خانقاہِ برکاتیہ: برکات و انوار کا گہوارہ
بلال احمد بلالی نظامی علیمی مہراجگنجوی مقیم حال سعودی عرب بیشا
برِّصغیر کی سرزمین ہمیشہ سے علم و عرفان، زہد و تقویٰ اور روحانیت کے سرچشموں سے معمور رہی ہے یہاں کے قلوب اولیاءِ کرام رحمہم اللہ اجمعین کے فیضان سے منور ہوئے، اور یہاں کی فضا ذکرِ الٰہی کی خوشبو سے مہکی انہی روحانی مراکز میں ایک درخشاں نام خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ (ضلع علی گڑھ، ہند) کا ہے، جو کئی صدیوں سے رشد و ہدایت، علم و معرفت اور خدمتِ انسانیت کا منبع و مرکز چلی آ رہی ہے
تاریخی پس منظر
خانقاہِ برکاتیہ کی بنیاد اُس زمانے میں رکھی گئی جب برِّصغیر فکری انتشار اور روحانی زوال سے گزر رہا تھا ایسے وقت میں حضرت علامہ سید شاہ برکات اللہ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علم، تقویٰ اور باطنی کمالات سے ایک ایسی خانقاہ قائم کی جس نے نہ صرف اہلِ ہند بلکہ عالمِ اسلام میں روحانیت کا ایک نیا باب رقم کیایہ خانقاہ اُنہی کے اسمِ گرامی کی نسبت سے ’’برکاتیہ‘‘ کہلائی، اور رفتہ رفتہ رشد و اصلاح کا وہ مرکز بن گئی جہاں سے سینکڑوں علما، صلحا، مفسرین، محدثین اور مصلحین نے فیض پایا
علم و عرفان کا سرچشمہ
خانقاہِ برکاتیہ نے ہمیشہ علم کو روحانیت کا لازمی جزو قرار دیا یہاں صرف ذکر و اذکار ہی نہیں، بلکہ قرآن و حدیث، فقہ، تفسیر، منطق و فلسفہ اور ادب و بلاغت کی تعلیم بھی دی جاتی رہییہاں کے مشائخ نے علم کو عبادت کا درجہ دیا اور علم و عمل کے حسین امتزاج سے ایسی شخصیات تیار کیں جنہوں نے دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں
روحانیت و اخلاق کا مدرسہ
خانقاہِ برکاتیہ کا امتیاز صرف ظاہری تعلیم تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کی تربیت گاہ بھی رہی ہے یہاں آنے والا ہر مرید پہلے اپنے اخلاق کو نکھارتا ہے، اپنے باطن کو صاف کرتا ہے اور پھر خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر معاشرے میں روشنی پھیلاتا ہے
یہی وہ تربیت ہے جس نے خانقاہِ برکاتیہ کے وابستگان کو ’’محبت، امن اور برداشت‘‘ کا سفیر بنا دیا
محبتِ رسول ﷺ کا مرکز
خانقاہِ برکاتیہ کی اساس عشقِ رسول ﷺ پر رکھی گئی یہاں کے ہر شیخ کا پیغام یہی رہا کہ ’’عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے بغیر ایمان کامل نہیں‘‘
ذکرِ نبی ﷺ کی محفلیں، میلاد کی تقاریب، نعتیہ نشستیں اور درود و سلام کی صدائیں اس خانقاہ کی فضا میں رچی بسی ہیں یہی عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم وہ قوت ہے جس نے اسے ہر دور میں زندہ و تابندہ رکھا
خدمتِ خلق اور اجتماعی کردار
خانقاہِ برکاتیہ نے صرف روحانیت کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کیا بلکہ عوامی و سماجی سطح پر بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں
تعلیمی اداروں کا قیام، غریب و نادار طلبہ کی مدد، عوام کی فکری و اخلاقی تربیت، اور باہمی اتحاد و اخوت کے فروغ میں اس خانقاہ کا کردار تاریخ میں روشن مثال کے طور پر موجود ہے
آج کا پیغام
آج کے اس پرآشوب دور میں جب دلوں میں انتشار، معاشرے میں بداعتمادی، اور روحوں میں بے سکونی ہے، خانقاہِ برکاتیہ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے
یہ پیغام ہے محبت کا، اخلاص کا، علم و حلم کا، اور سب سے بڑھ کر خدمتِ انسانیت کا اگر ہم اس خانقاہ کی تعلیمات کو اپنالیں تو یقیناً ہمارے معاشرے میں امن، سکون اور بھائی چارے کے دیے دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں اختتامیہ
خانقاہِ برکاتیہ صرف ایک عمارت یا تاریخی یادگار نہیں، بلکہ یہ برکات و انوار کا وہ گہوارہ ہے جس سے صدیوں سے علم، عرفان اور محبت کے سوتے پھوٹ رہے ہیں
یہ وہ چراغ ہے جو زمانوں کے اندھیروں میں بھی بجھا نہیں اور تا قیامت اہلِ دل کے لیے روشنی کا منبع بنا رہے گا
