Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خانقاہ برکاتیہ تاریخ کے آئینے میں

خانقاہ برکاتیہ تاریخ کے آئینے میں

14 Nov 2025
1 min read

خانقاہ برکاتیہ تاریخ کے آئینے میں

از قلم:مولانا احمد حسن سعدی

جو تقریباًچار صدیوں سیاسی علمی،روحانی،ملی،سماجی اور تاریخی خدمات کے سبب بر صغیر میں امتیازی مقام رکھتی ہے۔ خانقاہ برکاتیہ کے مشائخ عظام پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک طرف علم و حکمت کے بحر بیکراں تھے جن کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف اپنے وقت کے علمائے اعلام بھی کرتے تھے تو وہیں دوسری طرف شریعت و طریقت کے ایسے بلند و بالا مینار تھے جن سے نہ صرف عوام بلکہ ہر دور کے نام ور علما و مشائخ نے بھی روحانی تربیت حاصل کی اور ان کے فیوض و برکات سے مستفیض و مستنیر ہوئے ۔

            خانقاہ برکاتیہ کی دینی، ملی اور سماجی خدمات پر اہلِ علم نے ماضی سے لے کر حال تک متنوع اور وقیع علمی ذخیرہ پیش کیا ہے۔ ان خدمات کے اعتراف میں بے شمار کتابیں اور مقالات تحریر کیے گئے، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم خانقاہ برکاتیہ کے مشائخِ کرام کی حیات و خدمات کو تاریخی تسلسل کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کریں گے، تاکہ ان کی دینی بصیرت، ملی قیادت اور سماجی اصلاحات کو سال بہ سال عیاں کیا جاسکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خانقاہ برکاتیہ کی عظیم علمی و روحانی میراث ایک مربوط اور تحقیقی تناظر میں سامنے آئے، جو آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو۔

خانقاہ برکاتیہ کا پس منظر: 

            سلطان العاشقین حضرت سیدشاہ برکت اللہ عشقی مارہروی سلسلہ برکاتیہ کیبانی اور امام ہیں۔آپ کا سلسلہ نسب پندرہویں پشت میں حضرت سید محمد صغری ٰ (عرف: دعوت الصغریٰ)رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے،جو ہندوستان میں خانقاہ بلگرام اور خانقاہ برکاتیہ کے جد اعلٰی ہیں۔آپ دہلی سلطنت کے بادشاہ سلطان شمس الدین التمش کے ماہر سپہ سالار تھے اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ بھی تھے۔سلطان کے حکم سے آپ نے بلگرام فتح کیااور سلطان نے وہ علاوہ آپ کو جاگیر میں عطا کیا۔حضور صاحب البرکات کا سلسلہ نسب حضرت دعوت الصغریٰ سے ہوتے ہوئے ۱۳ویں پشت میں سید الاشجعین حضرت زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۸۷ھ۔۱۲۱ھ) تک پہنچتا ہے،آپ بلا اختلاف ہندوستان میں سادات بلگرام اور سادات مارہرہ کے جد اعلیٰ ہیں۔سنہ ۱۲۱ھ میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف کھڑے ہوئے اور میدان جنگ میں شہادت سے سرفراز ہوئے،اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ ’’شہید‘‘ لگایا جاتا ہے۔ آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے سادات مارہرہ و بلگرام کو زیدی سادات کہا جاتا ہے۔

مارہرہ میں سادات کی آمد: حضرت میر سید شاہ عبدالجلیل قدس سرہ سب سے پہلے مارہرہ کی سرزمین پر تشریف لائے پھر آپ کے بعدآپ کے پوتے حضورصاحب البرکات ۔آپ ۰۲ رجب المرجب ۲۷۹ھ مطابق ۵۶۵۱ء جمعرات کے دن بلگرام شریف میں پیدا ہوئے۔عنفوان شباب سے ہی جذب الٰہی کی کیفیت سے مغلوب ہو کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر جنگل جنگل گھومتے اور مالک حقیقی کو پکارتے پھرتے۔بارہ سال اسی عالم میں گزرے،پھر اس بے قراری کو کچھ قرار آیا۔پھر ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد مارہرہ سے مشرقی سمت چار کوس کے قریب فاصلے پر واقع اترنجی کھیڑہ میں آ پ نے ذکر و مراقبہ فرمایا۔

