May 10, 2026 06:14 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اُردو         زبان         اور         اُس کی ترقی

اُردو زبان اور اُس کی ترقی

30 Apr 2026
1 min read

اُردو        زبان         اور         اُس کی ترقی

اسعداحمد مُجددّی اسدؔ

راس الخیمہ( م۔ ع۔ ا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُردو زبان سبھی جانتے ہیں ہندوستان میں جنمی یہ زبان آج دُنیا کے کونے کونے، دُنیا میں پوری طرح پھیل گئی ہے دراصل اُردو زبان ترکی کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں یہ زبان آج بہت وسیع ہے کیوں نہ ہو اس کی و ساعت یہ زبان کئی زبانوں کی ملی ہوئی زبان ہے جس میں برج بھاشا سے لے کر عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، ہندی، سنسکرت اور کئی زبانوں سے مل کر بنی ہے ہندوستان اس کی جا پیدائش ہے ہندوستان میں تقریباً پانچ سو زبانیں بولی جاتی ہیں اور تقریباً بولی جانے والوں زبانوں کی آمیزش اُردو زبان میں پائی جاتی ہے ایک تحقیقی اطلاع کے مطابق اُردو زبان میں اُردو الفاظ، جملوں، محارؤں کا ذخیرہ قریب سات سے دس فیصد تک ہے اگرچہ یہ زبان مسلمانوں کے تقریباً نواد فیصد لوگ اس زبان کو اپنائے ہیں مگر یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ یہ زبان مسلمانوں کی ہے ایک بڑا طبقہ اور ہندوستان کا ایک بڑا حصّہ اس زبان میں نہ ہی بات چیت کو اپنایا ہے بلکہ اپنی مادری زبان بھی بنایا ہے یہی نہیں اس زبان کی بدولت نام اور شہرت بھی حاصل کی ہے نہ ہی شہرت حاصل کی ہے بلکہ اس زبان میں شاعری، افسانہ نگاری، ناول نگاری بلکہ ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کرکے کتابیں لکھی ہیں۔ شاعری میں دیوان بھی موجود ہیں ایسے شعرائے کرام،افسانہ نگار، ناول نگار کے نام اگر لکھنا شروع کریں تو ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑے گا جس کا خاتمہ نہ ممکن ہے میں ان بے شمار ان گنت ناموں میں سے چند ایک کے نام اور ذکر مناسب سمجھتا ہوں۔ اُردو میں غیرمسلم شاعر، نقاد، شاعر افسانہ نگار، ناول نگار میں منشی پریم چند، کرشن چندر، لال لعل، جوگیندر پال، راجندر سنگھ بیدی، کمارپاشی، گوچی چند نارنگ یہ تو مشہور و معروف اُردو قلم کار ہیں اور جنھوں نے حکومت ہند کی جانب سے اعلیٰ و ارفعے عہدوں پر فائز بھی رہے اور انعام و اکرام سے بھی نوازے گئے، اُردو زبان 

