Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فتنہ ارتداد کے اسباب اور ان کا سد باب

فتنہ ارتداد کے اسباب اور ان کا سد باب

27 Nov 2025
1 min read

فتنہ ارتداد کے اسباب اور ان کا سد باب

از اشرف نواز رضوی

(جھاپا نیپال)

ارتداد کیا ہے؟

ارتداد کا لغوی معنی ہے، " التراجع " یعنی لوٹنا، پلٹنا، واپس ہونا، پھر نا وغیرہ۔ لہذا ارتداد عن الدین کے معنی ہوئے التخليی، الرجوع عنه بے دین ہونا، دین سے پھرنا، دین سے پلٹنا۔

مرتد کی اصطلاحی تعریف:

مرتد وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد کسی ایسے امر کا انکار کرے جو ضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے ایسا صریح کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو، یوں ہی بعض افعال بھی ایسے ہوتے ہیں جن سے کافر ہو جاتا ہے۔ مثلا بت کو سجدہ کرنا مصحف شریف کو نجاست کی جگہ پھینک دینا۔ (درمختار، ج : ٦ ص : ٣٤٤ کتاب الجهاد، باب المرتد )

یعنی اسلام کا کلمہ پڑھ کر جو مسلمان ہو جائے اور اس کے بعد کلمہ کفر کہے یا فعل کفر کرے اور اس پر قائم رہے۔ ایسے شخص کو مرتد کہتے ہیں ۔

یوں ہی کوئی شخص بطور مزاق کفریہ کلمہ زبان سے بکے یا کفریہ فعل کا ارتکاب کر بیٹھے وہ مرتد کہلائے گا اگرچہ وہ کہتا ر ہے کہ میری ایسی سوچ نہیں تھی۔ (در مختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج : ٦ ص : ٣٤٣)۔

آج امتہ مسلمہ جن فتنوں سے دو چار ہورہے ہیں ان میں سے اہم اور بڑا فتنہ ۔فتنہ ارتداد کا ہیں  یو ہی ارتداد ہر زمانے میں واقع ہوا ہے نبی کریم ﷺ کے دور میں بھی کُچھ بدبخت اور بدقسمت لوگ گزرے جو اپنے آپ کو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن بعد میں مرتد ہوگئے ارتداد کے تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ ابنِ حجر عسقلانی اپنی مشہور کتاب فتح الباری جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 198 

بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے دور 

مبارک میں ارتداد ہونے والے 2 قسم میں تھے پہلی قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے دوبارہ بت کی عبادت کرنی شروع کردی تھی دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے مسیلمہ کذّاب اور اسود عنسی کی پیروی کی اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے حضور ﷺ کے وفات سے پہلے نبوّت کا دعویٰ کیا 

ارتداد پر مذمّت 

احادیث مبارکہ میں میں ارتداد پر سخت مذمّت وارڈ ہوئی ہے اور اس کے اختیار کرنے والوں کو قتل کی سزا سنائی گئی ہے 

چناچہ حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ فرماتے ہوئے سنا کہ جو کوئی شخص اسلام سے کفر کی طرف پھر جائے اسے قتل کر دینا حلال ہوجاتا ہے ابو داؤد باب الحدود جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 169

حضرت عبداللہ بن عباس  ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کریں اُس کو قتل کر دو۔اس دور پرفتن میں یہ بات کسی سے مخفی نہیں بھی مسلمان با خوبی جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ مسلم خواتین میں فتنہ ارتداد کاز ہرکتنی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہوا نظر آرہاہے خواہ وہ کم عمر بچیاں ہوں یا درمیانہ عمر کی لڑکیاں ہوں حتی کہ شادی شدہ اور بچے والیاں بھی اس فتنے کی شکار ہور ہیں۔

چنانچہ کفار و مشرکین کی تنظیمیں منظم طریقے پر ناپاک سازشوں کے تحت اسی کام پر لگی ہوئی ہیں کہ مسلم لڑکیوں سے تعلقات بنائے جائیں، انہیں عیش و عشرت کی زندگی کا لالچ دے کر محبت و وفا کے جھوٹے وعدے کر کے ان کے ایمان پر ڈاکا ڈالا جائے تاکہ مسلمانوں کی لڑکیوں کا ایمان تباہ کر کے ان کی ناموس پر حملہ کر کے بد نام کیا جائے اور اپنے ناپاک مقصد میں کامیابی حاصل کی جائے

