Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دہشت اور نفرت کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش

دہشت اور نفرت کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش

25 Dec 2025
1 min read

دہشت اور نفرت کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش

اسدالرحمان بیگ

دنیا آج جس دوراہے پر کھڑی ہے وہاں سب سے خطرناک بحران بم، گولی یا میزائل نہیں بلکہ بیانیے کا بحران ہے۔ سال ۲۰۲۵ میں رنگ، نسل، مذہب اور قومیت کی بنیاد پر نفرت اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر انسان نے سیکھا کیا ہے۔ مگر اس سارے منظرنامے میں ایک بات نہایت دانستہ انداز میں مسخ کی جاتی ہے یعنی دہشت گردی اور نفرت کو اسلام کے ساتھ جوڑ دینا۔

یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ نفرت، انتہاپسندی اور تشدد کسی ایک مذہب، خاص طور پر اسلام، کی پیداوار نہیں۔ یہ ایک انسانی بیماری ہے، جو ہر معاشرے، ہر قوم اور ہر مذہب میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جب یہی بیماری کسی مسلمان فرد میں ظاہر ہو جائے تو اسے پورے مذہب کی نمائندگی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اور جب یہی عمل کسی غیر مسلم، سفید فام، یا مغربی معاشرے کے فرد سے سرزد ہو تو اسے “ذہنی مسئلہ”، “انفرادی جنون” یا “سماجی خرابی” قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔

۲۰۲۵ میں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور دیگر 

خطوں میں جو نفرت انگیز واقعات سامنے آئے، ان میں اکثریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف گالیوں، حملوں اور مساجد کی بے حرمتی کے واقعات بڑھے۔ فن لینڈ میں نسلی اور قومی بنیادوں پر نفرت انگیز جرائم نے ریکارڈ توڑے۔ آسٹریلیا میں نازی علامتیں، اسلام دشمن تحریریں اور یہودی و مسلمان برادریوںکے خلاف نفرت نے سر اٹھایا۔ امریکہ میں فائر بم حملے، سفید فام برتری کے نظریات، اور نیو نازی سازشیں منظر عام پر آئیں۔ ان سب کا اسلام سے کچھ تعلق نہیں ۔

اس کے باوجود عالمی میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور 

بعض مغربی و مسلم دشمن ریاستیں ایک مخصوص زاویہ اپنائے رکھتی ہیں۔ اگر کسی حملے میں حملہ آور کا نام محمد ہو، یا اس کی داڑھی ہو، یا اس کا تعلق کسی مسلم اکثریتی ملک سے ہو، تو خبر کا عنوان بدل جاتا ہے، زبان سخت ہو جاتی ہے، اور لفظ “دہشت گردی” پوری شدت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ مگر جب کوئی نیو نازی یہودی بچوں کو زہریلی مٹھائیاں کھلانے کی سازش کرے، یا کوئی سفید فام نسل پرست عبادت گاہ پر حملہ کرے، تو وہ “انتہا پسند” تو ہوتا ہے، مگر اس کے مذہب، تہذیب یا تہذیبی ورثے پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

یہ دہرا معیار محض صحافتی لغزش نہیں، بلکہ ایک گہری فکری بددیانتی ہے۔ اسلام کے بنیادی متون، تاریخ اور اخلاقی تعلیمات واضح طور پر انسانی جان کے احترام، عدل، رحم اور ذمہ داری پر زور دیتے ہیں۔ دہشت گردی کا 

اسلام سے وہی تعلق ہے جو نازی ازم کا عیسائیت سے، یا نسل پرستی کا یہودیت سے ہے—یعنی کوئی تعلق نہیں۔ مگر چونکہ عالمی طاقت کا مرکز مغرب میں ہے، اس لیے وہی طے کرتا ہے کہ کون سا بیانیہ غالب رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ نفرت ایک عالمی رجحان ہے۔ یہ مسلمانوں میں بھی ہے، عیسائیوں میں بھی، یہودیوں میں بھی، ہندوؤں میں

بھی، اور ملحد معاشروں میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ کون سی نفرت کو عالمی خطرہ بنا کر 

پیش کیا جاتا ہے، اور کون سی نفرت کو خاموشی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یورپ میں پناہ گزینوں کے خلاف نفرت، امریکہ میں سیاہ فاموں اور یہودیوں کے خلاف تشدد، آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا، اور مشرقی یورپ میں نیو نازی تحریکیں—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ اسلام نہیں، بلکہ انسان کی نفسیات، خوف، سیاست اور طاقت کا غلط استعمال ہے۔

جب اسلام اور مسلمانوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ خود مسلم معاشرے دفاعی پوزیشن میں چلے جاتے ہیں۔ وہ بجائے اس کے کہ نفرت کے عالمی مسئلے پر بات کریں، ہر وقت وضاحت دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ “ہم دہشت گرد نہیں ہیں”۔ یہ ایک نفسیاتی دباؤ ہے، جو خود نفرت کو مزید گہرا کرتا ہے۔

۲۰۲۵ ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اگر دنیا نے 

دہشت گردی اور نفرت کو ایک انسانی مسئلہ سمجھ کر حل نہ کیا، اور اسے کسی ایک مذہب یا قوم کے کھاتے میں ڈالنے کی روش ترک نہ کی، تو یہ آگ سب کو لپیٹ میں لے لے گی۔ نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، مگر تعصب ہمیشہ ایک ہدف تلاش کرتا ہے۔ آج وہ ہدف مسلمان ہیں، کل کوئی اور ہوگا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ نفرت کہاں ہے—وہ ہر جگہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اسلام نفرت کا منبع نہیں، اور نہ ہی مسلمان دنیا کے واحد مسئلے ہیں۔ مسئلہ وہ عالمی نظامِ فکر ہے جو طاقتور کو معصوم اور کمزور کو مجرم بنا کر پیش کرتا ہے۔ جب تک یہ نظام چیلنج نہیں ہوگا، تب تک نہ دہشت گردی رکے گی، نہ نفرت، اور نہ ہی انسان سکون کا سانس لے سکے گا۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383