ یا معاش کا ذریعہ یا کچھ اور نام دیں_
لیکن رب کائنات کا بے پناہ شکر و احسان ہے کہ اس تن پروری اور اتباع نفس و ہوی کے زمانہ میں بھی کچھ اللہ عزوجل کے نیک اور مخلص بندے ہیں جو عرس کو عرس کی طرح مناتے ہیں_اور عرس کے اصل مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے عرس کا انعقاد کرتے ہیں_اپنی خانقاہوں میں دینی مزاج اور فکر کو زندہ کیے ہویے ہیں_اور فکر اسلامی کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں ہیں_
اس نوعیت کے اعراس ابھی عنقا اور نایاب تو نہیں ہوئے البتہ کمیاب ضرور ہوگیے ہیں_
انہیں کامیاب اعراس میں نمایا نام عرسِ حضور خطیب البراھین علیہ الرحمۃ و الرضوان بنام عرسِ نظامی* کا بھی ہے_
جہاں شریعت اسلامیہ کے حدود و قیود کا پاس و لحاظ ملحوظ نظر ہوتا ہے پیغام اسلام کے نشر و اشاعت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے، عوام الناس کے اصلاح و تربیت کی جد و جہد ہوتی ہے، ان کی رشد و ہدایت کے لیے وعظ و نصیحت ہوتی ہے اور کتابیں لکھی جاتی ہیں الغرض یہ کہ دینی و دنیاوی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن جد و جہد اور کوشش کی جاتی ہے جو اپنے آپ میں منفرد المثال ہے_
قابل تعریف اور لائق داد و تحسین ہیں شہزادہ و خلیفۂ حضور خطیب البراھین حبیب العلماء حضرت علامہ مفتی محمد حبیب الرحمن قادری رضوی نظامی اور شہزادہ و خلیفۂ حضور حبیب العلماء حضرت علامہ مولانا ضیاء المصطفی نظامی صاحب قبلہ و دیگر شہزادگان حضور حبیب العلماء جنہوں نے اس زمانہ میں بھی *عرس نظامی* کی نوعیت اور تقریبات کو شریعت اسلامیہ کے خلاف بالکل نہ ہونے دیا بلکہ مکمل نظم و نسق کے ساتھ دین متین کی خدمت، ترویج و اشاعت اور اصلاحِ عقائد و نظریات کا جذبۂ صادقہ لے کر اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں_
*الحمد للہ!* ہر سال کی طرح امسال بھی *عرس نظامی* اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ مورخہ ٢٣,٢٤, اکتوبر ٢٠٢٥ء بمطابق ٣٠, ربیع الثانی و یکم جمادی الاولی ١٤٤٧ھ بروز جمعرات و جمعہ کو منعقد ہوا جس میں کثیر تعداد میں علما و مشائخ اہل سنت شریک ہوئے بالخصوص *الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اور دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی* جیسے عظیم اور دینی دانشگاہ کے ماہر و حاذق اور صاحب علم و فضل اساتذہ کرام بھی شریک ہوئے عوام الناس کا تو امنڈتا ہو ایک سیلاب حصول فیوض و برکات کی خاطر چلا آیا_اس عظیم اور روحانی جلسہ کا نظام الاوقات کچھ یوں تھا کہ بعد نماز عصر درود و سلام اور عقیدت و احترام کے حسین گلدستہ کے ساتھ گل پوشی کی گیی_
اور پھر بعد نماز مغرب ہی اس عظیم روحانی اجلاس کی ابتدا سنت قدیمہ اور روایت مستمرہ یعنی *کلام اللہ* کی پرسوز تلاوت سے ہوئی_
جس کے بعد یہ جلسہ شہزادہ و خلیفۂ حضورحبیب العلماء حضرت علامہ مولانا ضیاء المصطفی نظامی صاحب قبلہ زید مجدہ کی سربراہی اور نگرانی میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا_
