Feb 7, 2026 09:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سیرتِ نبوی ﷺور نوجوان نسل

سیرتِ نبوی ﷺور نوجوان نسل

11 Dec 2025
1 min read

سیرتِ نبوی ﷺور نوجوان نسل

از مفتی محمد انیس الرحمن حنفی رضوی

استاذ و ناظم تعلیمات جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلس اسکول سوار ضلع رامپور یوپی

انسانی تہذیب کا مطالعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ہر قوم کی ترقی، بقا اور تمدنی استحکام کا اصل سرمایہ اُس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہی عمر انسانی قوتوں کا نقطۂ عروج ہے، جہاں ذہن تازہ، حوصلے بلند، جذبات توانا اور عزائم روشن ہوا کرتے ہیں۔ اسی مرحلے میں سوچ کی سمت متعین ہوتی ہے، شخصیت کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور عملی زندگی کا دھارا آگے بڑھتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نوجوانوں کا صحیح استعمال قوم کو بلندی عطا کرتا ہے اور غلط رخ اسے تاریکی میں ڈھکیل دیتا ہے۔

اسلام نے نوجوانی کو محض ایک جذباتی یا حیاتیاتی مرحلہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک امانت، ذمے داری اور قیادت کی تیاری کا دور قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنے آخری محبوب رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو وہ کامل اور جامع نمونہ بنا کر بھیجا جو عقل کو روشنی، دل کو طہارت اور کردار کو استقامت عطا کرتا ہے۔ سیرتِ نبویؐ دراصل انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی ساخت کی ایسی درسگاہ ہے جس سے نوجوان نسل اپنی زندگی کی سمت متعین کر سکتی ہے۔

یہ مضمون اسی فکری حقیقت کا تجزیہ کرتا ہے کہ نوجوان نسل کے سامنے سیرتِ محمدی ﷺ کن اصولوں کی صورت میں رہنمائی پیش کرتی ہے، اور کیوں آج کے دور میں اس رہنمائی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے

نوجوانی: انسانی زندگی کا فیصلہ کن موڑ

نوجوانی جذبات و ارادے کے تیز بہاؤ کا نام ہے۔ اس عمر میں انسان کو اپنی صلاحیتوں پر فخر، قوت پر اعتماد اور عمل پر غرور ہوتا ہےاور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خطرات کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ اگر اس قوت کو صحیح سمت ملے تو نوجوان علم کا بھی پہاڑ بنتا ہے، اخلاق کا بھی چراغ اور خدمتِ خلق کا بھی مینار۔ لیکن اگر یہ سمت بگڑ جائے تو یہی توانائی غرور، بغاوت اور بربادی میں بدل جاتی ہے۔

اسی لیے اسلامی تاریخ میں ہمیشہ نوجوانوں کو وہی مرکزیت حاصل رہی ہے جو ایک عمارت کے ستون کو ہوتی ہے۔ صحابۂ کرام کی بڑی تعداد نوجوان تھی، بدر و احد کے مجاہدین نوجوان تھے، صفہ کے طلبہ نوجوان تھے، اولین مبلّغ نوجوان

تھے۔ قرآن نے بھی اسی وجہ سے نوجوان قلوب کو قابلِ قبول ترین دل قرار دیا۔سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ

سچائی اور امانت اخلاقی تعمیر کی اساس

رسول اکرم ﷺ کی شخصیت کی پہچان آپ کی صداقت و امانت تھی۔ نبوت سے پہلے بھی اہلِ مکہ آپ کو ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ دشمنوں نے آپ ﷺ پر ہر طرح کی تہمتیں لگائیں، مگر جھوٹ کا الزام کبھی نہ لگا سکے۔آج کا نوجوان بھی اگر سچائی کو اپنی عملی زندگی میں محور بنا لے تو اس کے چند ہی دن کی سچائی اس کے کردار کو وہ وزن دے گی جو بڑے بڑے منصب اور تعلیمی سندیں نہیں دے سکتیں۔ جھوٹ وہ دروازہ ہے جس سے بے شمار گناہ داخل ہوتے ہیں، اور سچ وہ قفل ہے جس سے تمام برائیاں بند ہو جاتی ہیں۔

 تجارت میں دیانت معاشی دنیا کا سنہرا اصول

نبی کریم ﷺ کا تجارتی اسلوب شفافیت، نرمی، دیانت اور امانت کا حسین امتزاج تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اپنا مال اس علم کے ساتھ دیا تھا کہ محمد ﷺ کے ہاتھ میں امانت ضائع نہیں ہوتی۔ نتیجتاً انہیں منافع بھی ملا اور اعتماد بھی۔

اس کے برعکس آج معاشرے میں تجارت دھوکے، فریب، جھوٹ، غلط بیانی اور مکاری سے آلودہ ہے۔ ایک نوجوان اگر کاروبار یا نوکری میں نبوی اصول اپنائے تو اس کی شناخت صرف ایک تاجر یا ملازم کی نہیں رہتی، بلکہ وہ امانت دار 