سنہ ۷۱۰۱ھ مطابق ۹۰۶۱ء کو پینتالیس سال کی عمر میں ایک بزرگ کے مشورے سے آپ مارہرہ تشریف لائے،اہل مارہرہ نے آپ کا استقبال کیاپھر آپ نے وہیں ایک مختصر سی خانقاہ بناکر قیام اور رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔مارہرہ شریف میں آ پ نے تین نکاح فرمائے،جن سے آپ کے چار صاحبزادے،سید ابوالفتح،سید اویس ،سید محمد اور سید ابو الخیر تھے۔زندگی کا بڑا حصہ آپ نے مارہرہ میں گزارا۔سنہ ۷۵۰۱ھ مطابق ۷۴۶۱ء میں آپ کا وصال ہوا۔ مارہرہ شریف میں آپ کا وصال ہوا۔مارہرہ شریف تشریف لانے والے آپ پہلے بزرگ ہیں۔            حضرت سید الراحمین سیدشاہ اویس رحمۃ اللہ علیہ: حضور صاحب البرکات کے وصال کے بعد آپ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت سیدشاہ اویس رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے روحانی ورثے کو آگے بڑھایا۔طبیعت جذب الہی کی طرف مائل تھی،اسی لیے دنیا سے بے نیاز رہتے تھے۔آپ اپنے وقت میں مرجع انام تھے،خدام و متوسلین کا دائرہ بہت وسیع تھا۔مارہرہ اور اس کے اطراف و جوانب کے بہت سارے عمائد و شرفا،عوام و خواص حضرت کے زمرہ متوسلین میں شامل تھے۔آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ کبھی مارہرہ میں قیام فرما ہوتے تو کبھی آبائی وطن بلگرام جاکر اہل و عیال میں بسر فر ماتے ۔ایک مرتبہ آپ بلگرام شریف میں تشریف فرما تھے کہ وعدہ مقرر آپہنچا اور ۰۲ رجب المرجب ۷۹۰۱ھ میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔آپ کی تدفین بلگرام شریف میں ہوئی۔

            حضرت سید شاہ برکت اللہ صاحب البرکات رحمۃ اللہ علیہ:صاحب البرکات حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمۃ سلسلہ برکاتیہ کے بانی اور امام ہیں۔آپ ہی کی طرف نسبت کرتے ہوئے،اس سلسلہ کو ’’برکاتی‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔۶۲ جمادی الآخرہ سنہ ۰۷۰۱ھ۔۔۔ کو بلگرام شریف میں پیدا ہوئے۔بچپن کا زمانہ والد ماجد اور دیگربزرگان خاندان کی آغوش تربیت میں گزرا۔آپ کے والد نے وصال سے قبل آپ کو سجادہ نشینی اور اپنے خاندان کے اعمال اور ظاہری اور باطنی اور والد صاحب سے حاصل کیے۔ اپنے اکثر اوقات عبادت و مجاہدہ میں گزارتے تھے۔آپ سا مجاہدہ خانقاہ برکاتیہ میں کسی بزرگ نے نہیں کیا۔آپ کا نکاح عم بزرگ وار سید شاہ عظمت اللہ صاحب کی صاحبزادی سے ہوا۔جن سے دو صاحبزادے:سید شاہ حمزہ اور سید شاہ حقانی کے علاوہ ایک صاحب زادی بھی تھیں۔وصال مارہرہ شریف میں ۶۱ رمضان ۴۶۱۱ھ ھ میں ہوا اور درگاہ شاہ برکات میں مدفون ہوئے۔

محبوب العاشقین سیدنا شاہ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ:

            حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہ کے بڑے صاحبزاے تھے۔ ۴۱ ربیع الثانی ۱۳۱۱ھ مارہرہ شریف میں پیدا ہوئے۔گیارہ سال اپنے جد امجد حضور صاحب البرکات کے زیر سایہ تعلیم و تربیت حاصل کی ۔علوم ظاہری والد ماجد کے علاوہ شمس العما مولوی محمد باقر سے حاصل کیے۔فن طب حکیم عطاء اللہ صاحب سے حاصل کیا۔ آپ کا عقد سیدمحمد محسن بلگرامی کی دختر سے ہوا۔اولاد امجاد میں چار صاحبزاد ے اور ایک صاحبزادی تھیں۔جن میں:سید شاہ آل احمد اچھے میاں،آل برکات ستھرے میاں،سیدنا شاہ آل رسول سچے میاں اور سید علی جو صغر سنی میں انتقال کر گئے۔حضرت کو تصنیف و تالیف اور شعر و سخن سے بڑا شغف تھا،عینی تخلص فرماتے تھے۔آپ کی تصانیف میں کاشف الاستار،فص الکلمات،مثنوی اتفاقیہ،قصیدہ گوہرباربزبان اردو اور چند بیاض اور اردو اذکار وغیرہ کی ہیں۔آپ کا وصال ۴۱ محرم الحرام ۸۹۱۱ھ۔۔۔کو ہوا۔مزار مبارک درگاہ شاہ برکات میں ہے۔

شمس مارہرہ حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمۃ اللہ علیہ:شمس مارہرہ حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں قدس سرہ ۸۲ رمضان المبارک ۰۶۱۱ھ مطابق۔۔۔ کو مارہرہ شریف میں پیدا ہوئے۔

آپ حضرت سید شاہ حمزہ عینی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔علوم ظاہری اور باطنی والد صاحب سے حاصل ہوئے۔فن طب حکیم نصر اللہ مارہروی سے حاصل کیا۔آپ والد ماجد سے بیعت و خلافت سے سرفراز ہوئے،والد ماجد کے انتقال کے بعد مسند سجادگی پر جلوہ افروز ہوئے اور ۷۳ سال تک اسے رونق بخشی۔

آپ نے دو کتابیں ’’ا ٓداب السالکین اور بیاض عمل و معمول‘‘ تصنیف فرمائیں۔اس کے علاوہ آپ نے اپنے کتب خانے میں متفرق علوم و فنون کی کتب کا انتخاب فرما کرتقریباًر۳۳جلدوں میں ہر فن کا خلاصہ مرتب کروایاجسے ’’آئین احمدی‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ آپ سے ایک صاحبزادے حضرت سائیں اور ایک صاحبزادی ہوئیں،دونوں ہی سن طفولت میں انتقال کرگئے۔آپ کا وصال ۷۱ ربیع الاول ۵۳۲۱ ھ مطابق۔۔۔ جمعرات کے دن ۵۷ سال کی عمر میں ہوا۔آپ جد اعلیٰ کے بائیں پہلو میں آرام فر ماہیں۔حضرت شمس مارہرہ نے اپنے منجھلے بھائی حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں کو خلافت سے نواز کر اپنا نائب بنایا۔[

حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں: 

آپ کی پیدائش ۰۱ رجب ۳۶۱۱ھ مطابق۔۔۔ میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔آپ نے تعلیم و تربیت والد محترم سے حاصل کی۔انھیں سے بیعت سے ہوئے اور خلافت و اجازت سے بھی سرفراز ہوئے اور اپنے بڑے بھائی شمس مارہرہ کے وصال کے بعد مسند سجادگی کو زینت بخشی۔آپ کے دو عقد ہوئے،پہلی بیوی سے سید آل امام جما میاں اور دوسری بیوی سے تین صاحبزادے:سید آل رسول،سید شاہ اولاد رسول اور سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم کے علاوہ پانچ صاحبزادیاں ہوئیں۔آپ عبادت و مجاہدہ اور خاص طور پر تلاوت کلام پاک کے بڑے شوقین تھے۔فن تکسیر و طب میں آپ کو درک تھا اور شعر و سخن سے بھی دلچسپی تھی۔شعر کہتے تھے اور آشفتہ تخلص فرماتے تھے۔آپ کو تعمیرات کا بڑا ذوق تھا،بہت سے مکانات اور حویلیاں تعمیر کرائیں۔آپ کا وصال ۶۲ رمضان ۱۵۲۱ھ مطابق ۔۔۔ سنیچر کے دن ہوااور احاطہ درگاہ میں ہی مدفون ہوئے۔

