حضور احسن العلماء قدس سرہ کے معمولات روز وشب
حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں قادری برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ (ولادت: ۱۳۴۵ھ وفات:۱۴۱۶ھ) خانقاہ برکاتیہ کے ان مشائخ کرام میں سے ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے بہت ساری خوبیوں، خصوصیات اور محاسن و کمالات سے نوازا تھا۔آپ کتاب و سنت کے عالم بھی تھے اور عامل بھی،عارف باللہ بھی تھے اور واصل الیٰ للہ بھی۔تواضع و انکساری، سخاوت و فیاضی، خوش اخلاقی و اعلیٰ ظرفی،خلوص وللہیت،حق گوئی و صداقت،تصلب فی الدین،اسلاف کی روایتوں کی پاسداری،اتباع شریعت و متابعت سنت جیسے اوصاف حمیدہ آپ کی ذات اقدس میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔
حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کی پرورش و پرداخت ان کے نانا جان مجدد برکاتیت سید شاہ اسمعٰیل حسن قادری برکاتی،خال محترم حضور تاج العلماء سراج العرفاء سید شاہ محمد میاں قادری برکاتی اور والد مکرم حضرت سید شاہ آل عبا قادری برکاتی قدست اسرارہم کے زیر عاطفت ہوئی تھی،اس لیے ذات اقدس میں ان بزرگوں بالخصوص حضور تاج العلما علیہ الرحمہ کا عکس جمیل صاف نظر آتا تھا۔ اس حقیقت کی طرفکرتے ہوئے آپ کے شہزادے حضور شرف ملت سیدمحمد اشرف مارہروی دام ظلہ عالی ’’یاد حسن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:’’وہ طریقہء اجداد کے بہت بڑے عامل تھے، روز مرہ کی باتوں میں تو نہیں لیکن معاملات،عبادات و اخلاق میں وہ اپنے اجداد و اسلاف کی سچی تصویر تھے۔خاندانی روایتوں کے حافظ بھی تھے اور عامل بھی۔حضور تاج العلماء رضی اللہ عنہ کے طریقوں کی پیروی کرتے تھے۔احتیاط اور میانہ روی کی دولت غالبا انھیں اپنے خال محترم علیہ الرحمہ سے ہی ملی۔‘‘انہیں بزرگوں کی صحبت و تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ نے بچپن ہی سے اپنی زندگی کو سنت رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا۔ آپ بچپن سے ہی کھیل کود سے دور و نفور اور احکام شریعت پر کاربند رہے۔حضور شرف ملت لکھتے ہیں: ’’پھوپھی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حسن میاں کو پچپن اور لڑکپن میں کسی کھیل سے کوئی رغبت نہیں تھی، یعنی پچپن سے ہی جب کہ شعور پوری طرح بیدار نہیں ہوتاہے انھوں نے سرور کائنات ﷺ کے نقس قدم کو اپنی حیات کی منزل بنا لیا تھا۔(سیدین نمبر،ص:۷۱۹) حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کو ان بزرگوں نے جن اعمال و افعال کا بچپن میں پابند بنایا،آگے چل کروہی سب آپ کے’’شب و روز کے معمولات‘‘بن گئے۔ آپ کی زندگی کے تمام معمولات ہمیں یکجا کسی کتاب یا مقالے میں نہیں مل سکے،البتہ آپ کے شہزادگان اورمریدین و متوسلین کی تحریرات سے کافی مواد مل گئے،ہم انھیں مواد کے ترتیب دے کر آپ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہیں،ملاحظہ فرمائیں:
نماز تہجد پڑھنا:
تہجدکی نماز پڑھنا حضور نبی کریم ﷺ کی وہ عظیم سنت ہے، جس پرآپ پوری ظاہری زندگی عمل پیرا رہے۔ اور دور صحابہ سے لے عصر حاضر تک کے تمام بزگان دین،بالخصوص تمام مشائخ برکات اس کے پابند رہے، خود حضور احسن العلماء نماز تہجد کے بہت پابندتھے اوراسکے لئے صبح صادق سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی بیدار ہوجاتے،پہلے اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر و ضو فرماتے اور تہجد کی نماز ادا فرماتے تھے۔حضور شرف ملت ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’فجر کے وقت سے ڈیرھ دو گھنٹے پہلے بیدار ہوکر عبادت(نماز تہجد) کا اہتمام فرماتے۔(یاد حسن: ۲۵۱)