اور پھر حمد و نعت اور منقبت کا ایک بہترین اور عمدہ سلسلہ چلا اور مختصر خطابات کا ایک زبردست دور بھی چلا_ اور پھر ایک مختصر سے وقفہ یعنی ادائیگئ نماز عشا کے بعد دوبارہ حمد و نعت اور منقبت و تقریر کا زبردست دورانیہ شروع ہوگیا جس میں باہر سے آئے ہویے علمایے کرام اور شعرایے اسلام نے انتہائی عقیدت و احترام اور جامعیت و اختصار کے ساتھ اپنے اپنے جواہر پارے بے حد عمدہ اور حسین ترین اسلوب و پیرایہ میں پیش کرکے سامعین کو اپنا گرویدہ اور شیدا بنالیا_اس سلسلہ میں ناقابل فراموش خلیفۂ حضور حبیب العلماء حضرت علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی صاحب کا انتہائی وقیع اور گراں مایہ بیان ہے جنہوں نے حضور خطیب البراھین علیہ الرحمۃ کی ہشت پہلو شخصیت کو اجاگر کرکے ان کے فضائل و کمالات کو پیش فرمایا_ اس سلسلۃ الذھب کی ایک عظیم کڑی محدث جلیل حضرت علامہ مولانا مفتی صدر الوری مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی ذات بابرکت تھی جنہوں نے احادیث کی روشنی میں اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ حضور خطیب البراھین علیہ الرحمۃ و الرضوان کی حیات طیبہ سنتوں سے لبریز تھی بلکہ آپ نے ان سنتوں پر بھی عمل کرکے دکھایا جن پر عام طور سے لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا اسی وجہ سے تو علما و مشائخ آپ کو *محي السنة* جیسے عظیم لقب سے بھی یاد کرتے ہیں_اس مجلس میں صاحب سجادہ شہزادہ و خلیفۂ حضور خطیب البراھین حبیب العلماء صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ بھی بنفس نفیس شریک ہوکر وعظ و نصیحت اور جذبۂ خدمت دین سے سامعین کو مشرف فرمایا_اس دورانیہ میں باہر سے آئے ہوئے علمایے عظام اور شعرایے کرام نے وعظ و نصیحت، دعوت و تبلیغ اور نعت و منقبت کا ایک بہترین اور زبردست سلسلہ احسن انداز میں جاری و ساری رکھا_
اور پھر وہ مبارک و مسعود لمحہ آ ہی گیا کہ جب مختلف شعبہ جات کے فارغین کو دستارِ علم و فضل سے نواز کر ان کے روشن و تابناک مستقبل کے لیے دعائیں کی گئیں اور انہیں مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم رہ کر خدمت دین کا جذبۂ صادقہ پیدا کرنے کی تلقین کی گئی_پھر درود و سلام کے نذرانہ کے ساتھ اس نورانی محفل کا اختتام ہوا_اور پھر بعد نمازِ فجر قل شریف کی تیاریاں شروع ہوگئیں جس میں پھر سے تمام زائرین ذکر خدا و رسول عزوجل و ﷺ میں رطب اللسان ہوگیے اور پھر مختصر پیغام اور ضروری وعظ و نصیحت کے بعد شہزادہ و خلیفۂ حضور خطیب البراھین حبیب العلماء حضرت علامہ مفتی حبیب الرحمن صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ کے رقت آمیز، متاثر کن اور دلوں کی دنیا بدلنے والی دعا کے بعد دو روزہ کا یہ عظیم روحانی، علمی، دینی اور ادبی اجلاس اختتام پذیر ہوا_
الغرض یہ کہ اس پرفتن اور عیش پرستی کے دور میں بھی جب ہم عرس نظامی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ یہاں کی ساری تقریبات حتی الوسع شریعت اسلامیہ کی روشنی میں منعقد کرنے کی کوشش ہوتی ہے_ اور اس خانقاہ کا شمار ان خانقاہوں میں ہوتا ہے جہاں سے بدعات و خرافات کا قلع قمع کیا جاتا ہے اور پیغام اسلام کو واضح انداز میں عام کیا جاتا ہے_
رب تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس مبارک سلسلہ کو اسی انداز میں تا ابد قائم و دائم رکھے اور جملہ مخیرین و معاونین کو اجر عظیم سے نواز کر ان کو دنیا و آخرت کی سعادتوں سے بہرہ ور فرمایے_
