Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضرت سید شاہ صادق علیہ الرحمہ ایک تعارف

حضرت سید شاہ صادق علیہ الرحمہ ایک تعارف

13 Nov 2025
1 min read

حضرت سید شاہ صادق علیہ الرحمہ ایک تعارف

از قلم:حضور تاج العلماء سید محمد میاں قادری برکاتی قدس سرہ

خاتم الاسلام حضرت سید شاہ محمد صادق قدس سرہٗ آپ بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ اولاد رسول قدس سرہٗ کے تھے۔آپ کی ولادت ساتویں رمضان شریف ۱۲۴۸ھ بارہ سواڑتالیس ہجری کی تھی۔ تربیت وتعلیم اپنے والد ماجد سے پائی۔ بیعت وخلافت آپ کو اپنے مکرم حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہٗ سے تھی۔ نیز اپنے عم اعظم حضرت سید شاہ آل رسول صاحب اور اپنے حضرت والد ماجد قدس سرہما سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔ اپنے ان تینوں بزرگوں اور بزرگان خاندان برکاتیہ کے کمالات ظاہری وباطنی کے آپ وارث تھے۔

آپ کاعقد اپنے عم ومرشد حضرت سید شاہ غلام محی الدین قدس سرہٗ کی صاحبزادی سکینہ بیگم صاحبہ سے ہوا جن سے آپ کے دو صاحبزادے حضرت سید شاہ ابو القاسم محمد اسمٰعیل جن الملقب بہ شاہ جی اور سید شاہ ابو الکاظم محمد ادریس حسن ستھرے میاں اور پانچ صاحبزادیاں امداد فاطمہ حیدری بیگم وطفیل فاطمہ ابرار بیگم واحتشام فاطمہ سید ہ بیگم وامتہ الفاطمہ و انظار فاطمہ تھیں۔ 

بڑی صاحبزادی حیدری بیگم کا عقد سید شاہ نورالحسن ابن سید شاہ غلام محی الدین قدس سرہٗ سے ہوا۔ یہ صاحب اولاد ہیں جس کا ذکر آئے گا۔

 دوسری صاحبزادی ابراربیگم کا عقد سید حسین حیدر صاحب ابن سید محمد حیدر صاحب سید دلدار حیدر صاحب نواسہ سید شاہ آل رسول صاحب سے ہوا۔ یہ صاحب اولاد تھیں جس کا ذکر آتا ہے۔ ان کا انتقال مارہرہ میں پنجشنبہ ۲۶؍ رجب ۱۳۴۱ھ کا دن گزر کر بعد نماز مغرب شب جمعہ ۲۷؍ رجب سن تیرہ سواکتالیس ہجری میںہوا اور درگاہ شریف میں صحن پیش مکتب میاں جی صاحب میںمتصل مزار حسینی بیگم مرحوم اہلخانہ سید یوسف حسن صاحب مرحوم دفن ہوئیں۔

            تیسری صاحبزادی سیدہ بیگم کا عقد سید شاہ ابوالحسن میر صاحب سے ہوا ۔ان کا انتقال سیتا پور میں تیسری رمضان شریف جمعہ ۱۳۱۷ھ تیرہ سو سترہ ہجری میں ہوا اور قبرستان عید گاہ میں دفن ہوئیں۔ ان کے ایک لڑکے شیخ محی الحسنین پیربرکات ہیں 

            چوتھی صاحبزدی امۃ الفاطمہ کا عقد سید شاہ ایوب حسن صاحب ابن سید شاہ یوسف حسن صاحب ابن شاہ نورالمصطفیٰ صاحب سے ہوا۔ یہ صاحب اولاد ہیں جس کا ذکر آئے گا۔

             پانچویں صاحبزادی انظار فاطمہ کا عقد سید حامد حسن صاحب ابن سید شاہ محمد باقر صاحب سے ہوا تھا۔ ان کا انتقال مارہرہ میں شنبہ تیسویں ذی الحجہ ۱۳۲۱تیرہ سواکیس ہجری میں ہوا اور درگاہ شریف میں دفن ہوئیں۔ ان کی اولاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ سیدادریس حسن صاحب کی ولادت اٹھارہ ربیع الاول ۱۲۸۳ھ بارہ سو تراسی ہجری میںلکھنؤ میں ہوئی ۔بیعت و خلافت آپ کو اپنے ماموں سید شاہ نورالحسن صاحب سے تھی اور اپنے والد ماجد سے بھی اجازت وخلافت تھی۔ آپ کا عقد ریحان فاطمہ دختر سید شاہ یوسف حسن ابن سید شاہ نورالمصطفیٰ ابن سید شاہ غلام محی الدین قدس سرہم سے ہوا۔ آپ کے ایک لڑکا سید جواد حسن قمر عالم ہے جس کی ولادت ستائیس محرم ۱۳۱۵ھ تیرہ سوپندرہ ہجری کی ہے اور جسے بیعت حضرت والدماجد مدظلہم سے ہے۔ سید ادریس حسن صاحب کا انتقال یکشنبہ بارہ یاتیرہ ربیع آخر شریف (باختلاف روایت) ۱۳۲۵ھ تیرہ سو پچیس ہجری میں سیتا پور میںہوا ۔قبرستان عید گاہ میںمابین مزار اپنی والدہ اور نانی صاحبہ کے آپ کا مزار ہے۔