حضور شارخ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اپنے ایک مقالہ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ رات میں صبح صادق سے دو ڈھائی گھنٹے پہلے اٹھ جاتے ضروریات سے فارغ ہو کر نماز تہجد ادا کرتے تھے۔(یاد حسن: ۲۵۱)
اوراد و وظائف پڑھنا:
آپ نماز تہجد سے فارغ ہونے کے بعد ذکر و اذکار اور مراقبہ میں لگے رہتے اور اللہ رب العزت سے اس طرح مناجات کرتے کہ بسا اوقات آپ کی چینخیں نکل جایا کرتی تھیں۔حضور شرف ملت آپ کے اذکار اور مناجات کے احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اور ذکر و اذکار میں محنت کرتے اور گریہ کرتے تھے،جس کی وجہ سے بچپن میں ہم بچے ڈر جاتے تھے۔‘‘
آپ کے خادم خاص جناب محمد اکبر برکاتی صاحب کا بیان ہے کہ ’’حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ ہر موسم میں لگ بھگ چار بجے رات کو بیدار ہوجاتے تھے،فراغت کے بعد اوراد و وظائف میں مشغول ہوجاتے،حتی کہ اذان ہوتی اور نماز ادا فرماتے۔(سیدین نمبر، ص:۹۶۷،۹۶۶)۔ ایک مخصوص خاندانی وظیفہ جسے رات میں پڑھنا بزگان مارہرہ کا معمول ہے،وہ بھی اکثر اسی وقت پڑھتے تھے۔اس وظیفہ کو آپ نے اپنی حیات میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔یہاں تک کہ وصال کے دن اس وظیفہ کو دن ہی میں پڑھ لیا۔حضور شرف ملت لکھتے ہیں:’’جب میں ساڑھے نو بجے صبح بروز پیر اسپتال کے کمرے میں آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ سانس پر ہلکا سا زور ہے۔وہ آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہے تھے۔میںنے کان لگا کر سنا تو علم ہوا کہ وہ اپنا روز مرہ کا وظیفہ پڑھ رہے ہیں،جو ہمیشہ رات کو ڈھائی تین بجے اٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔کیوں کہ اس دن کے بعد شب میں ان کو قیام نہیں کرناتھا،اس لیے خلاف معمو ل وہ دن میں وظیفہ کی تلاوت کر رہے تھے۔(یاد حسن،ص:۱۵۲،۱۵۳)
نماز ادا کرنا: حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کے ذکر و مراقبہ کا سلسلہ اذان فجر تک چلتا رہتا،جب فجر کی اذان ہوجاتی تو سب سے پہلے فجر کی دو رکعت نماز سنت پڑھتے اس کے بعد جماعت کھڑی ہونے تک تلاوت،درود اور دعا میں مشغول رہتے اور جیسے ہی جماعت کا وقت ہوتا، نماز فجر ادا فرماتے تھے۔آپ سبھی نمازیں اول وقت مستحب میں ادا فرماتے تھے۔ اگر کہیں کسی محفل یا دعوت میں جانا ہوتا توجس نماز کا وقت ہوتا اول وقت ادا فرمالیتے،اور اپنے ہمراہ چلنے والوں کو بھی حکم دیتے کہ نماز پڑھ لو۔(سیدین نمبر،ص:۸۵۶،۸۵۷)۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنا: حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ بہترین حافظ و قاری تھے۔قرآن مجید ان کے سینے میں آخری سانسوں تک جوں کا توں محفوظ رہا۔آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد محرابیں سنائیں،ممبئی کی کھڑک مسجد میں تن تنہا دو شبینے سنائے اور ۶ گھنٹے میں قرآن مجید مکمل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔اس قدر روانی کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے کے پیچھے راز یہ تھا کی آپ ہر روز قرآن عظیم کے کم از کم ۴،۵ پارے تلاوت کر لیتے تھے۔آخری ایام میں جب دہلی ہاسپیٹل میں زیر علاج تھے ایک دن میں ۱۴ پارے تلاوت کئے۔ حضور شارح بخاری لکھتے ہیں: ’’فجر کی سنتیں اول وقت میں پڑھتے،پھر تلاوت شروع کر دیتے، پھر وقت مقررہ پر نماز فجر فرض پڑھ کر تلاوت شروع فرما دیتے۔ بلا ناغہ روزانہ چار پانچ پارہ کی تلاوت کرتے‘‘(یاد حسن،ص: ۲۵۱)
