May 10, 2026 06:13 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مسلم معاشرے میں رسمِ ہلدی  شرعی نقطۂ نظر،

مسلم معاشرے میں رسمِ ہلدی شرعی نقطۂ نظر،

30 Apr 2026
1 min read

مسلم معاشرے میں رسمِ ہلدی شرعی نقطۂ نظر،

انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

صدر المدرسین جامعہ رضویہ زینت العلوم 

سرس کھیڑا ضلع مرادآباد 

مسلم معاشرہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ایسا پاکیزہ اور متوازن نظامِ حیات کا حامل ہے جس کی بنیاد وحیِ الٰہی، تعلیماتِ نبویہ ﷺ اور اسلافِ امت کے معتدل و مہذب طرزِ عمل پر قائم ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کو واضح اصولوں اور ضابطوں کے ساتھ مربوط کیا ہے، یہاں تک کہ خوشی اور مسرت کے مواقع بھی ایک خاص وقار، حیا اور اعتدال کے ساتھ منانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ نکاح، جو انسانی معاشرت کی اساس اور نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے، اسلام میں ایک مقدس عبادت اور باعثِ برکت عمل قرار دیا گیا ہے، جسے سادگی، آسانی اور پاکیزگی کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے میں ایسی متعدد غیر اسلامی رسوم داخل ہو چکی ہیں جنہوں نے نکاح جیسے بابرکت عمل کو بوجھل، مہنگا اور خرافات کا مجموعہ بنا دیا ہے۔ انہی رسومات میں ایک نمایاں اور تیزی سے فروغ پانے والی رسم "ہلدی" کی ہے، جو بظاہر ایک خوشی کی تقریب معلوم ہوتی ہے مگر اپنے اندر کئی شرعی، اخلاقی اور تہذیبی قباحتیں سموئے ہوئے ہے۔

رسمِ ہلدی کا تاریخی پس منظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ دراصل برصغیر کی ہندو تہذیب سے ماخوذ ایک روایت ہے، جس میں شادی سے قبل دلہا اور دلہن کو ہلدی لگانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو نہ صرف جسمانی خوبصورتی بلکہ بعض توہماتی تصورات کے تحت نحوست کو دور کرنے اور برکت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب مسلمان اس خطے میں آباد ہوئے اور مقامی تہذیبوں کے ساتھ ان کا میل جول بڑھا تو رفتہ رفتہ یہ رسم بھی ان کے معاشرتی ڈھانچے میں داخل ہو گئی۔ ابتدا میں شاید یہ محض ایک ثقافتی اثر تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے ایک مستقل اور لازمی تقریب کی حیثیت اختیار کر لی، یہاں تک کہ اب بعض حلقوں میں اسے شادی کا ناگزیر جز سمجھا جانے لگا ہے۔

موجودہ دور میں اس رسم کی صورت حال نہایت تشویشناک ہو چکی ہے۔ ہلدی کی تقریب اب محض ہلدی لگانے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک مکمل "ایونٹ" بن چکی ہے جس میں گانے بجانے، رقص و سرود، مخلوط محافل، بے پردگی، فیشن کی نمائش اور فضول خرچی کا کھلا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ دلہا اور دلہن کو مجمع کے سامنے بٹھا کر ان پر ہلدی ملنا، مخصوص گیت گانا، قہقہوں اور غیر سنجیدہ حرکات کے ذریعے اس مقدس موقع کو ایک تماشہ بنا دینا، یہ سب ایسے مظاہر ہیں جو کسی بھی مہذب اور دینی شعور رکھنے والے معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہونے چاہییں۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے محض ایک غیر ضروری رسم پر خرچ کر دینا اسراف کی بدترین مثال ہے۔

 اگر اس رسم کا شرعی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو کئی اہماصول سامنے آتے ہیں جو اس کی حیثیت کو واضح کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے "تشبہ بالکفار" کا مسئلہ ہے۔ اسلامی تعلیمات میں غیر مسلم اقوام کی مذہبی اور مخصوص تہذیبی علامات کی نقالی سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد کہ "جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے" اس بات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ چونکہ رسمِ ہلدی اپنی اصل میں غیر مسلم تہذیب سے ماخوذ ہے اور ایک مخصوص مذہبی و ثقافتی پس منظر رکھتی ہے، اس لیے اسے بطور رسم اپنانا شرعاً محلِ نظر ہے، خصوصاً جب اسے شعائر کی طرح اہتمام کے ساتھ منایا جائے۔

