شادی کی حقیقت اور ہماری خود ساختہ رسمیں
از قلم: محمد عادل ارریاوی
بقلم محمد عادل ارریاوی
آج کے دور میں شادیوں کا تصور بدلتا جا رہا ہے ہم آئے دن سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر دیکھتے رہتے ہیں جن میں شادی کو ایک مقابلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے،مہنگی گاڑیاں، قیمتی لباس،شاندار ہال، ہزاروں مہمان اور لاکھوں روپے کا بےجا خرچ اور دکھاوا اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ شادی جیسے مقدس رشتے کی روح کہیں کھو گئی ہے جو عمل خوشی، سادگی اور محبت کا مظہر ہونا چاہیے تھا وہ نمود و نمائش اور اسراف کی علامت بن گیا ہے۔
شادی ایک خوبصورت رشتہ اور دو دلوں، دو خاندانوں اور دو زندگیوں کا حسین امتزاج ہے،اسلام نے اسے محبت، سکون اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ مگر افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اس مقدس بندھن کو دکھاوا، مقابلہ بازی اور فضول رسومات کے جال میں جکڑ چکا ہے۔
آج کی شادیوں میں سادگی کہیں گم ہو چکی ہے؛ نکاح جو کبھی مسجد میں دو گواہوں کے سامنے چند کلمات سے مکمل ہو جاتا تھا اب لاکھوں روپے کے ہال، ڈیزائنر لباس مہنگی تصویریں اور متنوع کھانوں کا نام بن گیا ہے،جہیز کی لعنت نے کتنی ہی بیٹیوں کو باپ کے گھر بٹھا دیا ہے اور کتنے ہی والد قرضوں میں دب کر اپنی زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھے ہیں۔
شادی کے نام پر مہندی، بارات ولیمہ ڈنر فوڈ کورٹ سب کچھ ایک نمائش بن چکا ہے۔ دلہن کی قیمت اس کے جہیز سے لگائی جاتی ہے اور داماد کی عزت اس کے مہنگے سوٹ یا گاڑی سے ناپی جاتی ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔ (سنن ابن ماجہ) لیکن ہم نے برکت کے بجائے فضول خرچی کو فخر بنا لیا ہے۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ شادی ایک عبادت ہےدکھاوا نہیں، یہ دو خاندانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے نہ کہ مقابلہ بازی کا میدان، جن گھروں میں سادگی اور تقویٰ سے شادیاں ہوتی ہیں وہاں سکون محبت اور برکت ہمیشہ کے لیے بسیرا کرتی ہے۔
اگر ہم چاہیں تو اپنی روایات کو خوبصورت اور با معنی بنا سکتے ہیں؛ شادی کو آسان، پاکیزہ اور سنت کے مطابق کریں؛بیٹیوں کو بوجھ نہیں رحمت سمجھیں؛جہیز کے بجائے تعلیم؛عزت اور محبت دیں اور یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ نکاح سب سے بہتر ہے جس میں دکھاوا کم اور خلوص زیادہ ہو۔ نکاح کو اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسا تعلق بنایا ہے کہ دو علاحدہ رہنے والے اور بعض اوقات ایک دوسرے سے بالکل ناواقف مرد و عورت جنہوں نے شاید ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں ہوتا وہ نکا ح کے بعد پوری زندگی کے لیے ایک دوسرے کے شریک بن جاتے ہیں۔شریعت انہیں ایک دوسرے کا وارث بنا دیتی ہے اور پھر اولاد کا تو ایسا تعلق ہے جو حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حواؑ سے لے کر آج تک قائم ہے اور آخرت کے دن بھی خدائی عدالت اسی نسبت سے ہی انسان کو پکارے گی۔ نکا ح کرنے والے کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ نکاح کرتے وقت سنت پر عمل اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی نیّت کرے۔
حضرت ابُوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے(بخاری )
موجودہ زمانے کی شادیوں میں بے شما ر بے جا اور جاہلانہ رسومات اور گناہ شامل ہو چکے ہیں؛ یہ گناہ نا صرف اخروی تباہی و بربادی کا سبب ہیں بلکہ ان فضولیات کی وجہ سے دنیاوی زندگی بھی اجیرن بن جاتی ہے۔ ان بے جا رسومات اور فضول کاموں کے لیے آدمی کو زندگی بھر کی پونجی کو اس کے پیچھے لگادینا پڑ جاتا ہے بلکہ قرض وغیرہ لے کر اپنے آپ کو اور زیادہ مشکلوں میں ڈالنا پڑتا ہے بےجا اخراجات میں پیسہ اُڑانے سے بہتر ہے کہ وہی پیسہ بچا کر اپنی بیٹی کو دے دو داماد کو دے دو مسجد میں دری بچھوا دو کسی طالب علم کا خرچ برداشت کرلو کسی مریض کا علاج کرادو۔ جب سے ہمارا معاشرہ شادی بیاہ کے موقع پر خرافات اور تکلفات میں مبتلا ہُوا ہے اس وقت سے مقروض ہونے، سودی قرض اور رشوت لینے جیسی برائیوں میں مبتلا ہوگیا ہے اور ان برائیوں کی جڑ یہی فضول خرچی اور اسراف ہے؛ حالاں کہ شریعت نے اسراف و فضول خرچی کو ناپسند فرمایا ہے۔ آخر میں ایک سوال ہر ضمیر سے؛کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سادگی اور ایمان پر مبنی روایت چھوڑنا چاہتے ہیں یا نمود و نمائش کی لعنت؟ فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں دکھاوے،فخر اور اسراف سے بچا لے؛ ہماری شادیوں کو آسان، پاکیزہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنا دے؛ اے اللہ ربّ العزت ہمیں یہ سمجھ عطا فرما کہ اصل خوبصورتی سادگی میں ہے نہ کہ چمک دمک اور فضول خرچی میں؛ہمارے دلوں سے ریا اور مقابلہ بازی کو نکال دے؛ ہماری نسلوں کو دین کی روشنی عطا فرما انہیں ایسی شادیاں نصیب فرما جن میں محبت سکون اور برکت ہو۔
آمین یارب العالمین۔