کےتعلق سے کئی ایک ایسے ثبوت موجود ہیں جو کہ یہ زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی یہی پلی بڑی ہوئی، پروان چڑبھی  اس بات کا اعتراف ملک کے بہ وقار عہدؤں پر فائز سبھی حضرات نے کیا ہے، چاہے وہ ملک کے وزیر اعظم ہو، صدر ہو کہ کسی بھی پارٹی کے صدر سکریٹری ہو سبھی نے بلاچوں و بلاجھجک اُردو زبان کو تسلیم کیا۔ اس زبان کو پھلنے اور پھولنے کا حق ہے تمام زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے جس کا اعتراف ہندوستان کی کرنسی پر ان ملک کی چودہ (۱۴) زبانوں میں سے ایک زبان اُردو بھی موجود  ہے۔ اُردو زبان کی تاریخ بہت پرانی ہے اس زبان کی شیرینی اور مٹھاس کی وجہ سے ہند کی دوسری مختلف زبانوں میں شیر و شکر کی طرح ملی ہوئی ہے، ملک کے گوشے گوشے میں کونے کونے میں گاؤں دیہات قصبہ میں یہ زبان نہایت آسانی سے بوبی اور سمجھی جاتی ہے جسے یہ زبان نہ ہی دوسری زبانوں کو آپس میں ملاتی ہے بلکہ ایک دوسرے کو نزدیک اور قریب تر لانے میں معاون ثابت ہوئی ہے اُردو زبان اپنی فطرت سے بڑی خلیق ملنسار اور ہر ایک سے محبت و الفت کا پیغام دیتی ہے ہمارے ملک کے عوام جب بھی آپس میں گفتگو کرتے ہیں اور کہیں کسی قسم کی کھٹاس اور بدمزگی پیدا جوباقی ہے تو فوراً اُردو زبان کا سہارا لے کر اُردو شعر و شاعری سے ماحول کو خوب صورت  اور خوش گوار بنا دیتی ہے جس کی وجہ سے آپسی رنجش اور ٹکراؤ کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے ملک کے کم و بیش سبھی حضرات خواہ مرد ہو کہ عورت اسکول کے طالب علم ہو کہ بچے بوڑھے بول چال میں اُردو زبان کا استعمال کرکے اپنے کاروبار اور نجی خیالات کا اظہار کرکے زندگی کے ہر قدم پر کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔ہندوستان ایک ان گنت زبانوں کا ملک ہے جس میں کم و بیش ۳۰ زبانیں موجود ہیں اور بولی والی زبان کی تعداد بہت زیادہ ہے دُنیا میں ایک سروے کے مطابق دُنیا میں سب سے زبادہ بولی جانے والی زبان مینڈارن اور انگلش کے علاوہ تیسرے نمبر پر اُردو زبان ہی ہے ماناکہ سنسکرت زبان کی تار یخ بہت ہی پرانی  ہے اور اُردو زبان کی تاریخ ابتدا بارھویںصدی عیسوی شروع ہوتی ہے اُردو زبان جو کہ ایک مشترکہ زبان ہے جس میں سنسکرت، عربی، فارسی، ہندی کے الفاظ موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ اُردو زبان کی ابتدائی ارتقائی دور میں ہی کافی شہرت نصیب ہوئی اور ایک دور ایک صدی ایسی گذری جس میں خود حاکمِ وقت اور حکمران کی زبان ہوگئی اور خود حاکمِ وقت کا سرپرستی و نگرانی میں اُردو زبان خوب پروان چڑھی ایک وقت ایسا بھی آیا اسی ملک کی دفتری عدالتی یہاں تک کہ تعلیمی زبان بن گئی۔ اور جب ہندوستان آزاد ہو اس کا آئین مرتب کیا گیا تو آئین میں دستوری حیثیت اختیار کر گئی اور ایک مخصوص طبقہ بلکہ سبھی کو اس میں شامل کرکے دستور کے آئین میں آرٹیکل نمبر (۲۹) اور (۳۰) اور (۳۵۰ اے) کے تحت اقلیتوں کی زبان قرار دی گئی اس کا رسم الخط طے کیا گیا اس کی لسانی اور ثقافتی تحفظ فراہم کی گئی اس لحاظ سے یہ ضابطہ قانونی دائرے میں رہ کر اقلیت اور اس سے تعلق رکھنے والا طبقہ ملک کے کسی بھی کونے میں اپنی زبان و بیان کا حق رکھتا ہے۔ اپنی زبان و مذہب کا بہ ضابطہ حق حاصل ہے اپنی زبان کا استعمال کرکے اس کی ترقی و فرویخ میں تعلیمی ادارے قائم کرسکتا ہے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا اس کا بنیادی حق ہے ملک کا کوئی بھی ریاست خواہ تلنگانہ ہو یا اندھیرا، مہاراشٹر ہو یا پھر ملک کسی بھی ریاستی حکومت سبھی جگہ قانون نافذالعمل کرتے وقت اُن کا اپنا بنیادی حق جمہوریت کو روک نہیں سکتی۔

