Feb 7, 2026 09:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دکن میں اردو: شان پریہار پروفیسر محمد گوہر صدیقی

دکن میں اردو: شان پریہار پروفیسر محمد گوہر صدیقی

04 Dec 2025
1 min read

دکن میں اردو

شان پریہار پروفیسر محمد گوہر صدیقی

9470038099

   *  علاؤ الدین خلجی کے زمانے سے ہی شمالی ہندوستان کے بادشاہوں نے دکن پر حملہ شروع کر دیا تھا اور اسی درمیان سن 1329ء میں محمد تغلق نے دیوگیر کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور شمالی ہندوستان سے لوگ جوق در جوق انے لگے اور اسی طرح اہل دکن اور شمالی ہند کے باشندوں کے میل ملاپ سے زبان " ہندوی " قدیم اردو وجود میں ائی جسے دکنی اردو بھی کہا جاتا ہے -

       بزرگان دین نے اس دکنی اردو میں رشد و ہدایت کا کام کیا اور اس طرح اس زبان کو مقبولیت حاصل ہونی شروع ہوئی اور پھر تو اس کی رفتار ترقی دکن میں اتنی تیز ہو گئی کہ دکن میں مستقل تصانیف اور تحریری نمونے ملنے لگے اور تصنیف کا یہ سلسلہ بہمنی دور سن 1340 عیسوی سے شروع ہو کر 1525ءتک رہا - اور اس دور میں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے کئی رسالے جو تصوف کے مسائل سے متعلق تھے منسوب کیے گئے مثلا معراج العاشقین، ہدایت نامہ، تلاوۃ الوجود، رسالہ سہ پارہ, اس کے بعد عبداللہ حسینی کا نام اتا ہے، جنہوں نے نشاط العشق کا دکنی میں ترجمہ کیا-  سلطان احمد شاہ بہمنی کے زمانے میں فخردین نظامیایک درباری شاعر ہوا جس کی مثنوی کدم راؤ پدم راؤ بہت مشہور ہے- اس دور کے کچھ مشہور شعراء کے نام حسب ذیل ہیں جس نے دکن میں اردو اور دکن میں اردو شاعری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا -

    1 شاہ میرا جی شمس العشاق ( سن 1562ء  1497 عیسوی ہے) یہ صوفی بزرگ شاعر تھے بجا پور کے رہنے والے تھے  دکنی زبان استعمال کرتے تھے نظم اور نثر میں کئی رسالے تصنیف کیے تھے جس میں خوش نامہ ایک مثنوی ہے  شہادت التحقیق،جو تصوف کے متعلق ایک طویل نظم ہے جس کی زبان سادہ اور سلیس ہے

02 شاہ برہان الدین  شاہ میرا جی کے فرزند تھے صوفی اور عالم تھے ( سن 1599 ء  1554)  ان کی شعری تصانیف میں وصیت الہادی، رموز الواصلین، بشارت الذکر، ارشاد نامہ ہے-

03 اشرف شاہ بیابانی انہوں نے 1503 ء میں ایک طویل مثنوی نو سرہار لکھی جس میں کربلا کے واقعات کو داستان سے نظم کیا ہے زبان کی سادگی اور بیان کی بے تکلفی کے اعتبار سے بھی یہ مثنوی کافی اہمیت رکھتی ہے -

04 شوقی ان کا پورا نام شیخ حسن نام شوقی تخلص تھا ان کی شاعری کی دو مثنویاں قابل ذکر ہیں ظفر نامہ نظام شاہ، میزبانی نامہ سلطان محمد عادل صاحب اس عہد کے رسم و رواج اور تقریبات پر لکھی گئی یہ مثنوی ہے یہ 1632ء عیسوی میں لکھی گئی تھی  -

05 محمد قلی قطب شاہ : یہ ایک کامیاب محبوب حکمراں ہونے کے علاوہ باکمال شاعر بھی تھے ان کا کلام پہلی مرتبہ سن 16ء  میں سلطان محمد قطب شاہ نے مرتب کیا اور پھر 1914 عیسوی میں ڈاکٹر زور نے ترتیب جدید کے ساتھ شائع کیا –

06  وجہی - ابراہیم قطب شاہ کے زمانے میں پیدا 

ہوئے اور بچپن سے ہی شعر کہنے لگے تھے اس دور کے مشہور اور کامیاب شعراء میں ان کا شمار ہوتا ہے ان کی دو کتابیں خاص طور پر مشہور ہیں قطب مشتری جو ایک مثنوی ہے 

07 عبداللہ قطب شاہ  کے 50 سالہ دور حکومت میں اردو کو جو ترقی ہوئی وہ بہت کم بادشاہوں کے زمانے میں ہوئی ہوگی عبداللہ خود بھی شاعر تھے اور دکنی زبان میں اس کا کلام موجود ہے 

08 غواصی سلطان محمد قطب صاحب کے زمانے کا شاعر تھا اس نے تین مثنویاں لکھی مینا ستونتی، سیف الملوک، طوطی نامہ

09 ابن نشاطی ابن نشاطی بھی بلند مرتبہ شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں ان کی مشہور مثنوی پھول بن ہے

10 فائز یا تانہ شاہ کے دور کا شاعر ہے مثنوی رضوان شاہ روح افزا اس کی یادگار ہے -

بہر حال بہرحال دکن میں اردو اور شاعری کی تاریخ میں ولی، فیروز، قریشی، عبدل، رستمی ،نصرتی، باجن، وجیہ الدین ، خوب محمد جیسے شعراء کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ !!

شان پریہار ایک مختصر تعارف

نام-  محمد مسعود عالم ,قلمی نام - گوہر صدیقی 

والد محترم -  ماسٹر ڈاکٹر، مولوی محمد فضل کریم صدیقی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر چاند پٹی مکتب انچل سرسنڈ ضلع سیتا مڑھی صو بہ بہار

تعلیم - ایم اے اردو ،فاضل اردو ، فارسی

خطاب -  شان پریہار ،جان پریہار ،ستا مڑھی ضلع کے ٹاپراسپکر ، اہل قلم 

عہدہ -  صدر شعبہ اردو ایم کے کالج مدھو بن تھانہ بھوتھی ضلع سیتامڑھی بہار 

تالیفات -  عظمت رسول، خاک مدینہ، لال و گوہر،  لغات گوہر، شان پریہار

   تجربات۔ - مزہبی اور سیاسی دونوں موضوع پر بیباکی سے گفتگو کرنے کا ملکہ اور اس وقت ہفت روزہ نیپال اُردو ٹایمز کے بطور بھارت سے مہمانقلم کار 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383