Feb 7, 2026 11:06 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضور مجدد برکاتیت اور تبرکات مبارکہ

حضور مجدد برکاتیت اور تبرکات مبارکہ

13 Nov 2025
1 min read

حضور مجدد برکاتیت اور تبرکات مبارکہ

محمد مصیب الرحمن قادری

 (اتردیناج پور، بنگال)

متعلم: دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی (بستی، یوپی)

اللّہ رب العزت ہر زمانے میں اپنے خاص بندوں کو دین کی تجدید، امت کی رہنمائی، اور عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں رکھنے کے لیے بھیجتا رہتا ہے۔

انہی برگزیدہ ہستیوں میں ایک روشن نام حضور مجددِ برکاتیت، حضرت سید شاہ ابو القاسم محمد اسماعیل حسن قادری برکاتی شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کا ہے۔آپ علم و عرفان، تقویٰ و طہارت، اور عشقِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیکر تھے۔

آپ نے دین کی تجدید فرمائی، سلوک و تصوف کی راہیں روشن کیں، اور ہزاروں قلوب کو ایمان و محبت کی روشنی بخشی۔ آپ کے تبرکاتِ مبارکہ اہلِ ایمان کے لیے باعثِ برکت ہیں۔

مجدد کی تعریف

مجدد اس شخصیت کو کہا جاتا ہے جو کسی صدی کے اختتام یا آغاز پر دینِ اسلام کی تجدید کرے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها" "بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے آغاز میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس امت کے لیے دین کی تجدید کرے گا۔"

(ابوداؤد، حدیث شریف)

یعنی جب دین کے کاموں میں کمزوری، بدعات، اور گمراہ کن نظریات کا غلبہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کو بھیجتا ہے جو شریعتِ محمدی ﷺ کی اصل تعلیمات کو تازہ کردے، امت کو راہِ حق دکھائے، اور دینی علوم کو زندہ کرے،اسی حدیث کی روشنی میں علمائے کرام نے امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کو "مجددِ ملت" فرمایا ہے۔ آپ نے اپنے زمانے میں دینِ اسلام کی خالص تعلیمات کی حفاظت فرمائی، بدعات و خرافات کے خلاف جہاد کیا، اور قرآن و سنت کے اصل پیغام کو لوگوں تک پہنچایا۔

~اے امام اہلسنت تاجدار علم و فن 

خوب کی تجدید ملت تم نے اے سرو چمن 

(انوار البیان/جلد اول )

تبرک سے مراد کسی نیک، مقدس یا بابرکت چیز سے اللہ تعالیٰ کی برکت حاصل کرناہے،تبرکات کیا تھے، موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلین مبارک اور ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمامہ مقدسہ وغیرہ، (فتاویٰ رضویہ جلد 21)

یعنی کسی ایسی چیز یا مقام سے فیض حاصل کرنا جو انبیاء، اولیاء یا صالحین سے منسوب ہو۔

جیسے: اولیاء و صالحین کے تبرکات، ٹوپی، جبہ، تسبیح، مصلّیٰ وغیرہ۔

ولادتِ باسعادت:آپ کی ولادتِ باسعادت ۳؍ محرم الحرام ۱۲۷۲ھ، مطابق ستمبر ۱۸۵۵ء میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔جوانی میں قرآنِ مجید حفظ کرنا شروع کیا اور ۱۲۹۳ھ میں حفظ مکمل فرمایا۔

آپ کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق نے اس موقع پر سیتا پور میں ایک عالی شان مسجد تعمیر فرما کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔آپ اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین علیہ الرحمہ سے مرید ہوئے۔حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہ الرحمہ سے علوم حاصل کیے۔

اپنے والد حضرت شاہ محمد صادق صاحب اور حضرت نوری میاں سے خلافت و اجازت حاصل کی۔تصلب فی الدین میں بزرگانِ مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے، اور یہی آپ کا سب سے نمایاں وصف تھا۔اگر آپ کسی کو راہِ حق سے ذرا بھی ہٹتا ہوا دیکھتے تو اصلاح کرنے میں بالکل تامل نہ فرماتے، خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔

آپ نے اپنی انتھک کوششوں سے دینی علوم حاصل کیے اور اپنی اولاد و اقربا کو بھی تعلیمِ دین دی،اس کے علاوہ آپ نے بیش قیمت ادا کر کے اپنے بزرگوں کی کتابیں جمع فرمائیں اور خاندانی کتب خانے کو محفوظ کیا نیز خاندانی روایات کا بھی تحفظ فرمایا۔آپ نے ۱۳۰۰ھ میں حج فرمایا۔آپ کا تخلص "وقارؔ" تھا۔آپ کی زوجۂ محترمہ کا نام سیدہ منظور فاطمہ تھا۔آپ سے دو صاحبزادے تولد ہوئے:(۱) حضرت سید شاہ غلام محی الدین  فقیرِ عالم قدس سرہ(۲) تاج العلماء حضرت سید شاہ اولادِ رسول محمد میاں قدس سرہ ۔ (تاریخ خاندان برکات)

تبرکاتِ خاندانی اور امانتِ ولایت

فقیر عرض کرتا ہے کہ جب اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے سوانحِ حیات قلم بند کیے جاتے ہیں تو ان کے ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے، کیونکہ اولیاء کے حالات صرف تاریخ نہیں بلکہ روحانیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔

ان کے ہر قول، عمل، اور نسبت میں معرفتِ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو رچی بسی ہوتی ہے،اسی طرح جب آپ کی زندگی کے حالات پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آپ کی شخصیت محض علمی و روحانی مقام کی حامل نہیں، بلکہ آپ اپنے بزرگوں کی امانتوں کے امین اور ان کے فیضان کے مظہر ہیں،آپ کی سیرت میں جہاں علم، زہد، اور تقویٰ کی روشنی ہے، وہیں نسبتِ خاندانی اور فیضانِ ولایت کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے،آپ کے بزرگوں نے جب آپ کی صلاحیت، اخلاص، اور صدقِ نیت کو دیکھا تو آپ پر بے شمار عنایات فرمائیں،آپ کو صرف دعا و برکت سے نوازا نہیں گیا بلکہ اُنہوں نے اپنی قیمتی امانتیں اور تبرکات بھی آپ کے سپرد فرمائے،یہ محض ظاہری چیزیں نہیں تھیں، بلکہ روحانی اعتماد کی علامت تھیں۔

وہ جانتے تھے کہ یہ امانتیں ایک ایسے وارث کے ہاتھ میں جا رہی ہیں جو نہ صرف ان کی حفاظت کرے گا بلکہ ان کے فیوض کو آگے منتقل کرے گا۔

الحمدللہ! آج آپ کے قبضہ و اختیار میں وہ بیش قیمت تبرکاتِ خاندانی موجود ہیں جو "سرکارِ کلاں" کے فیضان سے منسلک ہیں،ان میں سے بعض تبرکات مشترکہ طور پر محفوظ ہیں جن کے آپ مالک، قابض اور متولی ہیں،علاوہ ازیں بہت سے ایسے خالص خاندانی اور نادر تبرکات بھی آپ کے زیرِ قبضہ ہیں جو صرف آپ کے خاندان کے مخصوص فیضان کی علامت ہیں،ان برکتوں میں وہ بابرکت بسم اللہ شریف بھی شامل ہے جو خود حضرت غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستِ مبارک سے تحریر شدہ ہے،ایک ایسی تحریر جو قرونِ اولیٰ کے فیضانِ روحانیت کی نشان دہی کرتی ہے،اسی طرح آپ کے پاس بزرگانِ خاندان کے استعمال کردہ ملبوسات، تسبیحیں، دستاریں اور دیگر برکتوں سے معمور اشیاء موجود ہیں۔

ان ہی میں سے ایک وہ مبارک دستارِ خوشی کا ٹکڑا ہے جو حضور صاحب البرکات نے اپنے دستِ مبارک سے عطا فرمایا تھا۔یہ تبرک محض کپڑے کا ایک حصہ نہیں بلکہ ولایت و برکت کی ایسی نشانی ہے جس سے روحانیت کی خوشبو آتی ہے۔

یہ تمام تبرکات آج بھی آپ کے وجود سے فیض دے رہی ہیں۔

جو بھی ان کے قریب آتا ہے، اسے روحانی سکون، اطمینانِ قلب، اور نسبتِ اولیاء کی لذت حاصل ہوتی ہے۔

یہ فیضان دراصل ان روحانی امانتوں کی علامت ہے جو نسل در نسل اہلِ نسبت کے قلوب میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔

فقیر کہتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ کے مقامِ ولایت اور نسبتِ روحانی کا مظہر ہے۔

ایسے ہی افراد کو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی امانتوں کا امین بناتا ہے تاکہ سلسلۂ ولایت کبھی منقطع نہ ہو۔ آپ کے ہاتھوں میں یہ امانتیں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اُن فیوض و برکات کے حقیقی وارث ہیں جو آپ کے بزرگوں کے سینوں سے منتقل ہوئے۔

یہ تبرکات محض ظاہری چیزیں نہیں بلکہ باطنی فیضان کے ظاہری مظاہر ہیں —

ان کے ذریعے عشقِ رسول، محبتِ اولیاء، اور نسبتِ اہلِ اللہ کا چراغ آج بھی روشن ہے۔جو ان کی قدر کرے، گویا اس نے ولایت کی 

خوشبو محسوس کر لی،اور جو ان سے محبت کرے، وہ دراصل اُن پاک نفوس سے جڑ جاتا ہے جن کی نسبت یہ امانتیں ہیں۔

(تاریخ خاندان برکات )

وصالِ پرملال

حضرت سید شاہ ابو القاسم محمد اسماعیل حسن میاں قادری برکاتی علیہ الرحمہ برکاتی خانوادے کے جلیل القدر مشائخ میں سے تھے۔

آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ دین، اصلاحِ امت، اور عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فروغ میں گزاری۔آپ کی مجلس علم و عرفان کا گلشن تھی، جہاں طالبانِ حق کو فیضِ روحانی نصیب ہوتا تھا۔۱۳۴۳ھ میں آپ کا وصالِ پرملال مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔آپ کی وفات سے اہلِ طریقت و شریعت کے دلوں پر غم و اندوہ کی گھٹائیں چھا گئیں۔

آپ کا مزارِ اقدس آج بھی درگاہِ عالیہ مارہرہ مطہرہ میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں عقیدت مند حاضر ہو کر روحانی تسکین حاصل کرتے ہیں۔

آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ اگر انتقالِ مقدسہ کے وقت کسی اور جگہ ہوں تو میرا دفن بہر صورت مارہرہ مطہرہ میں کیا جائے؛

چنانچہ اسی کے مطابق آپ کو وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ (سیدین نمبر) 

یا اللہ! ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے،

دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرنے،

اور عشقِ رسول ﷺ میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔

ان کے وسیلے سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما،

ہمارے دلوں کو ایمان و یقین سے بھر دے،

اور ہمیں اپنے صالح بندوں میں شامل فرما۔

آمین ثم آمین، یا رب العالمین، بحقِ سیدِ المرسلین ﷺ۔

از قلم:

محمد مصیب الرحمن قادری (اتردیناج پور، بنگال)

متعلم: دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی (بستی، یوپی)

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383