۔ بلکہ مسلم لڑکیوں کو ورغلانے ۔ کے لیے خطرناک منصوبوں کے تحت نو جوانوں کو باقاعدہ ٹرینگ دی جاتی ہے، اس پر انہیں مذہب اسلام کی خاص باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے اردو زبان سکھائی جاتی ہے، پھر یہ غیر مسلم لڑکے سوشل میڈیا پر مسلم لڑکیوں کو میسج کے ذریعے اردو زبان میں کلام کرتے ہیں قرآن نماز کے متعلق گفتگو کرتے ہیں جس و کم علم بھولی بھالی مسلم لڑ کی متاثر ہو کر گفتگو کو جاری رکھتی ہے اور یہیں سے وہ ان کی ناپاک سازشوں کی شکار ہو نا شروع ہو جاتی ہیں ۔

آئے دن ایک سے ایک شرمناک معاملات کی اطلاعات سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہیں اور باضابطہ اس کی بہت سی تصاویر بھی منظر عام پر نظر آرہی ہیں حتی کہ ان لڑکیوں کے نام، عمر اور پتا تک شائع کیا جارہا۔ ملت کی بیٹیاں غیروں کے ساتھ تعلقات بنا کر ان کی جھوٹی محبت کے جھانسے میں آکر اپنے والدین اور خاندان کی عزت و محبت کا جنازہ نکال رہیں، چند دن کی حرام محبت میں اندھی ہو کر کفار کے بدترین جال میں پھنس کر اپنے گھر سے فرار ہوتی نظر آرہی ہیں، اور پھر اپنی دنیا و آخرت کی بربادی کی راہ چن کر مرتد ہو کر ان سے شادی رچار ہیں ۔

 ( استغفر اللہ ) بعدہ ان کفار و مشرکین کے ساتھ انہیں لڑکیوں کے چند دن گزرتے ہیں کہ طرح طرح کی بری خبریں سامنے آتی ہیں مثلا : فلاں لڑکی جو غیر مسلم کے ساتھ رہتی تھی، چند دن کے بعد لڑکے نے آپس میں معمولی جھگڑے کی بنیاد پر اس لڑکی کو بری طرح ہتھیار سے مار کر جنگل میں ڈال دیا۔

اسی طرح فلاں لڑکی نے ( جس نے غیر کے ساتھ شادی رچائی ) شادی کے کچھ دن بعد ہی اس کی اپنے عاشق سے گھومنےجانے کی خواہش پر اسے قتل کر دیا گیا۔

اور یوں ہی بعض لڑکیوں کی اسکول کالج میں غیر مسلم لڑکوں سے تعلقات بنے اور جب بات گھر والوں میں پہنچی تو گھر والے ان کے رشتے پر راضی نہیں، پھر انہوں نے گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کر لی اور ساتھ رہتے ہوئے ایک دو ماہ گزرے کہ لڑکے نے اپنی حوس کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیا کہ تم اپنے راستے ہم اپنے سب ختم ۔

اس کے بعد ان لڑکیوں کے پاس دو ہی راستے بیچتے ہیں ؟ یا تو وہ خودکشی کا راستہ اختیار کر لیتی ہیں یا پھر در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہوئی اپنی بے بسی کا سناتی ہوئی غیروں سے مدد مانگ رہی ہوتی ہیں، البتہ ان کی سنوائی کچھ بھی نہیں ہوتی، کیوں کہ اس حرکت کے بعد ان کی کی معاشرہ میں کوئی عزت باقی نہیں رہتی ، نہ اپنے گھر واپس لوٹنے کا کوئی چارہ کہ گھر والے ہرگز اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے اور نہ لڑکے کے گھر والے اس لڑکی کو رکھنے کو راضی ہوں گے کیوں کہ لڑکا ا سے پہلے ہی چھوڑ چکا ہے۔

قارئین کرام! دیکھا آپ نے مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے تعلقات بنانے اور ان کے ساتھ شادی کرنے کے بعد ان لڑکیوں کا کیا بنا؟ کچھ بھی نہیں بلکہ جن کے ساتھ عشق و وفا کے خواب سجا بیٹھیں، جن کی خاطر اپنے ماں باپ گھر بار کو چھوڑ کر آئیں ، انہیں کے ہاتھوں ذلیل ہو ئیں حتی کے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، انہیں بد بختوں نے ان کو اپنی حوس کا شکار بنا کر بد نام کر کے چھوڑ دیا یا قتل کر دیا گیا، اب ان کا نہ دنیا میں کچھ حصہ رہا نہ آخرت میں ۔