دوسرا اہم پہلو بدعت اور غیر ثابت امور کا ہے۔ اسلام نے عبادات اور معاشرتی اعمال دونوں میں حدود مقرر کی ہیں۔ نکاح کے حوالے سے قرآن و سنت میں جو طریقہ کار بیان ہوا ہے، اس میں سادگی اور بے تکلفی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی ایسی رسم کو جو شریعت میں نہ ہو، شادی کا لازمی حصہ سمجھ لینا یا اسے دینی یا سماجی حیثیت دینا بدعت کے دائرے میں آتا ہے۔ رسمِ ہلدی اگرچہ بظاہر عبادت نہیں، مگر جب اسے ایک مستقل اور ضروری رسم کے طور پر اپنایا جائے تو یہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہو جاتی ہے۔ تیسرا پہلو ان قباحتوں کا ہے جو اس رسم کے ساتھ جڑ چکی ہیں۔ بے پردگی، نامحرموں کا اختلاط، موسیقی اور لغویات، یہ سب ایسے امور ہیں جن کی حرمت مسلم ہے۔ جب ایک رسم ان تمام منکرات کا مجموعہ بن جائے تو اس کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسلام نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ ایسی تقریبات حیا کے اس تصور کو مجروح کرتی ہیں اور معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیتی ہیں۔چوتھا اہم مسئلہ اسراف اور فضول خرچی کا ہے۔ قرآن کریم نے فضول خرچی کو شیطانی عمل قرار دیا ہے اور اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ آج کے دور میں ہلدی کی تقریبات پر جس طرح پیسہ لٹایا جاتا ہے، وہ نہ صرف دینی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے۔ اس کی وجہ سے شادی ایک مشکل اور مہنگا مرحلہ بن جاتی ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی اعتبار سے بھی اس رسم کے اثرات نہایت منفی ہیں۔ یہ شادی کو سادگی اور برکت کے بجائے نمود و نمائش اور مقابلہ بازی کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تقریبات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ریاکاری اور دکھاوے کا رجحان فروغ پاتا ہے۔ مزید برآں، نوجوان نسل ان رسومات کو دیکھ کر یہی سمجھتی ہے کہ شادی کا اصل مقصد یہی تفریح اور ہنگامہ آرائی ہے، جس سے نکاح کی اصل روح پسِ پشت چلی جاتی ہے۔

ان حالات میں اصلاح کی ضرورت انتہائی شدید ہے۔ سب سے پہلے یہ ذمہ داری اہلِ علم، علماء اور خطباء پر عائد ہوتی ہے کہ وہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ ان مسائل کو عوام کے سامنے پیش کریں اور صحیح اسلامی تعلیمات کو اجاگر کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین اور سرپرستوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا کہ وہ اپنی اولاد کی شادیوں میں سادگی کو اختیار کریں اور غیر اسلامی رسومات سے اجتناب کریں۔ معاشرے میں ایسے نمونے پیش کیے جائیں جن میں نکاح سنت کے مطابق سادہ اور بابرکت انداز میں انجام پائے، تاکہ دوسروں کے لیے بھی ترغیب کا باعث بنیں۔

میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کا استعمال بھی مثبت انداز میں کیا جا سکتا ہے، جہاں سادہ شادیوں کو فروغ دیا جائے اور ان خرافات کے نقصانات کو اجاگر کیا جائے۔ اگر معاشرے کے بااثر افراد خود اس سلسلے میں پہل کریں تو یقیناً اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

رسمِ ہلدی بظاہر ایک معمولی اور خوشی کی علامت سمجھی جانے والی تقریب ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی غیر اسلامی روایت ہے جو مسلم معاشرے میں غیر مسلم تہذیب کی نقالی، بدعت، اسراف، بے حیائی اور دیگر متعدد قباحتوں کو فروغ دے رہی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نکاح کو سادہ، پاکیزہ اور بابرکت بنانے کی تعلیم دیتی ہے، جبکہ یہ رسم اس کے برعکس ایک بوجھل اور غیر ضروری اضافہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنی دینی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایسی تمام رسومات سے اجتناب کریں جو قرآن و سنت کے مزاج کے خلاف ہوں، اور نکاح کو اس کی اصل روح کے مطابق سادگی اور وقار کے ساتھ انجام دیں۔ یہی طرزِ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی اور ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)