آج اُردو جیسی زبان کو اس کے حق سے محروم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اپنے پیدائش ملک میں یتیم ہو کر رہ گئی آج اس کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ اتنی تعصبیت آگئی ہے کہ بڑے بڑے لوگ بھی خاموش تماشائی بن گئے ہیں ایسے وقت میں ہمیں پریہ فرائض عائد ہوتے ہیں کسی بھی طرح سے حق حاصل کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ کو استعمال کریں جمہوری انداز میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں میری آواز سے بڑھ کر ہے ہماری آواز۔ ہم سب متحد ہوکر قانونی کاروائی کریں اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں ہمارے نونہالوں میں پنہاں جوہر ہیں اس کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی مادری زبان کا سہارا  لیں۔ اس میں تعلیم دلوائیں اچھی تربیت اور پرورش سے انھیں ملک کا باوقار شہری بنوائیں، استادوں کا بڑا اہم رول ہوتا ہے انھیں قابلیت اور علمیت کا خزانہ عطا کریں والدین بھی اپنی نگرانی و سرپرستی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ اپنی مادری زبان میں تعلیم دلوائیں، قابل بنوائیں اور علم کے سمندر میں غوط زن ہو جائیں اُردو زبان جو آج انتہائی نازک دور سے گذر رہی  ہے اس کا مقابلہ کریں اور اس کو اس کا حق دلوانے میں بچوں کو اپنی علمیت و قابلیت کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دلوائیں جو زبان زندہ رہنے کے لیے آئی ہے وہ ایسے کیسے ختم ہوسکتی ہے اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اسمبلی و پارلیمنٹ میں اس زبان کے اشعار گونجتے ہیں یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زبان کا ہر کوئی معترف ہے سبھی کو معلوم ہے اس زبان کی بدولت بڑے بڑے انقلابیات آئے ہیں۔سائنسی اعتبار سے ہو کہ ریاضی سبھی جگہ اُردو زبان نے اپنا لوہا منوایا ہے ملک کے سبھی چھوٹے بڑے ادارے انجمنیں، محکمہ بڑے فاضل و عاقل دانشور مُفکرمدبر غرضیکہ سبھی ادیب، شاعر، نقاد، اسکالرز، فنکار کو میدان عمل میں آنا چاہیے اور اُردو کو اس کا جائز حق و مرتبہ دلانا چاہیے ناامیدی کمزوری کی علامت ہے بھرپور امید و حوصلہ کے ساتھ نئے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنی سرگرمیاں تیز کرنا ہوگا تاکہ ہندوستان کی بیٹی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ جگمگا اٹھے اور تاقیامت صحیح اور سلامت رہے سکے۔

جو زندہ رہنے کو آئے وہ کیسے ہو برباد

اسدؔ لگاؤ یہ نعرہ کہ ’’اُردو زندہ باد‘‘

یہ پیاری اُردو کہ جس کا نہیں ہے کوئی بدل

حسین ایسی ہے جیسے جمالِ تاج محل

ہر ایک دیس نِواسی نے پائی یہ میراث

وہ رام ہو کہ کرم سنگھ ہو یا کہ میرغیاث

ہے مسجدؤں میں مقدس، پوتر مندر میں

ہر اک گلی میں چلن اور گذر ہے ہر گھر میں

وہ جو کہ بولتے ہیں بھانت بھانت کی بُولی

تو سنیے اُن سے بھی اُردو جمع ہو تب ٹولی

کہیں بھی جائیے اُردو ضرور پائیں گے

سمجھنے بونے ولاے تو مل ہی جائیں گے

ادب میں شعر میں اُونچا مقام ہے اِس کا

سماج کے سبھی شعبوں میں نام ہے اِس کا

زوال اس کو کبھی آئے غیر ممکن ہے

دلوں سے محو یہ ہو جائے غیر ممکن ہے

ہے اس کے نور سے روشن سماج کی دُنیا

اِسی کے نام سے ہے آباد راج کی دُنیا

رہے گا قائم و دائم مدام دُنیا میں

چلے گا سکۂ اُردو تمام دُنیا میں

جو زندہ رہنے کو آئے وہ کیسے ہو برباد

اسدؔ لگاؤ یہ نعرہ کہ ’’اُردو زندہ باد‘‘

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)