بہت افسوس ہوتا ہے جب ایسے واقعات سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں، سر شرم سے نیچا ہونے لگتا ہے، دل و دماغ پر غصہ و افسوس طاری ہو جاتا ہے، کہ کیسے ہماری اسلامی بہنیں اپنے پاس سب سے قیمتی دولت دولت ایمان ہونے کے باوجود ان کفار و مشرکین کی ناپاک سازشوں کا شکار ہو کر اتنی آسانی سے اس عظیم دولت کو گنوا بیٹھتی ہیں، آگے کی زندگی کی تباہی کا کچھ خیال تک نہیں کرتیں۔ جبکہ اسلام کے خلاف زہرا گلنے والے کتنے بدبختوں نے کھلے عام سوشل میڈیا کے ذریعہ اعلان بھی کیے کہ ہمیں مسلمانوں کی کثیر تعداد میں لڑکیاں چاہیے تب جا کر ہمارا بنایا منصوبہ پورا ہو گا، یعنی ان بد بختوں کا خاص مقصد ہی مسلم لڑکیوں کو دین اسلام سے پھیرنا ہے۔ (نعوذ بالله من ذلك )افسوس کہ یہ سننے جاننے کے بعد بھی ہماری اسلامی مائیں بہنیں ، جوش میں ایسی مدہوش ہو ر ہیں کہ اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہیں، خدا کا خوف نہیں کھار ہیں، اللہ رحم فرمائے ۔ آمین

فِتنہ ارتداد کے اسباب

آگر گہری سے مسلم معاشرہ اور مختلف ممالک کا جائزہ لیا جائے تو اس میں فِتنہ ارتداد کا چند اسباب نظر آئے ہیں 

                         دینی تعلیم سے دوری 

۔ارتداد کا پہلا سبب   دینی تعلیم سے دوری ارتداد کے اسباب میں سے بنیادی سبب ہے ، اس لئے کہ دینی تعلیم مسلم معاشرے کی بنیادی اینٹ ہے اور ملک و ملت کی پوری عمارت کی بنیاد اسی پر قائم ہے، اسی لئے دینی تعلیم کی فضیلت و اہمیت ، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ انداز میں پائی جاتی ہے، اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی لیکن آج مسلم طبقہ میں دینی تعلیم سے جہالت و ناقفیت عام ہوتی جا رہی ہے، جس کی بناء پر لوگ ایمان و کفر میں فرق نہیں کر پاتے اور نتیجہ ارتداد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

موبائل فون کا غلط استعمال 

ارتداد کا دوسرا سبب نوجوان نسل کی بربادی میں موبائل فون کا بھی بڑا دخل ہے، اس کا استعمال بہت سی برائیوں کو جنم دیتا ہے تضیع اوقات تعلیم میں خلل ، اخلاق میں فساد، بے حیائی اور بےشرمی اور اسلامی تعلیمات سے دوری کے ساتھ ساتھ ارتداد جیسی سنگین قباحت اسی سے پیدا ہوتی ہے، فیس بک ، و واٹساپ ، انسٹا گرام وغیرہ پر غیر مسلموں کے نظریات و احوال کا ذہن پر اثر پڑتا ہے اور پھر اس کے

ذریعہ غیر مسلموں سے دوستی کی راہیں کھلتی ہیں جو نتیجتا ایمان و اسلام سے دور کر دیتی ہے۔

                    مُسلم لڑکیوں کا فتنہ ارتداد

 ارتداد کا تیسرا سبب 

فتنہ ارتداد کی ایک نئی شکل جو موجودہ وقت میں مختلف ممالک خصوصاً ملک ہندوستان میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، مسلم لڑکیوں کو دامِ الفت میں پھنسا کر شادی اور نوکری کے نام پر ان کا مذہب تبدیل کرانا ہے، ملک کے طول و عرض میں مختلف مقامات پر یہ ارتداد تیزی سے پھیل رہا ہے، مسلسل شوشل میڈیا اور اخباروں میں اس طرح کی خبریں وائرل ہوتی ہیں ، اس کے اسباب میں مسلم لڑکیوں کی دینی تعلیم سے دوری ، اخلاقی تربیت میں کمی ، والدین اور ذمہ داران خانہ کی جانب سے آزادی و بے پردگی ، اسکولوں اور کالجوں کا مخلوط نظام تعلیم ، موبائل فون کا غلط استعمال لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر ، اور جہیز کی بے جانا جائز رسومات ہیں، جن کی بناء پر مسلم طبقہ کی لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے دامِ الفت میں گرفتار ہو کر اپنے خوبصورت مذہب اسلام کو چھوڑ نے کے لئے تیار ہیں ۔

