ملک عزیز نیپال احتجاج سے پہلے اور احتجاج کے بعد ،
بلال احمد برکاتی
خصوصی نامہ نگار نیپال اردو ٹائمز
ملک عزیز نیپال میں پچھلے ماہ 8-9 سپتمبر 2025 کو ہونے والے جینجی Gen z انقلابی احتجاج جس میں چوبیس گھنٹہ کے اندر نوجوانان نیپال نے پوری حکومت کو ہلاکر رکھ دیا اور سرکار کرادی ، اور پھر پارلیہ منٹ تحلیل کردی گئی ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے نئی حکومت بن گئی ، اس انقلابی احتجاج کا اصل مقصد ملک نیپال میں تبدیلی لانا بھرسٹچار (کرپشن) کا خاتمہ تھا تاکہ ملک عدل و انصاف کے ساتھ نئے طریقے سے طرقی جی جانب بڑھے اور ملک میں روزگار پیدا ہو عام عوام کو انصاف ملے ، دفتروں میں عام پبلک کو دھکے نہ کھانا پڑے ، اس کے لئے نوجوانوں نے انقلابی تحریک چلا کر انقلاب تو لایا حکومت گراکر نئی حکومت تو بنا لی مگر نئی حکومت نے اب تک نوجوانوں کے اس انقلابی احتجاج پر جس میں تقریبا بہتر 72 نیپالی نوجوانوں نے اپنی جان دی کھرے نہیں اترے اور بھرسٹ کرپٹ نیتاؤں کو اب تک گرفتار تک نہیں کیا گیا ، جب کہ حکومت کا پہلا کام یہی تھا کہ وہ سب سے پہلے ان کرپٹ نیتاؤں کے خلاف اک مضبوط ٹیم بناتی اور سارے بھرسٹ نیتاؤں کو گرفتار کرکے انہیں جیل میں ڈالتی اور پھر تفتیش و تحقیق کے بعد ان کو سزا دیتی اور قوم کے لوٹے ہوئے خزانے کو واپس لاتی اور نیتاوں کے ذریعے کئے گئے کرپشن کو منجمد کرکے واپس سرکاری خزانے میں شامل کرتی ، مگر یہ اب تک نہیں ہوا نیپالی جنتا اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں ،انتظار میں ہیں کہ یہ موجودہ عارضی حکومت کب اپنا کام مکمل کرتی ہے ، احتجاج کے بعد بننے والی نئی حکومت کو تقریبا ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے بعض منتری اپنا کام ایمانداری کے ساتھ کررہے ہیں جیسے ارجا منتری کلمان گھسنگ اور شکچھا منتری مہابیر پُنّ وغیرہ اپنے کام میں دن رات لگے ہوئے ہیں عوام جیسا چاہتی تھی کچھ منتری اس کے مطابق کام کررہے ہیں مگر بعض نئے منتریز وغیرہ اب بھی سستی اور کاہلی کے شکار ہیں جسے جنتا دیکھ رہی ہے ، لھذا نئی حکومت کو چاہئے کہ جنتا کے مانگ کے حساب سے کام جاری رکھے اور بھرسٹ چار گھوس خور نیتا کرمچاری پر شکنجہ کسے اور ان سب کی دھن سمپتی چھان بین کرے اور مجرم ثابت ہونے پر ان کے تمام جائیداد سرکاری خزانے میں جمع کرے ، اور ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے عدل و انصاف کو صاف اور شفاف بنائے ، عدالتوںاور پولیس پرساشن کے سسٹم کو مظبوط بنائے تاکہ نیپال کے جنتا کو لگے کہ وہ اک محفوظ ملک میں ہے ، ملک میں امن چین شانتی بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے قانون کی بالا دستی ضروری ہے جس کے لئے ملک میں مزید پولیس کرمچاری کی ضرورت ہے لھذا نیپال کے ہر ضلعے کے لئے نئے پولیس بھرتی کرے اس سے بےروزگار نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا اور ملک میں قانون نافذ کرنیوالوں کو آسانی ہوگی مجرم جرم کرنے سے پہلے سوبار سوچیں گے ، ،
دوسری بات یہ کہ ابھی بھی ملک نیپال میں کچھ دنگائی مان سکتا کے لوگ دھرم کے نام پر ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کا کام کررہے ہیں ، کچھ تنظیمیں آج بھی دھرم کے نام پر ملک کے مختلف علاقوں میں فتنہ فساد پھیلا رہے ہیں ایسے تنظیموں اور اس کے لیڈروں پر کڑی نظر رکھے غلط ایکٹیویٹی پر نظر رکھے اور ایسوں کو گرفتار کرے جو اس طرح کے دھارمک فساد کرتے کرواتے ہیں اور اس کو کڑی سے کڑی سزا دے تاکہ ملک میں شانتی اور امن چین کا ماحول بنے اور عام انسان آسانی سے نقل و حمل کر سکے ،
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمارے ملک نیپال کو ترقی عطا فرمائے اور دشمنوں کے بری نظر سے محفوظ رکھے آمین ،
بلال برکاتی نیپالی
