نیپال میں مکاتب اور مدارس کا نظام
نیپال میں مدارس اور مکاتب مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور سماجی زندگی کا لازمی حصہ ہیں جو پورے ملک میں مشرق سے مغرب تک پھیلے ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک، ہر خطے میں یہ ادارے دینی تعلیم کی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور بچوں کے عقیدے، کردار اور مذہبی شعور کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس وقت نیپال میں تقریباً ۲۵۰۰ مدارس موجود ہیں جن میں سے لگ بھگ ۱۲۰۰ حکومت کے ساتھ باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم کے اہم مراکز ہیں بلکہ مسلمانوں کی تہذیبی اور سماجی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم، ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے مدارس قائم ہو چکے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کے پاس نہ معیاری اساتذہ ہیں، نہ مناسب نصاب اور نہ ہی وہ تعلیمی ڈھانچہ جو کسی ادارے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا معیار متاثر ہوتا ہے اور مالی و افرادی وسائل بھی بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ان میں سے کئی ادارے محض مدارس کے نام سے مشہور ہیں، مگر حقیقت میں یہ ابتدائی درجے کے مکاتب ہیں جہاں صرف بنیادی دینی تعلیم جیسے قرآنِ کریم کی تلاوت، نماز اور عقائد کی ابتدائی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر ان اداروں کو ان کی اصل سطح یعنی مکتب تک محدود رکھا جائے اور ان کی واضح درجہ بندی کی جائے تو مستند اور بڑے مدارس اپنی توجہ اعلیٰ دینی تعلیم پر مرکوز کر سکیں گے اور پورے ملک میں تعلیمی معیار بہتر ہو سکے گا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ محض مالی مفادات یا چندہ جمع کرنے کے لیے ابتدائی درجے کے ان مکاتب کو مدارس کا درجہ دے دیتے ہیں، حالانکہ ان اداروں کے پاس نہ مطلوبہ طلبہ کی تعداد موجود ہوتی ہے، نہ تربیت یافتہ اساتذہ اور نہ ہی وہ بنیادی سہولیات جو کسی مدرسے کے لیے لازمی ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ ادارے صرف نام کے مدارس رہ جاتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ چھوٹے درجے کے مکاتب ہوتے ہیں جو بنیادی دینی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل کئی نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ جبیہ غیر معیاری مکاتب مدارس کے نام سے رجسٹر ہو جاتے ہیں تو اصل اور بڑے مدارس، جو مکمل دینی تعلیم، رہائش، لائبریری، تربیت یافتہ اساتذہ اور منظم نصاب رکھتے ہیں، ان کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت یا دیگر امدادی ادارے جب فنڈز اور وسائل تقسیم کرتے ہیں تو یہ غیر معیاری ادارے بھی اس فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اصل مستحق مدارس اپنا جائز حصہ کھو دیتے ہیں۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ جب حکومت کے ریکارڈ میں ان چھوٹے مکاتب کو مدارس کے طور پر شمار کیا جاتا ہے تو مدارس کی مجموعی تعداد اصل سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ اس سے حکومت اور تعلیمی پالیسی ساز ادارے یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ملک میں مدارس کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہو چکی ہے، اور اس غلط فہمی کے نتیجے میں دینی تعلیم کے خلاف غیر ضروری تنقید اور پابندیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ جب تک طلبہ، اساتذہ، نصاب اور انفراسٹرکچر کے تمام تقاضے پورے نہ ہوں، ایسے اداروں کو مکتب کی سطح تک محدود رکھنا چاہیے اور انہیں مدرسہ کا درجہ نہیں دینا چاہیے تاکہ نہاصل مدارس کے حقوق متاثر ہوں اور نہ ہی حکومتی پالیسی سازی میں کوئی ابہام پیدا ہو۔
مکاتب کی افادیت اور کردار
مکاتب کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ بچوں کو بنیادی دینی تعلیم جیسے قرآنِ کریم کی تلاوت، نماز، عقائد اور اخلاقیات فراہم کرنے کا سب سے موزوں، غیر متنازعہ اور عوامی نظام ہیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اسلامی معاشروں میں تعلیم کی بنیاد ہمیشہ مکاتب رہے ہیں۔ یہ نظام کم وسائل میں زیادہ تعلیمی نتائج فراہم کرتا ہے۔ عموماً مسجد یا ادارے کے کسی کمرے میں کم اساتذہ اور سادہ نصاب کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے جو بچوں کی دینی بنیاد کو مضبوط بناتا ہے۔ مزید یہ کہ مکتب کے طلبہ اسکول اور کالج میں بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس سے ان میں دینی و دنیاوی علوم کا توازن قائم ہوتا ہے اور وہ معاشرتی ترقی میں بہتر کردار ادا کرتے ہیں۔
مدارس کا اصل مقصد اعلیٰ دینی تعلیم اور علماء کی تیاری ہے، جبکہ مکاتب ابتدائی دینی تعلیم کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔
اگر مکاتب کا نظام مضبوط کیا جائے تو مدارس اپنی اصل ذمہ داری یعنی علماء اور ماہر دینی شخصیات کی تیاری پر توجہ دےسکیں گے۔ اداروں کی درجہ بندی اس سلسلے میں نہایت ضروری ہے۔ حکومت اور تعلیمی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ مکاتب اور مدارس کی واضح درجہ بندی کریں تاکہ ہر ادارہ اپنے تعلیمی معیار، وسائل اور کارکردگی کے مطابق خدمات فراہم کرے۔ اس سے یہ بھی طے ہو سکے گا کہ کون سا ادارہ ابتدائی دینی تعلیم مہیا کر رہا ہے اور کون سا ادارہ اعلیٰ دینی تعلیم کے معیار پر پورا اترتا ہے، تاکہ وسائل کا مؤثر اور منصفانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
لہٰذا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مکاتب کا نظام مسلمانوں کے دینی اور تعلیمی استحکام کی بنیاد ہے۔ اگر ہر محلہ اور گاؤں میں مکاتب کو تعلیم کا مرکز بنایا جائے، بجائے ہر جگہ غیر معیاری مدارس قائم کرنے کے، تو نہ صرف معیاری اور عام فہم دینی تعلیم عام ہوگی بلکہ مالی استحکام اور تعلیمی بہتری بھی حاصل ہوگی۔ نیپال کی موجودہ صورت حال اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ جب تک طلبہ، اساتذہ اور انفراسٹرکچر کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں، ایسے اداروں کو مکتب کی سطح تک محدود رکھنا ہی زیادہ موزوں اور فائدہ مند ہے۔
ڈاکٹر سلیم انصاری
جھاپا، نیپال