ناشتہ کرنا:
تلاوت سے فراغت کے بعد آپ حجرہء شریفہ میں تشریف لاتے اور تھوڑا دم لیتے تھے،پھر ناشتہ کرتے تھے۔آپ کا ناشتہ بہت سادہ ہوتا تھا۔بقول جناب اکبر برکاتی صاحب ناشتے میں بسا اوقات باسی روٹی اور چائے پر اکتفا کر لیتے تھے۔کبھی کبھی انڈے کو ہاف بوائل کراکے زردی پر پر نمک اور کالی مرچ چھڑک کر تناول فرماتے تھے۔چولائی کی سبزی بھی لیا کرتے تھے۔
تعویذات لکھنا:
حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد جامع مسجد برکاتی کی جنوبی دیور کے متصل مونڈھوں پر تشریف رکھتے،وہاں بے شمار حاجت مندوں اور دعا و تعویذ کرانے والوں کی بھیڑ جمع رہتی تھی۔آپ باری باری سب کو بلاتے،توجہ اور اطمنان سے ان کا دکھ درد سنتے اور دعا و تعویذ دے کر ان کی مدد فرماتے تھے۔اللہ رب العزت نے آپ کے قلم اور زبان میں ایسی تاثیر رکھی تھی کہ متاثرین فورا شفا پاتے تھے ۔
شہزادہ حضور احسن العلماء مرشدی و مولائی حضور امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین میاں قادری برکاتی دام ظلہ العالی اپنے مقالے میں تحریر فرماتے ہیں:(انھوں نے) بلامبالغہ لاکھوں تعویذ لکھے۔ بندگان خدا ان کے در اقدس پر پروانہ وار نثار ہوتے تھے اور وہ کسی کو مایوس نہیں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کی زبان اور قلم میں وہ اثر پیدا کر دیا تھا کہ ان کا لکھا وار کہا کبھی رد نہیں ہوتا تھااس کی بے شمار مثالیں اور شہادتیں موجود ہیں۔(مصدر سابق،ص: ۱۸)
حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ اپنی جوانی کے دنوں میں خانقاہی کاموں سے فرصت ملنے پر خانقاہ کے مدرسے’’مدرسہ قاسم البرکات‘‘میں درس و تدریس کا کام بھی انجام دیتے تھے۔حضور شرف ملت ایک جگہ لکھتے ہیں:’’اسی مدرسہ قاسم البرکات میں والد کریم نے اپنی جوانی کے زمانے میں درس بھی دیا تھا‘‘۔(سیدین نمبر،ص: ۷۵۷
جمعہ کے دن آپ جمعہ کی اذان اول سے قبل غسل وغیرہ سے فراغ ہوجاتے،صاف و سفید کپڑا زیب تن فرماتے،سر پر عمامہ سجاتے، خوشبو لگاتے اور مسجد میں تشریف لے جاتے۔ آپ ہر جمعہ کو پابندی کے ساتھ ۳۰ منٹ سے لے کر ۴۵ منٹ تک لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ وعظ و نصیحت کا یہ سلسلہ ۵۴ برس تک تسلسل کے ساتھ قائم رہا۔
ان کے موضوعات میں توحید، حب رسول ﷺ،محبت اولیا کرام،پابندیء فرائض کی تلقین، حقوق العباد کی پاسداری،فتنوں سے دور رہنے کی نصیحت،شعائر اسلامی پر اصرار، مخلوق خدا سے محبت،شہدائے اسلام اور اولیائے کرام کے واقعات سے اولوالعزمی کے نتائج اخذ کرنا، بری رسومات سے پرہیز،حصول علم پر زور وغیرہ شامل تھے۔(طریقہء احسن،ص: ۳)
سطور بالا میں آپ کے جو معمولات بیان کیے گئے ہیں، انہیں پڑھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ آپ کس قدر متبع شریعت تھے اور آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ کس طرح اسوۂ رسول کے مطابق گزرتا تھا۔ مولیٰ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام مسلمانو ں کو حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کی نقش قدم پر چل کر زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے،اور ان کی حیات مبارکہ کو ہمارے لیے مشعل راہ بنائے۔ (امین)
تفصیل کے لیے مطالعہ کریں پیام برکات