            حضرت سید شاہ محمد صادق صاحب قدس سرہٗ کی سوانح عمری اور کارنامہ دینی و دنیوی مفصل ومشرح ان شاء اللہ تعالیٰ فقیر اپنی بیاض زیر تالیف میںدرج کرے گا۔ مختصر یہ کہ آپ کے صدقات جاریہ بفضلہ تعالیٰ جابجا جاری ہیں۔ متعدد کنوئیں آب نوشی عامہ مخلوق کے لیے بنائے، بہت سے کنوئیں آب پاشی کے بنائے۔ بہت سے باغ لگائے۔ جائداد آبادی میں بہت سی ترقیاں کیں۔ بہت جائداد خود نئی خرید فرمائی۔ بہت سے مکان سیتا پور وغیرہ میں بنائے۔ خانقاہ مارہرہ میں محل سراعالی شان وحویلی سجادہ نشینی ازسر نوبنائی۔ مسجد خانقاہ ودرگاہ معلی کی بہت کچھ مرمت وتعمیر فرمائی۔ سیتاپور میں مکانوں اور کوٹھی کے علاوہ جب حضرت والد ماجد قرآن شریف حفظ کرچکے، اُس کے بعد حسب عرض

والد ماجد سیتاپور میں ایسی عمدہ خوشنما مسجد شاہراہ عام پر تعبیر فرمائی جو اس وقت سیتا پور کیا بلکہ گردونواح میںدور دور اپنی نظیر آپ ہی ہے۔ جس کی تکمیل ۱۲۹۶ھ میں ہوئی۔

حضرت تاج الفحول بدایونی قدس سرہٗ نے آیہ کریمہ ’’یا یہاالذین آمنو اارکعو ا واسجدو‘‘ میں تاریخ تعمیر فرمائی۔ یہ مسجد بحمد اللہ تعالیٰ اس وقت تک خوب آباد رہتی ہے۔  برابر روزانہ کثیر مسلمان نماز ادا کرتے رہتے ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ ہمیشہ آباد رکھے ۔آمین 

ابتدائے ہوش سے آخر عمر تک پابند ی اوقات ومعمولات خاندانی کبھی ناغہ نہ ہونے دی۔ اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد اوردیگر اعزہ کو تعلیم علوم دینی دی اور دلوائی اور حافظہ قرآن مجید کرایا۔ بہت سے مراسم وامور خلاف شرع جو اہل خاندان میں رواج پاگئے تھے۔ اُن کی بیخ کنی اور احیاء سنن وترویج احکام شریعت میںآپ کے مال وزر،دست وزبان، ہمت و حوصلہ نے کارہائے نمایاں کیے۔ مطبع صبح  صادق سیتا پور میںجاری فرمایا جس نے اشاعت کتب دینیہ وفائدہ رسانی اہل سنت میں بہت کچھ خدمات انجام دیں۔فن طب اپنے والد ماجد وعم مکرم سیدشاہ آل رسول صاحب سے اور کچھ مولانا فضل رسول صاحب قدس سرہما سے بھی علماً عملاً حاصل کیا۔ اس فن میں آپ کو یدطولیٰ تھا۔مخلوق خدا کو اپنے علم وعمل ومال سے مدت العمر فائدہ پہنچایا۔ اپنے اعزہ و اقربا کے ساتھ صلہ رحم اور انتہاء درجہ ملا طفت و مسالمت کے برتاؤ کومدنظر رکھا۔ اگر کسی نے اپنی نافہمی سے مخالفت بھی کی جب بھی حضرت نے درگزر فرمائی۔ باوجودقوت کبھی کسی سے انتقام لینے کی طرف متوجہ نہ ہوئے باوجود سرمایۂ کثیر دینی و دینوی عجب وپندار پاس نہ آیا۔ باوجود وصول دولت وثروت واقتدار و کار وکالت وحکومت روزگار زاہدانہ ودرویشانہ گزر فرمائی۔ امراء

وحکام کی صحبت سے تنفر رہا، حالانکہ جہاں حضرت تشریف رکھتے وہاں کے امراء وغرباء سب آپ کے پاس آتے رہتے اور آپ سے ملنے کو مغتنم سمجھتے۔

            میں نے ثقات سے سنا ہے کہ آپ نے سیتا پور میںتقریباً پینتالیس برس قیام فرمایا۔مگر ایک شخص بھی یہاں نہیں ہے کہ جو آپ کا شاکی ہو بلکہ ہر شخص آپ کو اپنا مربی سمجھتا تھا۔ آپ کی جمع کی ہوئی دو بیاضیں نسخہ جات طب کی ہیں۔ شب پنجشنبہ چوبیس شوال ۱۳۲۶ھ تیرہ سو چھبیس ہجری میں آپ نے سیتا پور میںوصال فرمایااور وہیں اپنے باغ میں جو قینچی کے پل کے پارسڑک شاہجہانپور پر ڈیہ پر واقع ہے مدفون ہوئے۔ میرے والد ماجد نے مصرعہ تاریخ سن  وصال یہ فرمایا ع’’ باوصل خداشاد محمد صادق ‘‘ ۔حضرت کے مزار پر میرے والد ماجد نے باغ میں چاہ پختہ بنایا ہے اور ارادۂ تعمیر روضہ وحصار باغ ہے۔ اللہ تعالیٰ راست لائے۔  ٭٭٭

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383