خاتم الاکابرحضرت سید شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ علیہ: آپ کی ولادت رجب ۹۰۲۱ھ مطابق ۵۹۷۱ ء میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔آپ حضور شمس مارہرہ کے محبوب مرید خلیفہ اعظم اور جانشین تھے اور والد صاحب سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی۔ابتدائی تعلیم حضرت شاہ عین الحق صاحب،مولانا سلامت اللہ کشفی اور دوسری شخصیات سے حاصل کی۔علوم ظاہری سے فراغت کے بعد رودولی شریف میں دستار فضیلت کے بعد ۱۱۸۱ء میں مارہرہ واپس آئے۔حدیث کی کتابیں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے پڑھیں۔والد صاحب کے انتقال کے بعد۱۵۲۱ھ کو اپنے دونوں بھائی سید شاہ اولاد رسول اور سید شاہ غلام محی الدین کے ساتھ سجادہ برکاتیہ پر رونق افروز ہوئے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔آپ کا نکاح حضرت سید منتخب حسین صاحب کی بیٹی سیدہ نثار فاطمہ سے ہوا،جن سے:سید شاہ ظہور حسن بڑے میاں اور سید شاہ ظہور حسین چھوٹے میاں اور تین بیٹیاں ہوئیں۔آپ کا وصال ۸۱ ذی الحجۃ ۶۹۲۱ھ چہار شنبہ کے دن مارہرہ شریف میں ہوا۔اپنے جد مکرم حضرت شاہ حمزہ عینی کے سرہانے مدفون ہیں۔

سید العابدین حضرت شاہ اولا درسول رحمۃ اللہ علیہ:

آپ حضرت آل برکات ستھرے میاں کے تیسرے صاحبزادے ہیں۔۵۱ شعبان المعظم ۲۱۲۱ھ کو پیدا ہوئے۔آپ کی پرورش اور تعلیم و تربیت حضور اچھے میاں نے فرمائی اور بیعت و خلافت حضور شمس مارہرہ سے حاصل ہوئی۔آپ کا نکاح میر سعادت علی کی صاحبزادی قدرت فاطمہ سے ہوا۔چار صاحبزادے:شاہ محمد صادق، سید محمد جعفر،سید محمد باقر سید محمد عسکری اور چارصاحبزادیاں ہوئیں۔ ۶۲ربیع الاول ۸۶۲۱ھ کو مارہرہ میں انتقال ہوا۔

            شمس العرفاں حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم رحمۃ اللہ علیہ:آپ حضرت ستھرے میاں کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی پیدائش ۳۲۲۱ھ میں ہوئی۔والد صاحب کے وصال کے بعد اپنے دونوں حقیقی بھائی شاہ آل رسول احمدی اور اولاد رسول کے ساتھ سجادہ غوثیہ پر جلوہ افروز ہوئے۔آپ وزیر والی اودھ کے یہاں نائب کے منصب پر تھے۔آپ کا نکاح سید سعادت علی کی بیٹی دیانت فاطمہ سے ہوا۔جن سے:شاہ نورالحسین،شاہ نور الحسن اور شاہ نور المصطفیٰ اور ایک بیٹی تھیں۔آپ کا وصال ۵ شعبان المعظم کو لکھنؤ میں ہوااور تدفین مارہرہ میں ہوئی۔

تفصیل کے لیے  پیام برکاتہ اکتوبر 2025 کا مطالعہ کریں

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383