بابری مسجد کی شہادت اور اُمت کا خاموش ضمیر
خامہ کش محمد عادل ارریاوی
محترم قارئین بابری مسجد کی شہادت محض ایک عمارت کے ٹوٹنے کا واقعہ نہیں تھا یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی لرزہ خیز شکست کا وہ لمحہ تھا جس نے پوری اُمت کو ہلا کر رکھ دیا 6 دسمبر 1992ء کو جب ہندوستان کے شہر ایودھیا میں صدیوں پرانی مسجد کو شدت پسندوں نے منہدم کیا تو صرف پتھر نہیں گرے تھے یہ ہمارے دلوں کی دیواریں تھیں جو ٹوٹ گئیں اس دن تاریخ نے صرف ایک ظلم کو نہیں دیکھا بلکہ مسلمانوں کے خاموش ضمیر کو بھی پرکھ لیا۔
ہندوستان میں 6 دسمبر 1992ء کو صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بہت سی اور مساجد مسمار کی گئیں اس سانحہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے قلوب مجروح ہوئے ہیں یہ سانحہ عظیم ہے نہایت ہی پر غم و پر الم ہے شہادت چاہے مؤمن کی ہو یا اللہ کے کسی بھی گھر کی شہادت سے ایک نئے باب کا تاریخ عالم میں آغاز ہوتا ہے۔ ایک عبرت آموز تاریخ مرتب ہوتی ہے اور پاکیزہ انقلاب آتا ہے جو ظلم و جبر سے عدل وانصاف کی عظمت کو بچاتا ہے ظالموں جابروں کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے مظلوموں کی آہیں اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہتیں۔ انہیں خوف و ہراس کے اندھیرے سے نکال کر عدل و انصاف شرافت و انسانیت کی روشن فضا میں باوقار زندگی عطا کرتا ہے یہ شہادت کا پاکیزہ انقلاب ہی تو تھا جس نے میدان بدر و احد میں بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جبر و استبداد کی آندھیوں کو مٹا کر رکھ دیا۔ میدانِ کربلا میں یزیدیت کو ہمیشہ کے لئے فنا کر دیا۔ چنگیز و ہلاکو کے گھروں میں حق و صداقت کی قندیلیں جلا دیں۔
بابری مسجد کئی نسلوں کی عبادت محبت اوروحدت کا مرکز تھی یہ مسلمانوں کے وجود کی علامت تہذیبی ورثے کا حصہ اور انصاف کی امید تھی مگر جب یہ مسجد زمیں بوس ہوئی تو یوں لگا جیسے امت کا ایک حصہ اس ملبے تلے دفن ہوگیا۔ دنیا بھر کے مسلمان اس منظر کو دیکھتے رہے ایک زخم کی طرح جو آج تک رس رہا ہے۔ معرکے اور حادثے ہوتے رہے ہیں اور شہادتیں شہیدوں کو گلے لگاتی رہی ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عدل و انصاف حق و صداقت شرافت و انسانیت کے قاتل ذلیل و رسوا ہوئے اور ہوتے رہیں گے مٹے اور فنا ہوتے رہیں گے جبر و استبداد کی لاکھ آندھیاں چلیں مگر حق و صداقت عدل و انصاف کا پرچم بلند ہی رہے گا خالق کائنات نے کبھی بھی اپنی مخلوق پر ظلم و ستم برداشت نہ کیا ہے اور نہ کرے گا۔ بابری مسجد کی شہادت بھی جہاں ایک نئے باب کا آغاز ہے وہیں ایک پاکیزہ انقلاب قدرت کی آمد بھی ہے طاقت کے بل بوتے پر اللہ کی عبادت گاہوں کی حرمت پامال کرنے والے و مسمار کرنے والے بے قصور مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے جمہوریت کے قاتل منھ چھپاتے پھریں گے۔ مگر کہیں جائے پناہ نہ ملے گی بابری مسجد کی شہادت ضرور رنگ لائے گی بے دریغ مسلمانوں کاخون بہایا گیا لوٹی گئی مسلم عورتوں کی عصمتوں کے خلاف قدرت کا خطرناک وعبرت ناک انتقام دنیا اپنے ماتھوں کی آنکھوں سے دیکھے گی۔ اس وقت ظالموں کے پاس اپنے ہاتھوں کے ملنے اور ندامت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ سب سے تکلیف دہ پہلو صرف یہ نہیں تھا کہ مسجد شہید کر دی گئی بلکہ یہ بھی کہ اُمت بھر میں ایک پراسرار خاموشی پھیل گئی ایسی خاموشی جو بے بسیبے حسی اور انتشار کی علامت بن گئی ہم احتجاج تو کر گئے قراردادیں بھی منظور ہوئیں مگر وہ وہ چیخ کہاں تھی جو دلوں سے اٹھتی ہے؟ وہ اتحاد کہاں تھا جو باطل کے سامنے دیوار بن جاتا ہے؟ ہم بحیثیت اُمت ایک جسم کی طرح تڑپے نہیں ہمارا ضمیر جاگا مگر دیر سے اس کے ساتھ ہی قوم مسلم سے بھی کچھ کہنا ہے اگر تمہیں اپنا وقار و اقتدار محبوب و عزیز ہے اپنی عزت و عصمت پیاری ہے تو دنیا کی قوتوں طاقتوں کے مقابلے میں خدا کی بارگاہ میں تیرا ایک سجدہ بھاری ہے۔ جھوٹے اقتدار کی جھوٹی کرسیوں پر بیٹھنے والوں سے کہنے کے لئے سڑکوں پر احتجاج نہ کرو خدا کے گھر پہنچ کر خدا سے فریاد کرو اپنی دکھ بھری داستانیں گنبد خضرا کے مکیں کو سناؤ کانوں کے دروازے بند مت کرو۔ یاد رکھو عظمت وحشت وقار و اقتدار خدا و رسول کے فرمان پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔مسجد کی شہادت نے ہمیں صرف رُلایا نہیں بلکہ ایک سوال بھی چھوڑا ہے کیا ہم نے اس واقعے سے کچھ سیکھا؟ کیا ہم نے باہمی اختلافات کو بھلا کر امت کی اجتماعی طاقت کو بہتر بنایا؟ کیا ہم نے آئندہ نسلوں کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل تیار کیا؟ خاموش ضمیر صرف افسوس کا نام نہیں یہ غفلت کی گہری نیند ہے اور جب تک ہم جاگیں گے نہیں تاریخ ہمیں بار بار اسی ملبے میں دفن کر دے گی۔
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آئندہ کے حادثات تباہی و بربادی کا انتظار مت کرو حالات و خطرات درپیش ہیں تقاضا ہے کہ ہم سوچیں کہ کتنے فرائض ہم ترک کر رہے ہیں۔ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی سنتیں ہم پامال کر رہے ہیں سر کو خدا کی بارگاہ میں جھکا کر دل میں مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا چراغ جلاؤ پھر دیکھو مٹنے والے مٹ جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بابری مسجد کی شہادت امت مسلمہ کے دل پر ثبت ایک دردناک داغ ہے ایک یاد دہانی کہ ہم کب خاموش رہے کہاں کمزور پڑے اور کیوں بیدار ہونا ناگزیر ہے اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی بے حسی کی نیند سے جاگیں ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑیں اور ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھیں جہاں نہ کوئی مسجد گرے اور نہ کسی مسلمان کا ضمیر خاموش رہے۔
اے اللہ ربّ العزت بابری مسجد کی شہادت کے درد کو ہمارے دلوں میں زندہ رکھ ہمیں اتحاد بصیرت اور ہمت عطا فرما ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی توفیق دے امت کے بکھرے دلوں کو جوڑ دے اور ہمارے خاموش ضمیروں کو بیدار فرما۔