مسلمان کے نمائندہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے نقص کو چھپانے کو سخت منع فرمایا اور معاملے میں شفافیت کو اخلاقی فریضہ قرار دیا۔

محنت، جدوجہد اور مستقل مزاجی  کامیابی کا حقیقی راستہ سیرت نبویؐ میں دعوت کے ابتدائی سال پوری انسانیت کے لیے درس ہیں۔ سنگ ریزے، مذاق، گالیاں، بائیکاٹ، جلاوطنی—ایسی کوئی اذیت نہ تھی جو آپ ﷺ پر نہ آئی ہو، مگر آپ کی استقامت میں لرزش نہ آئی۔

نوجوان کے لیے اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے؟

آج اکثر نوجوان ایک دو بار ناکام ہوتے ہیں تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ جبکہ سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کبھی بغیر جدوجہد کے نہیں ملتی۔ نہ علم بغیر محنت کے ملتا ہے نہ میدانِ عمل میں عزت بغیر قربانی کے۔

 سادگی اور اعتدال — نفس کی تربیت کا بنیادی اصول

نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی میں سادگی کی روشنی نمایاں ہے۔ رہائش میں سادگی، لباس میں سادگی، غذا میں سادگی، معمولات میں سادگی—یہی وہ اصول ہے جو انسان کے دل کو خواہشات کے قبضے سے آزاد کرتا ہے۔

آج نوجوان طبقہ نمود و نمائش، مہنگے لباس، شہرت پسندی، اور سوشل میڈیا کی مصنوعی چمک میں گم ہو چکا ہے۔ نبوی سادگی یہ سکھاتی ہے کہ اصل وقار اس بات میں نہیں کہ انسان کیا پہن رہا ہے بلکہ اس بات میں ہے کہ انسان کیا بن رہا ہے۔

 بزرگوں کا احترام — اجتماعی اخلاق کی بنیاد

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو نوجوان کسی بزرگ کی اس کے بڑھاپے کی وجہ سے تعظیم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بڑھاپے میں اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کی عزت کریں۔

یہ تعلیم بتاتی ہے کہ احترامِ بزرگ دراصل احترامِ انسانیت ہے اور یہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔ جہاں نوجوان بڑوں کی قدر کریں، وہاں نسلوں کے درمیان محبت باقی رہتی ہے۔

جوانی میں پرہیزگاری ،پیغمبرانہ شان

شیخ سعدیؒ کا قول ہے:

"در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری است"

یعنی جوانی میں پاکیزہ زندگی گزارنا انبیاء کا طریقہ ہے۔ نوجوانی میں جذبات کا طوفان شدید ہوتا ہے۔ اسی وقت نفس کی تربیت سب سے مشکل لیکن سب سے ضروری مرحلہ ہے۔ جو نوجوان اس عمر میں خود کو سنبھال لے، اللہ اسے عزت، وقار اور کامیابی کے دروازے خود بخود کھول دیتا ہے

*معاشرتی زوال اور سیرتِ نبویؐ سے دوری*

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو جب تک امتِ مسلمہ نے سیرتِ محمدی ﷺ کو اپنا طریقِ زندگی بنایا، وہ علم میں بھی آگے تھی، اخلاق میں بھی، تجارت میں بھی، سیاست میں بھی، تہذیب میں بھی۔ اور جب سیرت سے دوری پیدا ہوئی تو زوال کا طوفان ہمارے دروازوں پر آ کھڑا ہوا۔

آج بھی ربیع الاول کی خوشیاں منانا کوئی برائی نہیں، مگر دکھ اس بات کا ہے کہ ہم صرف چراغاں کرتے ہیں، جبکہ چراغِ محمدی ﷺ کی روشنی اپنی زندگی میں نہیں لاتے۔

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:نوجوانی قوت و توانائی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔اس قوت کو صحیح رخ دینے کے لیے سیرتِ محمدی ﷺ کامل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔سچائی، امانت، دیانت دار تجارت، محنت، استقامت، سادگی، احترامِ بزرگ اور جوانی میں پرہیزگاری—یہ وہ اصول ہیں جو سیرت سے نکل کر نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں۔امت کا مستقبل اسی وقت روشن ہو سکتا ہے جب نوجوان سیرت کو محض تقریروں یا تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگیاں بنانے کا عملی دستور بنا لیں

آخرکار یہ حقیقت اٹل ہے کہ:سیرتِ نبوی ﷺ فرد کی بھی اصلاح کرتی ہے، معاشرے کی بھی اور امت کی بھی۔اگر نوجوان نسل سیرت کے ان اصولوں کو سمجھ کر اپنائے تو ان کی زندگی، معاشرہ اور مستقبل، سب کچھ سنور سکتا ہے۔

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383