Feb 7, 2026 09:16 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ایک اچھا داعی کیسے بنیں؟ :از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑ

ایک اچھا داعی کیسے بنیں؟ :از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑ

04 Dec 2025
1 min read

ایک اچھا داعی کیسے بنیں؟

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ

سہلاؤ شریف،باڑمیر(راجستھان)

دعوتِ دین محض نصیحت، تقریر یا واعظانہ گفتگو کا نام نہیں بلکہ یہ قلوب کی دنیا بدلنے، روح کی ویرانیوں میں نور بکھیرنے اور انسان کو اس کے خالقِ حقیقی سے جوڑنے کا وہ عظیم عمل ہے جس کی نسبت براہِ راست انبیائے کرام علیہم السلام سے ملتی ہے۔ یہ فن بھی ہے، عبادت بھی، امانت بھی اور عظیم ذمہ داری بھی۔ اس راہ میں زبان سے زیادہ دل بولتا ہے؛ الفاظ سے زیادہ کردار کا نور کام آتا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی مبارک زندگیوں کو اگر سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کسی ایک لمحے کا عمل نہیں بلکہ پوری زندگی کا طریقہ ہے۔ وہ ہر ادا، ہر گفتگو، ہر خاموشی، ہر مسکراہٹ اور ہر سلوک سے دعوت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگیوں میں دعوتِ حق کا سب سے بڑا اثر کردار سے ظاہر ہوتا رہا۔

دعوتِ دین کی اصل بنیاد اخلاص پر قائم ہے۔ اگر نیت کا چراغ روشن ہو تو داعی کی معمولی باتیں بھی دلوں میں اتر جاتی ہیں، اور اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بلند بانگ خطابات بھی بے اثر رہ جاتے ہیں۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ (م 1034ھ) فرماتے ہیں:

"نیت کے پاک ہونے سے عمل کی روح زندہ ہوتی ہے، اور نیت کے بگڑنے سے بڑے بڑے اعمال بھی بے حرمت ہو جاتے ہیں." (مکتوباتِ امام ربانی، دفتر اول، مکتوب ۱)

یہی اخلاص داعی کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے؛ لوگ چاہے تعریف کریں یا اعتراض، اس کا سفر ایک سیدھی راہ پر طے ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف اللہ و رسول ﷺ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے۔

دعوت کا دوسرا عظیم ستون علم ہے۔ علم کے بغیر دعوت اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔ جہالت پر قائم دعوت دلوں میں بے چینی پیدا کرتی اور معاشرے میں انتشار کو بڑھاتی ہے۔ اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کے بنیادی مضامین اور احکام سے واقف ہو، احادیثِ نبویہ کے معانی اور مقاصد سے آگاہ ہو، فقہ، عقائد اور سیرتِ طیبہ ﷺ کا پختہ شعور رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے دورِ حاضر کے فتنوں، جدید فکری یلغار، نوجوان نسل کے فکری و ذہنی مسائل، سوشل میڈیا کے اثرات اور معاشرتی چیلنجز کا بھی ادراک ہو۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ (م 1340ھ) نے لکھا:

"علم مقدم ہے، عمل اور دعوت سب اسی کے تابع ہیں." (فتاویٰ رضویہ، ج ۲۳، ص ۶۵۰) اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کا اصل سرمایہ علم ہے۔ لیکن علم اُس وقت مؤثر بنتا ہے جب اس کے ساتھ کردار کی روشنی ہو۔

عمل اور کردار کی چمک دعوت کی حقیقی زبان ہے۔ انسان آج بھی باتوں سے کم اور کردار سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے خود اپنا کردار پیش کرکے دنیا کا سب سے بڑا انقلاب برپا فرمایا۔ آپ ﷺ کے ایک ایک عمل میں انسانیت کے لیے دعوت چھپی ہوئی تھی۔ سچائی، امانت، حلم، تواضع، رواداری اور اعلیٰ اخلاق-یہ سب حضور نبی اکرم ﷺ کی دعوت کا حصہ تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا قول ہے: "عالم وہ ہے جس کا عمل اس کے علم کی تصدیق کرے." (غرر الحکم، حدیث: ۴۰۹۲)

یہی وہ مقام ہے جہاں زبان کی تاثیر کردار کی روشنی سے جنم لیتی ہے۔

داعی کی زبان نہ بے مقصد ہو، نہ تلخ؛ بلکہ نرم گفتار، شائستہ، واضح اور دل نشین ہو۔ سخت لہجہ دلوں کو توڑ دیتا ہے، جبکہ نرمی زخموں کو بھر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ"(النحل: ۱۲۵)یعنی: “اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔”