                  مُسلم لڑکیوں کی وقت پر شادی نہ کرنا     

  ارتداد کا چوتھا سبب وقت پر شادی نہ ہونا : والدین کی بھی سوچ بنتی جارہی ہے کہ جب تک لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہو جائیں ان کی شادی نہیں کرائی جائے گی اور دوسری طرف خود لڑکوں کے والدین بھی اپنے بیٹے کے لیے دو دھاری گائے چاہتے ہیں، پہلے ایسا ہوتا تھا کہ خوب زیادہ جہیز کی مانگ کرتے تھے، اب ذرا سا ہوشیار ہو گئے ہیں ، اب جہیز کے ساتھ ساتھ لڑکی کا ورکنگ ہونا بھی شرط لگاتے ہیں؛ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جہیز کے ذریعہ حاصل کردہ پیسہ تو ایک دن ختم ہو جانا ہے لیکن اگر ہورانی ہر مہینے تنخواہ (Salary) لا کر ہاتھ پر رکھنے والی ہو تو زندگی بہت آرام و سکون کے ساتھ گزرنے لگے گی ، اب اس کام کرنے ترقی کرنے اور زندگی میں کچھ حاصل کر پانے کے چکر میں شادیوں میں جس قدر تاخیر ہوتی جارہی ہے، برائیوں کا گراف اسی قدر بڑھتا جارہا ہے؛ کیونکہ سیکس کرنا ایک انسانی فطرت اور خواہش ہے، اسے بہت زیادہ دنوں تک دبا کر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اسلام دین فطرت ہے، اسی وجہ سے اس نے شادی کے لیے بلوغت کی شرط لگائی ہے کہ انسان جب بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کرادی جائے ۔ ہندوستانی قانون کے مطابق لڑکی کی شادی کی مناسب عمر اٹھارہ جب کہ لڑکے کی اکیس سال ہے، اگر لڑ کی مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے تو تقریبا سترہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کی منگنی کر دینی چاہیے بھلے ہی اس کا نکاح تھوڑا رک کر کرایا جائے؛ کیونکہ جب بچی کے دل میں کسی کے لیے خاص ہو جانے کا احساس جاگ جاتا ہے تو پھر وہ اس کے لیے برائیوں سے بیچنے میں بہت حد تک معاون اور مددگار ثابت ہوتا ہے، جہاں تک شادی کا مسئلہ ہے تو اکیس بائیس سال تک ہر حال میں کر دینی چاہیے، اور پھر اگر وہ مزید پڑھنا چاہتی ہے تو یہ اس کے شوہر کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اسے مزید پڑھنے سے نہ رو کے، اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جب وہ شادی شدہ ہونے کے بعد بھی کالج یا یونیورسٹی میں جائے گی، اور کلاس کے لڑکوں کو یہ بات معلوم بھی ہوگی تو بہت ممکن ہے کہ اس پر کوئی بھی لڑ کا ڈورے ڈالنے سے احتراز کرے گا؛ کیونکہ لوگ عموما خالی پلاٹ پا کر گھر تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں پلاٹ پر جب پہلے سے گھر تعمیر ہو گا تو اس کو گرانے میں ذراسی بھی               اس فتنہ کے تدارک کے ذرائع

سب سے پہلے والدین کے ذمہ چند اہم ذمہ داریاں ہیں :

اپنے بچے بچیوں کی دینی و اخلاقی تربیت کریں۔بچپن سے ان کے دلوں میں اسلام کی حقانیت و محبت کو اجا گر کرائیں ۔ان کی صحبت پر خاص توجہ دیں کس طرح کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہے اس کا بھی علم رکھیں، اچھی صحبت اختیار کرنے اور بری صحبت سے بچنے کی تاکید کریں۔ نماز کی پابندی ضرور کرائیں بیشک نماز بے حیائی اور دیگر گناہ کبیرہ سے روکنے والی ہے، بالغ ہونے سے قبل ہی پردہ کی عادت بنوائیں۔کفار و مشرکین کے افعال رذیلہ سے روشناس کرا کر ان کے تیوہار و رسومات وغیرہ سے خود بھی نفرت کریں اور اپنے بچوں کو بھی نفرت دلائیں۔ان کی صحبت پر خاص توجہ دیں کس طرح کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہے اس کا بھی علم رکھیں، اچھی صحبت اختیار کرنے اور بری صحبت سے بچنے کی تاکید کریں۔

                      مسلم اسکول کالجز کھولے جائیں:

ارتداد کے جو اسباب میں ان کو ختم کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اسلامی تنظیم و تحریک کے تحت اپنے مسلم اسکول کالجز بنائے جائیں ، تاکہ مسلم بچے بچیاں غیر مسلم اسکول میں جانے کے بجائے اپنے ہی اداروں میں داخلہ میں ایسے ادارے بنائیں جہاں اپنے قانون ؟ ئے جاسکے اور مخلوط تعلیمی نظام نہ رکھا جائے، بچوں کو دنیاوی قانون چلائے اور تعلیم کے ساتھ اسلامی تہذیب سے بھی آشنا کرایا جائے، طلبا کی ذہنی قوت کو مغربی تہذیب سے بچایا جائے، صرف . کاغذ کی ڈگری ہی نہ دی جائے بلکہ انسانیت کا سبق بھی پڑھایا جائے اور ساتھ ہی شریعت کی حدود میں رہنا سکھایا جائے۔

اللہ رب العزت تمام امت مسلمہ کی بیٹیوں کو اس فتنے سے بچائے ان کی عزت و آبرو اور ایمان کی حفاظت

فرمائے۔

آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم .

از اشرف نواز رضوی

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383