یہ آیت دعوت کی پوری روح کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ حکمت یہ ہے کہ ہر شخص سے اس کی عقل، مزاج، عمر، مقام اور حالات کے مطابق گفتگو کی جائے۔ نوجوان کے لیے نرمی اور دوستی کا انداز زیادہ مؤثر ہوتا ہے، اہلِ علم کے لیے علمی گفتگو، اور ضدی یا جذباتی شخص کے لیے کبھی خاموشی بھی حکمت بن جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ہر قول و عمل حکمت کا پیکر تھا۔

دعوتِ دین میں صبر وہ لازوال طاقت ہے جس کے بغیر کوئی داعی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے سب سے زیادہ تکالیف اسی میدان میں برداشت کیں۔ مگر انہوں نے کبھی تھکن، بدلہ یا مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:"اِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ"(مسند بغوی، رقم ۶۵۷۳)

یعنی: “علم سیکھنے سے آتا ہے اور حلم (بردباری) حلم کی مشق سے حاصل ہوتا ہے۔”

یہ حدیث عملی تربیت اور مسلسل مجاہدے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جو ایک داعی کے لیے لازمی ہے۔

اعتدال اور توازن دعوت کا حسن ہے۔ شدت مزاجی، بحث برائے بحث، اور جذباتی لہجہ لوگوں کے دلوں میں سختی پیدا کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا"(صحیح بخاری، حدیث ۶۹)

یعنی: “آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔”

یہ حدیث دعوت کا مستقل اصول ہے۔

آج کا دور ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔ داعی اگر ان جدید وسائط سے غافل رہے تو دعوت کے بڑے میدان سے محروم ہو جائے گا۔ سوشل میڈیا، وڈیو پیغامات، تحریری مضامین، آن لائن نشستیں-یہ سب دعوت کے مؤثر ذرائع ہیں، مگر ان کا استعمال حکمت، شائستگی اور اخلاقیات کے ساتھ ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنا، ان کی نفسیات کا ادراک رکھنا، ان کے سوالات کو سنا اور سمجھا جائے-یہ سب ایک کامیاب داعی کی ضرورت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے نوجوانوں کے دلوں کو ہمیشہ محبت اور شفقت سے جیتا۔ یہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ آج بھی سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

داعی کا دل وسیع ہو، نظر مثبت ہو اور اس کی گفتگو امید بکھیرنے والی ہو۔ وہ عیب نہیں تلاش کرتا بلکہ خوبیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتا بلکہ تہذیب کے ساتھ دلیل پیش کرتا ہے۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، بیمار کی عیادت کرنا، غم زدہ کو تسلی دینا-یہ سب دعوت کے وہ خاموش پہلو ہیں جن سے دل فتح ہوتے ہیں۔

آخر میں، ایک داعی کے لیے عاجزی، تہجد، استغفار اور دعا سب سے بڑی طاقت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دلوں کو بدلنے والا وہ نہیں بلکہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ: "اے اللہ! میرے دل کو اخلاص عطا فرما، میری زبان کو نور دے، میرے عمل کو صدق عطا فرما، اور جن تک میں تیرا پیغام پہنچاؤں ان کے دلوں کو ہدایت سے منور فرما۔"

الغرض، ایک اچھا داعی بننا محض کسی فن یا مہارت کا نام نہیں بلکہ عمر بھر کی ریاضت، مسلسل خود سازی، اعلیٰ کردار، مضبوط علم، پاکیزہ نیت، وسیع ظرف، روشن فکر اور صبر وحکمت کے بے شمار مراحل سے گزرنے کا نام ہے۔ جس نے اپنی دعوت کو اخلاص، علم، اخلاق، حکمت اور صبر کی بنیادوں پر قائم کر لیا، وہ نہ صرف خود سنورتا ہے بلکہ دنیا کو بھی سنوار دیتا ہے۔

بارگاہِ خداوندی میں دعا ہے کہ اللہ ربّ العزّت ہمیں اخلاصِ نیت، پاکیزہ کردار، درست علم، نرم دلی اور حکیمانہ انداز کے ساتھ دینِ متین کی سچی خدمت کی توفیق عطا فرمائے؛ ہمارے دلوں کو ہدایت کے نور سے منور کرے، ہماری زبانوں کو حق گوئی کی برکت دے اور ہمارے اعمال کو اپنی رضا کا آئینہ بنا دے۔ آمین یا ربَّ العالمین‌ بجاہ سیدالمرسلین[ﷺ

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383